بزم ادب برلن کی جانب سے برمنگھم سے تشریف لائے شاعر فاروق نسیم کے اعزازمیں مشاعرہ اور عصرانہ ..رپورٹ سرور غزالی

برلن کا موسم پھر سے گلابی رضائی اوڑھے سردی کی جانب گامزن تھا، بزم ادب برلن نے ایک شعری نشست سجاکر ایک بار پھر سے جذبوں کی گرماہٹ کا احساس دیا۔ یہ شعری نشست برمنگھم انگلینڈ سے آئے مشہور شاعر فاروق نسیم کی برلن آمد پر اْن کے اعزازمیں ہی برپا کی گئی تھی۔ برلن کے علاقے ویڈنگ کے خوبصورت ریستوران ‘‘خان بابا’’ میں یہ شعری نشست علی حیدر وفا صدر بزم ادب برلن کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ جس میں برلن کے مقامی شعراء کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو رونق بخشی۔ محفل کے مہمان خصوصی فاروق نسیم تھے۔ پروگرام کی نظامت ناچیز کے سپرد تھی۔
آداب مشاعرہ کے پیش نظر، نظامت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے مابدولت سرور غزالی نے اپنی ایک نظم بعنوان خزاں رسیدہ اور ایک غزل پیش کی۔ جس کے بعد عاصم بشیر کو دعوت کلام دیا گیا۔ شومئی قسمت، عاصم بشیر کا موبائل فون فوری طور پر نہیںکھل سکا اور وہ اپنا کلام اپنے موبائل فون سے پڑھ کر نہ سنا سکے۔ موقعے کی نزاکت کو بھانتے ہوئے نظامت کار نے انور ظہیر رہبر کو اسٹیج پر بلالیا۔ انور ظہیر رہبر برلن کے معتبر شاعر ہیں اور انہوں نے اپنے مخصوص خوبصورت انداز اپنا کلام ایک نظم اور ایک غزل کی صورت میں پیش کیا۔ جس کے بعد عاصم بشیر نے اپنا تازہ ترین کلام پیش کیا۔ عاصم بشیر کے بعد باری تھی برلن کی مشہور ومعروف شاعرہ عشرت معین سیما کی۔ جنہوں اپنی خوبصورت آواز میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ایک نعتیہ کلام ترنم سے پیش کیا اور پھر ایک غزل سنائی۔ اب باری تھی مہمان خصوصی فاروق نسیم کی۔ فاروق نسیم پہلے کبھی برلن ہی میں مقیم تھے اور برلن کی ٹیکنکل یونیورسٹی میں ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ فاروق نسیم ایک صاحب طرز، پختہ کار شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کا چرچا ان کی طالب علمی کے زمانے سے ہورہا ہے۔ انہوں نے پہلے دو قطعے سنائے اور ایک نظم پیش کی۔ سب سے آخر میں صدر مشاعرہ علی حیدر وفا نے اپنا کلام پیش کیا۔ مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے عبدالرزاق صاحب نے مائک سنبھالا۔ شعری نشست کے بعد سرور غزالی نے مہمانوں کو دعوت کام و دہن دی۔ عصرانہ سے قبل برلن کے ایک اہم سماجی شخصیت ظہور احمدنے شہر کی ادبی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا بعدازاںلذیذکھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ شاعری نے جس طرح روح کو تروتازہ کیا اسی طرح خان بابا کے لذیذ، ذائقے دار کھانے نے بھی لطف کام و دہن بخشا اور یوں یہ محفل ایک بہت ہی کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچی۔
اس محفل میں جو شخصیات موجود تھیں ان میں مہمان خصوصی فاروق نسیم ، سماجی مذہبی رہنما محمد عبدالرزاق ، سماجی شخصیت ظہور احمد ،
شاہد صاحب، عاصم بشیر، سرور غزالی،عشرت معین سیما،علی حیدر وفا، عارف سلیمی
چند شعراء کا کلام جو بے حد سراہے گیا
برمنگھم سے فاروق نسیم

بجلی گرا کے سارے نشیمن جلا دیے
جاؤں کہاں جو سر پہ میرے آسمان نہ ہو
احباب سارے آج صف دشمناں میں ہیں
سب کو وہم جیسے میرا پاسبان نہ ہو
عشرت معین سیما
جب آنکھ سلامت نہ دامان سلامت
تب آتش و انگار کے ارمان سلامت
اس ماہ مکرم نے دکھائے ہیں وہ منظر
انسان مقید ہیں شیطان سلامت
انور ظہیر رہبر
نظم محبت کے یہاں کی کے چند اشعار
جب جنگ تھک جائے گی
اور بارود کی بو
ہوا کے دامن سے اترنے لگی
تب بچہ ملبے پہ بیٹھا
پتھر سے سورج بنائے گا
سرور غزالی کی نظم
آو جنگ کریں۔ سے اقتباس
ہم نے بنائے ہیں کھلونے کچھ
دلچسپ اور مہلک بہت
بے آواز
شور مچاتے نہیں
جسے کوئی دور بیٹھا
ایک روبوٹ فقط
ایک بٹن دبا کر
رات کی تاریکی میں
سر سبز وادیوں میں
انسانوں کی بستیوں میں
شعلے اگانے بھیج دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں