ای چالان سسٹم کے فیل ہونے پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال

٭اندرونِ سندھ اور دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ای چالان آخر کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے؟
٭سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ای چالان اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ یا یہ قانون سے بالاتر ہیں؟
٭کیا وجہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری باقاعدہ ٹیکس دیتا ہے، مگر پھر بھی اسے چوکیاں، کاغذی کارروائیاں اور تذلیل جھیلنا پڑتی ہے؟
٭اگر حقیقت یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں، تو باقی نوے فیصد کے خلاف ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟
٭رکشے اور چنچی بغیر لائسنس، بغیر فٹنس، بغیر نمبر پلیٹ آزاد کیوں ہیں؟ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟
٭کراچی کے شہریوں کو تھیلوں میں بھر بھر کر چالان دیے جاتے ہیں، مگر ہوٹر لگانے والے، کالے شیشوں والی گاڑیاں اور پروٹوکول کلچر کیوں آزاد ہیں؟
٭کیا قانون صرف عام شہری کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے نہیں؟
٭اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے
٭اگر شہریوں پر اتنی سختی ہے تو کیا حکومت ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ رکھتی ہے؟
٭آخر عام آدمی کس سے سوال کرے جب قانون بھی طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے؟

پاکستان واچ رپورٹ
ریاست کی رِٹ یا شہریوں کی آزمائش؟
پاکستان میں عام شہری آج خود کو ایک ایسے دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں قانون کی موجودگی تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، مگر انصاف کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر شہری مراکز میں، ٹریفک قوانین، ٹیکس نظام اور انتظامی رکاوٹیں ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری جیسے قومی سطح کے رہنما سے عوام کے سوالات محض شکایات نہیں بلکہ ایک اجتماعی پکار ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے۔
تنخواہ دار اور کاروباری طبقے پر ہی بوجھ کیوں ؟
تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کا وہ ستون ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی طبقہ چوکیاں، چالان، فائلوں اور دفتری چکروں میں سب سے زیادہ رْلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی نظام کو سہارا دے رہا ہے، اسے مزید کیوں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ٹیکس دینا جرم بن چکا ہے؟
چوکیاں اور تذلیل: قانون کا نفاذ یا طاقت کا مظاہرہ؟
شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چوکیاں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت بن چکی ہیں۔ بار بار روکا جانا، کاغذات کی جانچ کے نام پر بدتمیزی اور غیر ضروری تاخیر عام ہے۔ اگر مقصد سکیورٹی ہے تو اس کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ اور اگر مقصد محض وصولی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
اندرونِ سندھ و دیگر شہروں کی نمبر پلیٹیں: چالان کہاں جاتے ہیں؟
ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اندرونِ سندھ یا ملک کے دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے چالان آخر کس کھاتے میں جمع ہوتے ہیں؟ شہریوں کو شفافیت نظر نہیں آتی۔ اگر یہ رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہیں تو اس کی عوامی رپورٹ کیوں نہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
سرکاری نمبر پلیٹ: قانون سے بالاتر یا بااختیار؟
سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اکثر قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے چالان ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ اور اگر نہیں ہوتے تو کیا سرکاری عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس ہے؟ ریاست کی ساکھ اسی سوال کے جواب میں مضمر ہے۔
صرف دس فیصد قانون پر عمل کیوں؟
عام تاثر یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو باقی نوے فیصد کے لیے قانون کہاں ہے؟ کیا قانون پر عمل درآمد شہری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ریاست کا بنیادی فریضہ یکساں نفاذِ قانون ہے، ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
رکشے اور چنچی: مکمل آزادی، مکمل بے قاعدگی
بغیر لائسنس، بغیر فٹنس اور بغیر نمبر پلیٹ رکشے اور چنچی سڑکوں پر آزادانہ چلتی ہیں۔ حادثات، ٹریفک جام اور آلودگی میں ان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یا یہ طبقہ محض اس لیے نظرانداز ہے کہ اس سے باقاعدہ وصولی مشکل ہے؟
کراچی کے شہری: تھیلوں میں بھرے چالان
کراچی کے شہریوں کو آئے دن بھاری چالانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی غلطی پر جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیاں عام ہیں۔ دوسری طرف ہوٹر لگانے والی گاڑیاں، کالے شیشے اور غیر قانونی پروٹوکول بے روک ٹوک جاری ہے۔ یہ دوہرا معیار شہریوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
پروٹوکول کلچر: قانون کس کے لیے؟
ہوٹر، اسکارٹ اور وی آئی پی رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین سب کو برابر نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو یہ امتیاز کیوں؟

کراچی یا علاقہ غیر
اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے کہیں سختی، کہیں نرمی۔ یہ صورتحال ریاستی رِٹ کے لیے خطرناک ہے۔ قانون اگر ہر جگہ یکساں نہ ہو تو شہریوں میں بغاوت نہیں تو بددلی ضرور جنم لیتی ہے۔

اصلاحات کا سوال: محض وعدے یا عملی منصوبہ؟

عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ ہے؟ یا ہر مسئلہ کی طرح یہ بھی محض تقاریر اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا؟ اصلاحات کے بغیر نفاذِ قانون محض دباؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

عام آدمی کس سے سوال کرے؟

جب قانون طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو عام آدمی کے پاس سوال کرنے کے لیے کون سا دروازہ رہ جاتا ہے؟ عدالتیں مہنگی، دفاتر سست اور نمائندے خاموش یہ خلا خطرناک ہے۔ جمہوریت میں سوال کرنا حق ہے، اور اسی حق کے تحت یہ سوالات بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام قیادت کے سامنے رکھے گئے ہیں
یہ مضمون الزام نہیں بلکہ احتساب کا مطالبہ ہے۔ عوام قانون سے بھاگنا نہیں چاہتے، وہ صرف برابری چاہتے ہیں۔ اگربلاول بھٹو ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور یکساں نفاذِ قانون یقینی بنائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان صرف عوام نہیں، ریاست کو بھی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں