۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کینیا کا سفر نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر نوٹ
کینیا کا سفر نامہ جرمنی میںمقیم پاکستان واچ کے کالم نگارسرور غزالی کی تحریرہے اس کالم میں انھوں نے کینیا کے سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔کالم کی طوالت کے باعث اس کو قسط وار شائع کیا جائے گا اس کالم میںایسٹ افریقن برطانوی کالونی،کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم،مسائی قوم کے نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر،نیروبی سے ممباسا کا سفر، کینیا ریلوے کی کہانی ،رشوت ستانی، ممبا سا کی کہانی ،1570 میں تعمیر ہونے والی مسجد المنذری کامشاہدہ ،کارورا جنگل کے موضوعات کو قلمبند کیا گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسٹ انڈیا کے طرز پر بنائی گئی ایسٹ افریقن برطانوی کالونی
کینیا کا سرکاری نام ریپبلک آف کینیا ہے۔ مشرقی افریقہ میں واقع یہ ملک انتہائی خوبصورت، پہاڑ، دریا جنگل، میدانی غیر آباد علاقے جہاں جانور بسیرا کرتے ہیں کے ساتھ ساتھ جنوب میں بحر ہند سے جا ملتا یہ ملک بے مثال خوبصورتی کا حامل ہے۔ اس کی اندازا” آبادی 53 ملین ہے اس کا شمار دنیا کے27 ویں مقبول ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور افریقہ کا سب سے مشہور ترین ملک ہے۔ مختلف قبائل جو یہاں آباد ہیں ان میں کیسمو، ناکرو اور ڈوریٹ کافی مشہور ہے اس کے جنوب میں تنزانیہ، شمال میں ایتھوپیا اور سوڈان مشرق میں صومالیہ اور جنوب مشرق میں بحر ہند واقع ہے۔ مشہور زمانہ جھیل وکٹوریا کے کچھ حصے کینیا میں ہیں۔ جو مغرب میں یوگا نڈا سے ملاتی ہے۔ کینیا کے باشندے انسان دوست اور وفادار و مخلص ہیں۔ یہاں 85 فیصد لوگ عیسائی، 10 فیصد لوگ مسلمان، ایک اشاریہ پانچ فیصد لوگ لامذہب اور اشاریہ سات فیصد لوگ روایتی مذہب کے ماننے والے ہیں۔
کینیا کے بڑے شہروں میں سب سے بڑا شہر اس کا دارالحکومت نیروبی ہے دوسرا بڑا شہر ممبا سا ہے جو بحر ہند کے کنارے واقع ہے یہاں ایک بڑی بندرگاہ بھی ہے اور ممبا سا جزیرہ بھی قریب ہی ہے۔
_کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم، نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر
مسائی قوم کے لوگ اپنے لمبے قد اور مخصوص دہہی طرز زندگی کے لیے مشہور ہیں یہ ایک قدیم افریقی باشندے ہیں جو جنوبی کینیا میں آباد ہیں۔ ان کا سرخ رنگ کا لباس ان کی شناخت ہے۔ جبکہ جسم کے حصوں پر مختلف رنگ لگاتے ہیں۔ اور قدیم زمانے سے افریقہ کے میدانی، مگر گھنی جھاڑیوں سے بھرے ہوئے علاقے جن میں مخصوص چھتریوں والے درخت بھی پائے جاتے ہیں اور اسی مناسبت سے اس میدانی علاقے کو مارا، یعنی نقطے دار علاقہ کہتے ہیں اور عرف عام میں یہ قوم بھی مسائی مارا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہاں پر بہنیایک والا دریا بھی مارا دریا کہلاتا ہے مسائی قبیلے کے لوگ ایک زمانے سے اس علاقے میں موجود ہیں اور یہاں دریائے نیل کے کنارے سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ اور یہاں کے قدرتی ماحول اور جانوروں اور پرندوں کے ساتھ قدرتی طرز زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ یہ علاقہ جس کے جنوب میں تنزانیہ واقع ہے یہاں پر بے شمار جانوروں جن میں ہاتھی، زرافہ، زیبرا، نیل گائے، ہرن، بارا سنگا، بھیڑ بکریاں اوربھینسے، گائے وغیرہ شامل ہیں اس میدانی گھاس پھوس جھاڑیوں اور چھتری نما درختوں کی کثرت سے موجودگی کو اپنی چراگاہ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ شیر، چیتے بلیک پینتھر وغیرہ جیسے درندے اس علاقے میں ان جانوروں کا شکار کرنے آتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دریائے مارا کا پانی تمام چرند، پرند اور درندوں کی پیاس بھی بجھاتا ہے۔ اور یہاں عملا” شیر و بکری ایک گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں۔ مسائی مارا کا یہ علاقہ مسائی قوم اور جانوروں کے جھنڈ، ریوڑ کے ریوڑ جو خوراک کی تلاش میں شمال سے جنوب کی طرف گزرتے ہوئے اس علاقے میں قیام اور پھر آگے بڑھتے ہوئے دریائے مارا کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں اس دریا کو عبور کرتے ہوئے مزید چراگاہ کی تلاش میں آگے بڑھتے ہوئے، تاک میں لگے، گھات ڈالے درندوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ ہر سال قدرت کا ایک انوکھا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس علاقے کو یونیسکو نے اسی قدرتی کھیل کی آماجگاہ کی وجہ سے ثقافتی ورثہ کے طور پر مختص کر دیا ہے۔ بلکہ ایک زمانے میں یہاں اس طرح کے ایک پارک کو تشکیل دینے کی وجہ بنا کر یہاں سے مسائی قوم کو بھی ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا نقصان یہ ہوا کہ مسائی قوم معدوم ہونے لگی اور اس کے تھوڑے سے افراد بچ رہے بعد میں اس قوم کو بھی اس علاقے کے ساتھ ساتھ محفوظ رکھنے کے لیے پارک کے لیے مختص کیے گئے علاقے انہیں واپس دیے گئے جس میں وہ اب بھی آباد ہیں تاہم ان کی آبادی دنیا کے دیگر خطوں کے قدیم باشندوں کی طرح یہاں بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ جانوروں کے ریوڑوں کی، جھنڈ کے جھنڈ کی صورت میں جو عظیم الشان ہجرت یہاں دیکھنے میں آتی ہے وہ بڑی عجیب و غریب ہے۔ کہتے ہیں کہ سال کے اوائل میں، اور جانوروں میں سب سے پہلے زیبرا کے ریوڑ اس ہجرت کا آغاز کرتے ہیں۔ گھاس پھوس کی کمی کی وجہ سے زیبرے جب خوراک نہیں پاتے تو وہ ایک مخصوص سمت چلنا شروع کر دیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے پیچھے دیگر جانور روں کا ریوڑ بھی چل پڑتا ہے۔ ان تمام جانوروں میں سب سے بڑا گروہ نیل گائے کا ہوتا ہے جو یہاں کے مخصوص جانور ہیں اور یہ جانور جس میں ہاتھی اور زرافے سبھی شامل ہوتے ہیں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہجرت پر مجبور طویل ہجرت کا منظر پیش کرتے ہوئے ایک ایسا قدرتی منظر سامنے آتا ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ جسے دیکھنے ساری دنیا سے لاکھوں سیاح یہاں اتے ہیں اور مختلف طریقے سے جن میں چھوٹے ہوائی جہازوں اور غباروں والی ٹوکریوں میں بیٹھ کر لوگ یہاں اس قدرتی عظیم الشان ہجرت کا معائنہ کرتے ہوئے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس ہجرت کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں جو اس ہجرت کا اہم حصہ ہیں۔ یہاں مادہ نیل گائے اسی ہجرت کے دوران بچے جنم دیتی ہیں ان کی ممکن حد تک پرورش اور حفاظت کرتی ہیں اور ایسے میں بہت سارے نو مولود بچے جنگلی درندوں شیر اور چیتے کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔ گویا قدرت نے انہیں یہاں اس لیے بھیجا ہوتا ہے کہ گھات لگائے ہوئے شیر چیتے بلیک پینتھر لیو پارڈ، پوما اور اس طرح کے درندوں کی غذا کا بندوبست ہو سکے۔ اور صرف یہی نہیں دریا مارا ایک ایسی قدرتی آماجگاہ ہے جس کے کچھ حصے آبی پودوں سے اس حد تک ڈھکے ہوتے ہیں کہ جن کے درمیان مگرمچھ خود کو پوشیدہ رکھ کر یہاں سے گزرنے والے جانوروں کے شکار کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور ان گزرتے جانوروں میں سے کچھ جانور ان کے ہاتھوں بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ لیکن اس عظیم الشان ہجرت میں اتنی کثیر تعداد میں، اتنے زیادہ جانور ہوتے ہیں کہ ان میں سے چند ایک ان گوشت خور جانوروں کا شکار بن بھی جائیں تو ان کی کمی کا کسی کو احساس نہیں ہوتا اور اس کے باوجود بہت زیادہ تعداد میں جانور یہاں سے گزر کر اپنی چراگاہ کو پہنچ جاتے ہیں۔ اسی آبی پودوں سے ڈھکے دریا کے حصوں پر پرندیجن میں بگلے، سارس، پپیہے، بطخیں کونج وغیرہ اپنی خوراک کی تلاش میں یہاں اترتی ہیں جو از خود ایک عظیم الشان ہجرت کا حصہ ہیں اور عجیب منظر پیش کرتی ہیں۔ ہجرت جو خوراک، افزائش نسل اور موسم سے بچاو کا ذریعہ ہے۔ یہاں اس ہجرت کے دوران مہیا ہونے والی خوراک کا انوکھا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ خوراک اور پانی کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ نر جانوروں میں مادہ کے حصول کی جدوجہد بھی۔ یہاں بے شمار کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانور جن میں چوہے اور اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں ان کی بھی بڑی کثرت میں تعداد موجود ہوتی ہے اور یوں دیگر جانوروں کو خوراک کا لالچ دے کر اسی ہجرت میں شامل کر دیتی ہے۔
بقا کی جنگ، نسل کی افزائش سب کچھ ہجرت میں ہی کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ کیسا راز ہے۔کون جانے۔
افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات تحریرسرور غزالی۔۔۔۔۔۔قسط ( 1 )






