دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کی سمت تیزی سے بدل رہی ہے اور طاقت کے توازن میں نئی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش بڑھتی جا رہی تھی، مگر اب حالات اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں صرف کشیدگی نہیں بلکہ حقیقی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی عالمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ جنگ ہمیشہ کشیدگی کے بعد آتی ہے، لیکن جب جنگ شروع ہو جائے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہی ہے، مگر حالیہ جنگی صورتحال نے اس خطے کو ایک بار پھر شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان پرانے تنازعات اب کھلے تصادم کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ امریکہ کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کے شعلے صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی جانوں، معیشتوں اور پورے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حملوں، جوابی کارروائیوں اور عسکری کشیدگی نے لاکھوں لوگوں کو غیر یقینی مستقبل سے دوچار کر دیا ہے اور پورے خطے میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
جنگ کے اثرات کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ جب شہر کھنڈر بن جاتے ہیں، معیشتیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک عالمی انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی بھی اس صورتحال سے متاثر ہوتی ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز ہے۔ جیسے ہی جنگی صورتحال شدت اختیار کرتی ہے، عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کے اثرات دور دراز ممالک تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی دفاعی تعاون ایک طویل عرصے سے قائم ہے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی علاقائی پالیسیوں اور دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے خود کو ایک اہم طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب ان قوتوں کے درمیان براہ راست تصادم یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں بہت سے ممالک کے لیے خارجہ پالیسی کے فیصلے انتہائی حساس ہو جاتے ہیں۔ کچھ ممالک واضح طور پر کسی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض ممالک ایسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جو توازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو عالمی سیاست کے پیچیدہ ماحول میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ علاقائی اور عالمی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے ایک خاص اہمیت فراہم کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا قدرتی مرکز بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ جنگ اور تصادم کے ماحول میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے قریبی روابط ہیں۔ دوسری طرف پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی متوازن انداز میں برقرار رکھتا ہے۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مختلف عالمی اور علاقائی قوتوں کے ساتھ مثبت روابط قائم رکھ سکے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی ابھرتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ جب بھی کسی خطے میں طویل جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں سیاسی اتحاد، معاشی ترجیحات اور سفارتی تعلقات بھی بدل جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال بھی اسی طرح کے اثرات پیدا کر رہی ہے۔ بعض ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں جبکہ عالمی طاقتیں خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیاں ترتیب دے رہی ہیں۔
ان تمام تبدیلیوں کے درمیان پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور دانشمندی کو برقرار رکھے۔ عالمی سیاست کے اس غیر یقینی ماحول میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو جذبات کے بجائے حکمت اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل علاقائی حالات کے باوجود اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔
دنیا اس وقت جس جنگی اور سیاسی ہلچل سے گزر رہی ہے اس میں یہ بات پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ، تعاون اور سفارت کاری کو فروغ دیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسی اصول کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگی صورتحال نے دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ تباہی اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو توازن، اعتدال اور امن کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر عالمی برادری دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے تو موجودہ بحران کو ایک بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کو طاقت کے بجائے عقل اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے اور یہی حکمت عملی مستقبل میں بھی پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
جنگ کے سائے میں عالمی سیاست اور پاکستان کی متوازن پالیسی…شیخ راشد عالم
