دہشت گردوں کا اصل ہتھیار!!


تحریر: بےنظیر مہدی رضوی
بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیاں ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جدید دور کی دہشت گردی صرف بندوق اور بارود تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک ایسی ہمہ جہت جنگ بن چکی ہے جس کا ہدف نہ صرف ریاستی ادارے اور امنِ عامہ ہیں بلکہ وہ معصوم ذہن بھی ہیں جو خوف، مایوسی اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ یرغمال بنا لیے جاتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں—جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی شامل ہیں—میں ہونے والی مربوط دہشت گردانہ کارروائیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ حملے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے۔ ان کا مقصد مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا، ترقیاتی عمل کو نقصان پہنچانا اور ریاستی رِٹ کو کمزور ظاہر کرنا تھا۔ گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کی شہادت اس تلخ حقیقت کی علامت ہے کہ دہشت گردی میں شہری و عسکری کی تمیز مٹ چکی ہے۔
ان حالات میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوری اور مؤثر ردعمل قابلِ ذکر رہا۔ طویل اور شدید کلیئرنس آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، تاہم اس جدوجہد میں وطن کے پندرہ بہادر سپوت شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ امن کی قیمت صرف بیانات سے نہیں بلکہ جانوں کے نذرانوں سے ادا کی جاتی ہے۔
گزشتہ سال مارچ میں پیش آنے والا جعفر ایکسپریس کا واقعہ اس بدلتی ہوئی دہشت گردی کی نوعیت کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک عوامی ٹرین کو نشانہ بنانا اور مسافروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا دراصل ایک نفسیاتی حملہ تھا، جس کا مقصد ریاست کی صلاحیت اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا تھا۔ اگرچہ اس بحران پر قابو پا لیا گیا، مگر اس نے واضح کر دیا کہ دہشت گرد اب علامتی اور نفسیاتی اہداف کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
بلوچستان میں جاری تشدد کو صرف داخلی مسئلہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ خطے میں جاری پراکسی وار، جس میں بیرونی عناصر بالواسطہ طور پر عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، ایک تسلیم شدہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ صرف مسلح گروہوں کے ذریعے نہیں لڑی جا رہی بلکہ اطلاعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور منفی بیانیوں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ یہ نوجوانوں اور معصوم ذہنوں کو نشانہ بناتی ہے۔ محرومی، ناانصافی اور احساسِ بیگانگی کے بیانیے کو استعمال کر کے نوجوانوں کو یا تو براہِ راست تشدد کا حصہ بنایا جاتا ہے یا سہولت کاری، معلوماتی مدد اور خاموش حمایت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ جب ذہن مسخ ہو جائے تو ہتھیار اٹھانا محض اگلا قدم رہ جاتا ہے۔
یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کا ناسور مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ عسکری کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب تک فکری، تعلیمی اور معلوماتی محاذ پر اس کا مؤثر توڑ نہیں کیا جاتا، پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دراصل ذہنوں کی جنگ ہے، جہاں سچ، شعور اور قومی ہم آہنگی ہی اصل ہتھیار ہیں۔
آج کی دنیا میں کسی بھی ریاست کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو درست معلومات، اعتماد اور امید فراہم کرے۔ ذمہ دار میڈیا، مضبوط قومی بیانیہ اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی ہی وہ عوامل ہیں جو اس جنگ کا فیصلہ کن رخ متعین کر سکتے ہیں۔ جب معصوم ذہن محفوظ ہوں گے، تب ہی بندوقیں خاموش ہوں گی، اور بلوچستان سمیت پورا خطہ حقیقی امن اور استحکام کی جانب بڑھ سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں