
تحریر: بےنظیر مہدی رضوی
داعش( ISIS) کی بنیاد 1999 میں ابو مصعب الزرقاوی نے جماعت التوحید والجہاد کے نام سے رکھی۔ بعد ازاں اس گروہ نے القاعدہ سے وابستگی اختیار کی اور عراق جنگ کے دوران اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ 2013 میں اس نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر کے خود کو اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام (ISIS) قرار دیا اور جون 2014 میں موصل پر قبضے کے بعد ابو بکر البغدادی کی قیادت میں “خلافت” کے قیام کا اعلان کیا۔
شام کی خانہ جنگی (2011) نے تنظیم کو سرحد پار اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا۔ 2014 سے 2017 کے درمیان داعش نے عراق اور شام کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کیا، تاہم بعد میں عالمی اتحاد اور مقامی افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں اس کی علاقائی عملداری ختم کر دی گئی۔ اس کے باوجود تنظیم مختلف ممالک میں اپنی شاخوں کے ذریعے سرگرم رہی۔
داعش کے پھیلاؤ کے دوران اس کے زیر استعمال اسلحے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئیں۔ تحقیقی ادارے Conflict Armament Research (CAR) کے مطابق عراق اور شام میں استعمال ہونے والے اسلحے کا ایک حصہ یورپی یونین میں تیار شدہ تھا۔ اسی طرح متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ داعش نے عراقی اور شامی فوجی ذخائر سے قبضے میں لیے گئے امریکی ساختہ M-16 رائفلیں، گولہ بارود اور Humvee گاڑیاں استعمال کیں۔ افغانستان میں بھی امریکی انخلاء کے بعد چھوڑے گئے اسلحے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر کا کردار ہو سکتا ہے، اگرچہ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان میں داعش کی موجودگی کے ابتدائی آثار 2014 میں سامنے آئے جب بعض شہروں میں تنظیم کے حق میں گرافیٹی اور لٹریچر دکھائی دیا۔ جنوری 2015 میں داعش نے افغانستان اور پاکستان کے لیے اپنی علاقائی شاخ داعش خراسان (ISIS-K) کے قیام کا اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں اس سے منسلک عناصر کی سرگرمیاں زیادہ واضح ہوئیں۔
تنظیم نے نظریاتی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے میڈیا اور اشاعتوں کا بھی سہارا لیا۔ اپریل 2021 میں اردو زبان میں “یلغار” نامی میگزین منظر عام پر آیا، جبکہ انگریزی میں “Voice of Khurasan” اور پشتو میں دیگر اشاعتیں بھی جاری کی گئیں۔ ان رسائل میں پاکستان افغانستان اور دیگر علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا ذکر شامل تھا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں داعش خراسان سے منسلک بعض اہم رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں جن میں سلطان عزیز اعظم، ابو یاسر الترکی اور محمد شریف اللہ (جعفر) جیسے نام شامل ہیں۔ بعض افراد کو بین الاقوامی سطح پر بھی مطلوب قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکہ کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پاکستان میں نمایاں حملے
پاکستان میں داعش:
خراسان نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی یا اس سے منسوب کی گئی۔ ان میں 2016 میں خضدار (شاہ نورانی درگاہ) پر حملہ 16 فروری 2017 کو سیہون شریف میں درگاہ لعل شہباز قلندر پر خودکش دھماکہ جس میں 90 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی امام بارگاہ خدیجہ الکبری میں خودکش حملہ شامل ہیں۔ جس میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
اگرچہ 2019 تک عراق اور شام میں داعش کی علاقائی خلافت ختم کر دی گئی۔ تاہم تنظیم مختلف خطوں میں اپنی شاخوں اور نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق شدت پسند نظریات علاقائی عدم استحکام اور طاقت کے خلا ایسے عوامل ہیں جو اس قسم کی تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔






