افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات سرور غزالی۔۔۔۔۔۔آخری قسط

نیروبی سے ممباسا کا سفر
ممبا سا کی کہانی
کینیا کا دوسرا بڑا شہر ممباسا ہے۔ ہم لوگ 25 دسمبر کو ممباسا کی طرف چل پڑیتھے۔ بحر ہند کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے ممباسا قدیم زمانے سے ہی ایک تجارتی مرکز رہا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں سن 1300 سے 1513 تک کلوا سلطنت قائم تھی جسے ترکیوں نے 1586 میں فتح کرلیا۔ اور سن 1589 تک یہاں عثمانیہ سلطنت قائم رہی، پھر 1593 میں یہاں پرتگالی سلطنت قائم ہوئی جو 1698 تک قائم رہی 1698 میں عمانیوں نے پرتگالی افواج کو شکست دے کر ممباسا میں واقع قلعہ ء￿ عیسائی کو فتح کر لیا اور یوں ان کی یہاں حکومت قائم ہو گئی۔ جو 1698 سے 1728 تک جاری رہی مگر 1728 میں پرتگالی ایک بار پھر یہاں پر قابض ہو گئے اور انہوں نے عمانیوں کو نکال باہر کیا مگر اگلے سال ہی عمانی اس پر پھر قابض ہو گئے۔ ان کی حکومت 1729 سے 1824 تک قائم رہی بالآخر 1824 میں انگریز یہاں قابض ہو گئے اور 1826 تک ان کی حکومت قائم رہی جبکہ 1826 میں زنزیبار سلطنت نے ممبا سا کو اپنے قبضے میں لے لیا اور 1887 تک ان کی یہاں حکومت قائم رہی 1887 میں برطانوی راج دوبارہ واپس آگیا اور برطانوی مشرق افریقہ کینیا کے نام سے ان کی حکومت 1963 تک قائم رہی اور 1963 میں کینیا کو آزادی ملی۔ ممباسا میں دو حکمراں موانہ مکسی اور صحیح مویتا نے قدیم زمانے میں حکومت قائم تھی اور روایت کے مطابق یہ دونوں قدیم ممباسا کے والی ہیں۔ ان کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ بادشاہ یہاں پر 12 خاندان کے اس سلسلے سے تھے جنہیں تینشارہ طائفہ کہتے ہیں جو کے اس شہر کے اصلی باشندے ہیں۔ اور اسلامی سلطنت قائم ہونے سے پہلے انہی کی یہاں حکومت تھی۔ مشہور مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے ممباسا کاذکر سواہلی ساحل کا ذکر کے ساتھ اپنی سفرنامے میں یوں کیا ہے کہ یہاں شافعی مسلم آباد ہیں جو قابل بھروسہ اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔اور یہ کہ یہاں اس نے لکڑی سے بنی ایک مسجد دیکھی ہے۔ گو کہ وہ صرف ایک رات ہی ممباسہ میں رکا تھا۔
کینیا کے اسکولوں میں بچوں کو تاریخ کی کتابوں کے مطابق یہ بتایا جاتا ہے کہ ممباسا سن 900 سے قائم ہے۔ ممباسا میں ایک قدیم پتھر کی بنی مسجد بھی ہے۔ جس کا نام منارہ ہے۔ ممباسا کے ساحل پر قدیم زمانے میں تجارتی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے اور یہاں سے ہاتھی دانت، ناریل اور تل برآمد کی جاتی تھی۔ ممباسا سے سلطنت چھولا، جنوبی ہندوستان کی تامل سلطنت سے بھی تجارتی روابط کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک فارس سے بھی تجارتی تعلقات استوار تھے۔
جب واسکو ڈی گاما ممباسا آیا اور جب اس نے واپس جاکر یہاں کی دولت اور شان وشوکت کا ذکرکیا تو پرتگالی بادشاہ نے اس کے اگلے ہی سال ممباسا پر چڑھائی کردی اور اسیاپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ یقینا” اس نے خوب یہاں کی دولت پر لوٹ مار بھی کی ہوگی۔
کینیا ریلوے کی کہانی
برطانوی یوگینڈا ریلوے کی تعمیر سن 1896 تا سن 1901 کے مابین مشہور زمانہ “لاونیٹک ایکسپریس” جو کے درحقیقت وکٹوریا نامی جھیل کو ممباسہ سے ملانے کا، زمانہ کالونیت کا ایک بڑا پروجیکٹ تھا، یہ ایک مشکل ترین معرکہ تھا جس کو سر کرنے کے لیے خودسر انگریز اپنی اس وقت
کی دوسری برطانوی کالونی ہندوستان، سے لائے گئے مزدوروں کی مدد لی۔ ہندوستان سے لائے گئے مزدوروں کی نیروبی میں تعیناتی کا یہ ایک بہت اہم واقعہ تھا جس کے دور رس اثرات آنے والے وقتوں میں سامنے آیا۔ اور اسے اس وقت کینیا اور یوگنڈا ریلوے یا مشرقی افریقہ ریلوے اور شاید کینیا ریلوے کا نام دیا گیا جس کا مقصد تجارت اور برطانوی کالونی کی حفاظت تھا تاہم موجودہ جدید دور میں چائنا کی مدد سے سن 2017 میں ایک نئی ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جس سے برطانوی دور کے میٹر گیج کے برعکس سٹینڈرڈ گیج ایس جی ار کے لاحقے کے ساتھ اسے نئی ریلوے ایس جی آر کینیا ریلوے کا نام دیا گیا ہے۔
ریلوے لائن کی بنیاد دور کالونیت میں رکھی گئی اور اسے نیروبی تک تعمیر کیا گیا یہ واقعہ سن 1899 کا تھا جب کہ ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی افرادی قوت مزدوروں کو یہاں اس کام کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ ریلوے لائن کی تعمیر کا کام کچھ آسان نہ تھا اور یہاں کے موسم کی شدت بیماریوں کے حملے کے ساتھ ساتھ آدم خور شیر، ساو کے حملوں میں تقریبا 25 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ ایک عظیم الشان پروجیکٹ ضرور تھا مگر بے شمار انسانی جانوں
کی قربانی کے بعد۔
1891 میں ریل کے انتظامات چلانے کے سلسلے میں ہی ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان سے پنجابی سکھ افراد یہاں لائے گئے جنہیں پلیٹ فارموں پر بحیثیت قلی ملازمت کرنی تھی۔ یہ تمام لوگ اپنے بال بچے ملک میں چھوڑ کر یہاں تنہا ائے تھے۔ آنے والے وقت میں یہی اقلیت گروپ بے شمار افریقی ملکوں میں پھلتا پھولتا بھی رہا اور مقامی تعصب اور نفرت کا شکار بھی ہوا۔ ملک بدری اور فسادات جیسے سنگین جرائم کا شکار ہوا۔ اور یوگانڈا میں اس وقت کے صدر ایدی امین نے اسی ہندوستانی اقلیتی گروپس کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کوشش کی۔
1924 تا 1948 کے دوران اسے کینیا اور یوگانڈا ریلوے کاے نام دیا گیا۔ جبکہ سن 1948 سے 1978 کے مابین اس سے ایسٹ افریقن ریلوے کا نام دیا گیا۔ برطانوی قدیم زمانے کی میٹر گیج کو خیر باد کہہ کر 2017 میں اسٹینڈر گیج ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جو چین کی مدد سے تیار کی گئی ایک عظیم الشان ریلوے لائن ہے۔ اس وقت ممبا سا اور نیروبی کے مابین چلنے والی مدراکار ایکسپریس 609 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کرتی ہے اور بیشتر اوقات اپنی انتہائی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹے تک چلتی ہے اور یہ ایک خوبصورت آرام دہ ریل ہے جو دوران سفر مکمل ایئر کنڈیشن بھی ہے اور اس میں موجود ڈائننگ کار مسافروں کو خورد و نوش کی سہولیات مہیا کرتی ہے نہ صرف ڈائننگ کار کے اندر بلکہ لوگوں کی نشستوں تک عملہ تندہی سے سنیک و چائے پہنچاتا رہتا ہے۔ ممباسا سے نیروبی کے مابین یہ ٹرین صرف ایک سٹاپ پر رکتی ہے۔ تمام ریلوے اسٹیشن جن پر یہ ٹرین نہیں رکتی وہ بھی جدید سہولیات سے مرصع ہیں۔ نیروبی اور ممباسا کا اسٹیشن وسیع و عریض اور جدید سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات سے کسی ایئرپورٹ کا نقشہ پیش کرتا نظر آتا ہے جو نہ صرف بہت جدید سہولیات سے مرصع ہے بلکہ دیکھنے میں بھی ایک عظیم الشان خوبصورت عمارت ہے سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں سامان کی تین دفعہ سکریننگ کی جاتی ہے ایک مقام پر کتے، سونگھنے کے لیے سامنے لائے جاتے ہیں اور بالکل ایئرپورٹ کی طرح جسمانی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ ٹرین مقررہ وقت سے گو
کہ 20 منٹ بعد کھلی مگر راستے میں اس نے اپنے ہدف کو مکمل کیا اور بالکل وقت پر پانچ گھنٹے 30 منٹ میں منزل مقصود پر پہنچا دیا۔
ڈیزل سے چلنے والا سبک رفتار انجن منزل تک پر لے آیا۔
نیروبی سے ممباسا تک چلنے والی مدراکار ٹرین ایک نسبتا” تیز رفتار ریل تھی اور ہم لوگ اس سے پانچ گھنٹے دس منٹ میں ہی ممبا سا پہنچ گئے تھے۔ ہم نے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لیا تھا اور یہ سفر کافی آرامدہ تھا برلن میں ہی جب میں واپسی کا ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو مجھے اول تو کوئی ٹرین نہیں مل رہی تھی بعد میں جب میں نے اکنامی کلاس کی بکنگ تلاش کی تو پھر مجھے ایک ٹرین صبح آٹھ بجے والی مل گئی۔ میرے ذہن میں کچھ شکوک و شبہات تو تھے۔ اپنے پہلے سفر میں ہم نے اکنامی کلاس میں جا کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ اکنامی کلاس کیسا ہے۔ سنا یہی تھا کہ دونوں کی سہولیات تقریبا” ایک جیسی ہیں لہذا میں بے فکر ہو کر نیرو بی کی ٹرین پکڑنے اسٹیشن پہنچ گیا۔ اسٹیشن پر پھر وہی تلاشی، کتوں کے سونگھنے کا چکر، مشین میں سکریننگ اور جامع تلاشی کے مراحل سے گزر کر ہم اوپر ویٹنگ روم میں پہنچ گئے۔ نیروبی ممبا سا کے سفر کے دوران اپنے تجربے سے مجھے یہ پتہ چلا کہ، گو کہ یہ ایک طویل و عریض اسٹیشن، بہت بڑا سا پلیٹ فارم وغیرہ بنا دیا گیا ہے لیکن ریلوے کی سہولیات کو بہت زیادہ جدید نہیں کہا جا سکتا کیونکہ موجودہ دور میں بے شمار ملکوں میں ٹرینیں 250 تا 200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں۔ ان کے انجن برقی ہیں۔ ایسا میں نے ازبکستان، ترکی جرمنی، مشرقی یورپ جہاں نسبتا” کمزور معاشی نظام کے تحت کم ترقی ہوئی تھی وہاں بھی اس وقت برقی سہولیات سے مرصع انجن موجود ہیں اور رفتار لگ بھگ 200 کلومیٹر فی گھنٹے عام سی بات ہے۔ پولینڈ، چیک ریپبلک وغیرہ میں ایسا ہی ہے۔ اس تناظر میں کینیا کی ریلوے کو، گرچہ کہ انہوں نے بہت عظیم الشان ریلوے اسٹیشن اور پلیٹ فارم بنا لیے ہیں، اتنا زیادہ ترقی یافتہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔  ایک سو دس کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کچھ زیادہ متاثر کن نہیں۔ ایک اور چیز جو مجھے زیادہ کھٹکی وہ یہ کہ یہ سارا گھڑاک انسانوں کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے کے لیے ہی پھیلایا گیا ہے۔ عظیم الشان ریلوے اسٹیشن ویٹنگ روم بنا ہے ضرور، لیکن اس سے تک پہنچنے اور اس سے نکلنے تک آپ کو جن مراحل سے گزارا جاتا ہے اسے میں صرف انسانوں کو کنٹرول کرنا، انہیں قابو کرنا ہی کہوں گا۔ جس میں چین کی مدد بھی شامل رہی ہے۔ 
 جیسا کہ میں نے اوپر لکھا باوجود کوشش کے مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا تھا اور میں اکنامی کلاس میں جا کر بیٹھ گیا تھا اور شروع میں میں خوش بھی ہوا کہ وہاں پر کافی جگہ تھی لوگ بیٹھ سکتے تھے لیکن ہوا یہ کہ ٹرین چلنے سے قبل رفتہ رفتہ یہ بوگی اس طرح بھر گئی کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور یہاں بھی وہی پاکستان کی ریلوے کیکسی زمانے میں، تھرڈ کلاس کا منظر سامنے آنے لگا۔ میرے ذہن میں پہلے سے یہ بات تھی کہ چلو ٹکٹ جو بھی مل رہا ہے وہ میں خرید لوں واپس ہونا ضروری تھا ہماری آگے کی فلائٹ تھی۔ تو میں شاید ٹرین میں ٹی ٹی سے یہ بات کروں گا کہ وہ مجھے اگر کوئی سیٹ فرسٹ کلاس میں دے دے اور اضافی قیمت لے لے۔ لیکن صورتحال یہ تھی کہ پوری ٹرین میں 14 بوگی تھی۔ ٹرین فرسٹ کلاس میں فی بوگی 72 افراد اور سیکنڈ کلاس میں شاید 144 افراد گائے بکریوں کی طرح ٹھوس دیے گئے تھے۔ خیر جب یہ اعلان ہوا کہ ڈائننگ کار فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے کھول دیا گیا ہے تو میں نے سوچا کہ اب یہ کمپارٹمنٹ چھوڑنے کا وقت آچکا ہے۔ میں ایک ریلوے انجینئر کا بیٹا ہوں جس کی ساری زندگی ریل کے ڈبوں میں کھیلتے کودتے گزری ہے بھلا میں کیوں کر ایسے بھیڑ بھاڑ سے ڈبے میں خاموش بیٹھ جاتا۔ میں نے بیگم سے کہا کہ چلو ہم لوگ ڈائننگ کار کی طرف چلتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ڈائننگ کار میں صرف فرسٹ کلاس کے مسافروں کو اجازت ہے کہ وہ وہاں بیٹھ سکتے ہیں اور سیکنڈ کلاس والوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن نزدیک ایسی پابندیاں نہ صرف غیر انسانی ہیں بلکہ استحصالی اور ایسی کسی قد غن و پابندی کو میں ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ چنانچہ میں اور بیگم ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے تک اور دوسرے سے تیسرے یعنی بوگی نمبر 14 سے بوگی نمبر ایک تک، راستے میں حائل تمام دشواریاں جن میں وہ ٹرالیاں جو مسافروں کو کھانے پہنچا رہی تھیں، عبور کرتے، پھلانگتے آگے بڑھتے رہے،  راستے میں مجھے کیٹرنگ کے لوگوں نے روکا انہیں میں نے کہا کہ میں ٹی ٹی سے بات کرنے جا رہا ہوں پھر ایک ٹی ٹی نے روکا میں نے اس کو کہا کہ مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ڈائننگ کار کے استعمال کے حق سے بھی محروم کر دیا جاؤں میں صرف ڈائننگ کار میں جانا چاہتا ہوں کھانا کھا کر واپس آجاؤں گا پہلے ٹی ٹی نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ ایک ڈیل کر لیں مجھے اس ڈیل کا مطلب خوب اچھی طرح پتہ ہے چونکہ ایسی ڈیلنگ پاکستان ریلوے میں بھی بہت ہوا کرتی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں