بلوچستان کے نوجوان تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں،علما کرام

اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان کے جیدعلماءنےبلوچستان میں جاری تشدد اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔اسلام میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے۔ عام شہریوں، مزدوروں، مسافروں یا سکیورٹی اہلکاروں کا قتل حرام ہے اور یہ فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ دہشت گردی، مسلح بغاوت اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، چاہے اس کے پیچھے کوئی بھی سیاسی یا نسلی دعویٰ کیوں نہ ہو۔اسلام کسی فرد یا گروہ کو جہاد کے اعلان یا دین کے نام پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ اس طرح کے اقدامات اسلامی تعلیمات کی کھلی تحریف ہیں۔ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو انصاف، ترقی اور باوقار زندگی کے حوالے سے حقیقی مسائل درپیش ہیں، مگر اسلام ان مسائل کے حل کے لیے پرامن، قانونی اور اخلاقی راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ ایسا تشدد جو مزید تباہی اور عدم استحکام کو جنم دے۔ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عسکریت پسندی کو مسترد کریں اور تعلیم، صبر اور مثبت جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔ ہم ریاست سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انصاف، انسانی وقار اور مکالمے کے ذریعے عوامی مسائل کا حل یقینی بنائے۔اسلام دہشت گردی، ظلم اور ناانصافی تینوں کو مسترد کرتا ہے۔ بلوچستان کا مستقبل امن، مفاہمت اور انصاف میں ہےتشدد میں نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستہ دکھائے اور ہمارے وطن کو فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں