یورپی ممالک کو ہنرمند نوجوانوں کی تلاش
جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو
بھارت نے ملازمتیں ہتھیانے کی تیاری کرلی،پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان واچ رپورٹ
دنیا اس وقت ایک خاموش مگر انتہائی اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک، خاص طور پر جرمنی، اپنی معیشت کو چلانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ فیکٹریاں ہوں، اسپتال ہوں یا آئی ٹی کمپنیاں ہر شعبہ افراد کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے دنیا کے کئی ممالک نے موقع میں بدل دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سنہری موقع کو پوری طرح سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جرمنی میں اس وقت لاکھوں ملازمتیں خالی ہیں۔ بڑھتی عمر کی آبادی اور کم ہوتی لیبر فورس نے جرمن معیشت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بیرونی ہنر مند افراد ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جرمن حکومت نے امیگریشن قوانین کو نرم کیا ہے، “اسکلڈ ورکرز” کے لیے راستے کھول دیے ہیں، حتیٰ کہ “چانس کارڈ” جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے ہنر مند افراد وہاں آ کر کام کر سکیں۔ یہ کوئی معمولی موقع نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی موقع ہے جو شاید بار بار نہ آئے۔
دوسری جانب بھارت نے اس موقع کو فوراً بھانپ لیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنے نوجوانوں کو جرمن زبان سکھانے پر سرمایہ کاری کی بلکہ اس نے اپنی یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل اداروں اور نجی شعبے کو بھی اس مقصد کے لیے متحرک کیا۔ بھارتی حکومت نے جرمنی کے ساتھ باضابطہ معاہدے کیے، اپنی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا اور نتیجتاً آج بھارتی نوجوان بڑی تعداد میں جرمنی میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بھارت مسلسل زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے۔
اب سوال پھر وہی ہے: پاکستان کیوں پیچھے ہے؟
کیا ہمارے پاس صلاحیت کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔
کیا ہمارے نوجوان عالمی معیار پر پورا نہیں اتر سکتے؟ بالکل اتر سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اس موقع کو قومی ترجیح نہیں بنایا۔
پاکستان کے پاس ایک بہت بڑی طاقت موجود ہے نوجوان آبادی۔ اگر اس طاقت کو صحیح سمت دے دی جائے تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کر سکتی ہے۔ جرمنی جیسے ملک میں پاکستانیوں کی موجودگی پہلے سے ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ راستہ موجود ہے، صرف اس راستے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے گلوبل کمپیٹیشن۔ آج صرف بھارت ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ ممالک اپنی افرادی قوت کو منظم انداز میں یورپ بھیج رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس مقابلے میں حصہ نہ لیا تو ہم
ایک بار پھر ایک بڑے موقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ پاکستان ایک جامع اور جارحانہ حکمت عملی اپنائے۔
سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ جرمنی کے ساتھ فوری طور پر اسٹریٹجک لیبر پارٹنرشپ قائم کرے۔ اس کے تحت مخصوص شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہیلتھ کیئر سیکٹر (نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف)، آئی ٹی، انجینئرنگ اور ہنر مند مزدوری کے شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستانی نوجوان بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
دوسرا، پاکستان کو اپنے تعلیمی اور ٹریننگ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ قابلِ استعمال ہنر (Employable Skills) دینے ہوں گے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
تیسرا، جرمن زبان کو قومی سطح پر فروغ دینا ہوگا۔ اگر چین کے لیے چینی زبان سیکھی جا سکتی ہے اور خلیجی ممالک کے لیے عربی، تو جرمنی کے لیے جرمن زبان کیوں نہیں؟ اس کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
چوتھا، اوورسیز ایمپلائمنٹ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہوگا۔ ایک ایسا پورٹل ہونا چاہیے جہاں ہر نوجوان آسانی سے رجسٹر ہو سکے، نوکری تلاش کر سکے اور محفوظ طریقے سے بیرون ملک جا سکے۔
پانچواں اور نہایت اہم پہلو ہے ڈائسپورا انگیجمنٹ۔ جرمنی میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو فعال بنایا جائے تاکہ وہ نئے آنے والوں کی رہنمائی کر سکے۔ یہ کمیونٹی پاکستان کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو پاکستان کے لیے امکانات بے حد روشن ہیں۔ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہو سکتا ہے۔
یہ صرف معیشت کی بات نہیں، یہ مستقبل کی بات ہے۔
تصور کریں ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان بے روزگاری سے مایوس نہ ہوں بلکہ عالمی مواقع سے جڑے ہوں، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں، جہاں دنیا پاکستانی ہنر کو تسلیم کرے یہ سب ممکن ہے، اور اس کی کنجی جرمنی جیسے مواقع میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں، یہ وقت فیصلے کا ہے۔
دنیا آگے بڑھ رہی ہے،
مواقع دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں،
جرمنی ہاتھ بڑھا رہا ہے
اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس ہاتھ کو تھامیں گے یا ایک بار پھر موقع گنوا دیں گے۔
یہ صرف حکومت کا امتحان نہیں، بلکہ ایک قومی امتحان ہے۔
اگر ہم نے آج درست فیصلہ کر لیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے ایک موقع کو تاریخ میں بدل دیا۔
جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو…پاکستان واچ رپورٹ
