سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی موثر حکمت عملی…شیخ راشدعالم

پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔ یہ محض چند واقعات یا وقتی حملوں کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور بیرونی سرزمین سے چلنے والی کارروائیوں کا جال ہے جس کا مقصد پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کو متاثر کرنا ہے۔ بالخصوص مغربی سرحد پر پیدا ہونے والی صورتِ حال نے ریاستی اداروں کو مجبور کیا کہ وہ دفاعی حکمتِ عملی کو ازسرِنو مرتب کریں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کریں۔
گزشتہ چند برسوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا، اس کے تانے بانے سرحد پار موجود ٹھکانوں سے ملتے رہے۔ ان حملوں میں نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ معصوم شہری بھی نشانہ بنے۔ پاکستان نے ابتدا میں سفارتی ذرائع کو ترجیح دی، بارہا افغان عبوری حکومت کو قابلِ تصدیق انٹیلی جنس شیئر کی، شواہد فراہم کیے اور مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ تاہم جب ان شکایات کا ازالہ نہ ہوا اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بدستور فعال رہیں تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا۔
بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جب کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہو اور وہاں کی حکومت ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے، تو متاثرہ ریاست کے پاس محدود اور ہدفی کارروائی کا اختیار موجود ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائیاں اسی اصول کے تحت تھیں، جن کا مقصد کسی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو غیر مؤثر بنانا تھا۔
پاکستانی سکیورٹی اداروں نے حالیہ عرصے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کارروائیوں کی کامیابی کا انحصار جدید ٹیکنالوجی، مقامی آبادی کے تعاون اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہے۔ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف دہشت گردوں کے بڑے نیٹ ورکس کو توڑا بلکہ ان کے مالی وسائل اور سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا۔ یہ ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی ہے جس میں سرحدی نگرانی، باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے آلات اور فوری ردِعمل کی صلاحیت شامل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد طویل اور دشوار گزار ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی پیچیدگی دہشت گردوں کو نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے سرحدی باڑ کی تکمیل کو ترجیح دی، نئی چیک پوسٹس قائم کیں اور سرحدی گزرگاہوں کو دستاویزی نظام کے تحت لایا۔ ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں کی آمدورفت کو منظم کرنا اور غیر قانونی دراندازی کو روکنا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے، لیکن زمینی حقائق نے ثابت کیا کہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ دہشت گردی کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دہشت گردی محض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسندی کے بیانیے کا توڑ کرنے، مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی جیسے اقدامات کیے۔ تاہم جب بیرونی سرزمین سے منظم حملے جاری رہیں تو داخلی اقدامات کافی نہیں رہتے۔ اسی لیے سرحد پار موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ایک ناگزیر آپشن بن گیا۔
افغانستان کی موجودہ صورتِ حال بھی پیچیدہ ہے۔ برسوں کی جنگ نے وہاں کے سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔ ایسے میں غیر ریاستی عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کی ہے کیونکہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن امن کی خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرے۔ حالیہ فضائی کارروائیاں محدود، مخصوص اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک مرکوز تھیں، جن کا مقصد شہری آبادی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ ان عناصر کو پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوگا۔
ان اقدامات کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کئی اہم کمانڈرز ہلاک ہوئے، اسلحے کے ذخائر تباہ ہوئے اور دراندازی کے منصوبے ناکام بنائے گئے۔ سب سے اہم بات یہ کہ سکیورٹی فورسز کا مورال بلند ہوا اور عوام کو یہ اعتماد ملا کہ ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوامی اعتماد ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب شہری دیکھتے ہیں کہ ریاست بروقت اور مؤثر ردِعمل دے رہی ہے تو وہ بھی تعاون کے لیے آگے آتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکری کارروائی مستقل حل نہیں ہوتی۔ پائیدار امن کے لیے سفارتی روابط، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی ہم آہنگی ضروری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو بھی اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ رکھے تاکہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ چین، وسطی ایشیائی ریاستیں اور دیگر علاقائی ممالک بھی دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہمیشہ امن رہا ہے، مگر امن کمزوری سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے قائم ہوتا ہے۔ اگر دشمن کو یہ احساس ہو کہ اس کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا تو وہ مہم جوئی سے باز رہتا ہے۔ یہی اصول حالیہ اقدامات کی بنیاد ہے۔ یہ کارروائیاں نہ تو جنگ کا اعلان ہیں اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف دشمنی کا اظہار، بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کی سرزمین اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
مستقبل کا راستہ دوہرا ہے: ایک طرف سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس آپریشنز کو مزید مضبوط بنانا، اور دوسری جانب سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کو یقینی بنانا جو دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا خاتمہ کریں۔ اگر افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روک دے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ تجارت، راہداری اور عوامی روابط کے بے شمار امکانات موجود ہیں، مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل سدباب ہو۔
پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ اور پْرعزم ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اس ملک نے امن کی قیمت ادا کی ہے۔ اب یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ بیرونی سرزمین سے بیٹھ کر عناصر پاکستان کے امن کو یرغمال بنائیں۔ مؤثر عسکری اقدامات، مضبوط سفارتی حکمتِ عملی اور قومی یکجہتی ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف حالیہ کارروائیاں اسی عزم کا عملی اظہار ہیں کہ ریاست اپنے دفاع میں ہر ضروری قدم اٹھائے گی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں