اسلام آباد:(رپورٹ: بے نظیر مہدی رضوی)شیخ وقاص اکرم نے اپنی متنازع آڈیو لیک سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کی ایک اہم عہدیدار نے واٹس ایپ گروپ سے ان کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیک کیا، جس کے باعث حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا۔ پاکستان واچ سے خصوصی گفتگو میں وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آڈیو میں وہ کسی کی مخالفت نہیں کر رہے تھے بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں زمینی حقائق بیان کر رہے تھے۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق آڈیو میں وہ پارٹی کے اندر موجود افراد کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سردی کا موسم ہے اور ایسے حالات میں اڈیالہ جیل کے باہر دیے جانے والے دھرنے کے حوالے سے لوگوں کو پہلے سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ انتہائی مختصر نوٹس پر دور دراز علاقوں سے لوگوں کو متحرک کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے اڈیالہ کے آگے خان کے لیے دھرنا دیا گیا، جس پر وہ ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ اگر دھرنا اتنا اہم تھا تو تمام ایم پی ایز کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید انکشاف کیا کہ کے پی کے ہاؤس، اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ اعلیٰ، سہیل آفریدی، اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور شاہد خٹک سمیت کئی اہم شخصیات شریک تھیں، تاہم اس اجلاس میں اڈیالہ کے باہر دیے جانے والے دھرنے کے حوالے سے نہ کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا اور نہ ہی اس موضوع پر کوئی باضابطہ گفتگو ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آڈیو لیک کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا، جبکہ ان کی نیت صرف پارٹی قیادت اور کارکنان کو درپیش عملی مشکلات سے آگاہ کرنا تھی، نہ کہ کسی کی دل آزاری کرنا یا اختلاف کو ہوا دینا۔
آڈیو لیک کی کہانی، شیخ وقاص اکرم کی زبانی، پاکستان واچ سے خصوصی گفتگو






