تعلیم کا مقصد کرپٹ نظام کا حصہ بننا نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینا ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری
طلبا چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں،چانسلراکبر علی خان کا طلباء سے خطاب
رواںسال مستحق طلباء کو 5 کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئیے گئے،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق
پاکستان واچ نیوز
سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی شخصیات کے علاوہ معززین، فیکلٹی و طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری تھے۔اس موقع پر 1095سے زائدطلباء و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں اور امتیازی نمبروں سے اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات میں بالترتیب طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے تقسیم کئے گئے۔ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی طرف سے فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات کو یا تو لیپ ٹاپ یا پچاس ہزار کیشن پرائز دیا گیا۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو حق اور سچ کے راستے پر چلانا ہے، نہ کہ کرپٹ نظام کا حصہ بننا۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا دور ہے اور پاکستان کو ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورے ملک کو 65 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان ایک عظیم دانشور تھے جنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تعلیم اور ہنر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ تحریکِ پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کا کردار قابلِ فخر رہا ہے۔
گورنرکامران ٹیسوری نے بتایا کہ گورنر انیشی ایٹو کے تحت 50 ہزار بچے مفت آئی ٹی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جس پر فی طالب علم 9 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ سر سید یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی مفت آئی ٹی کورسز میں شامل کیا جائے گا۔
سرسید یونیورسٹی کے چانسلر، محمد اکبر علی خان، نے گریجویٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی عالمی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم نے اب انسانی سرمائے کو دولت کا بنیادی ذریعہ بنا دیا ہے اور قومی مسابقت اور سماجی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو پہلے سے بڑھا دیا ہے۔
چانسلر اکبر علی خان نے معیاری تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے عزم اور طلبہ کے تجربات کو بڑھانے کے لیے ایک مضبوط کوالٹی اشورینس سسٹم کی اہمیت اجاگر کیا۔ انہوں نے ادارے کو درپیش مالی اور تعلیمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے، خاص طور پر حکومتی فنڈنگ کی عدم موجودگی میں، سرسید یونیورسٹی کی ترقی اور اس کے بانیوں کی بصیرت انگیز قیادت پر فخر کا اظہار کیا۔ چانسلر اکبر علی خان نے بتایا کہ طلبائ کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا یہ ادارہ اس پختہ عزم کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ سرسید یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم مالی بحران یا فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔
وزیر برائے بورڈز و جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نوجوانوں کا تعلیم سے آراستہ کرنے کا فرض بخوبی نبھا رہی ہے۔۔ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے اسکالر شپ میں اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے سرسید یونیورسٹی کی ترقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی طرف سے اس سال پاس آؤٹ طلباء کو 1032 بیچلرز اور 63 ماسٹرز ڈگریاں دی جارہی ہیں جن میں 6 پی ایچ ڈی بھی شامل ہیں۔34 تعلیمی پروگراموں میں تقریباََ 8,000سے زائد طلبائ زیر تعلیم ہیں جو سرسید یونیورسٹی کی ترقی و کامیابی کی عکاسی ہے۔رواں سال سات نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی گئیں۔سرسید یونیورسٹی میں تحقیق کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے اوریہاں کا ماحول ریسرچ فرینڈلی ہے۔اس سال 1500 مستحق طلبائ کومالی معاونت کے ضمن میں 5 /کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ داخلہ سیزن میں تقریباً 2500 طلباء کو داخلہ دیاگیا جو سرسیدیونیورسٹی کے اعلیٰ معیار تعلیم کی دلیل اوروقار کی علامت ہے۔۔ ہم اپنی پوسٹ گریجویٹ پیشکشوں اور ملازمت پر مبنی کورسز کو بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ہمارے مسلسل تعلیمی پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔اپنے آپ کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہم غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور ان کے طرز تعلیم اور نصاب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی اور انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جس میں ایک نئی ویب سائٹ کی تشکیل اورایک بہتر انٹرنیٹ بینڈوتھ کی تنصیب شامل ہیں۔مستقبل کا ادراک کرتے ہوئے ایجوکیشن سٹی میں سرسید یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی میں ٹیکنالوجی پارک اور ایک نئے رہائشی کیمپس کی تعمیر کے لیے تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔۔
قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم اب معاشی ترقی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ آج کے معاشرے کو تعلیم کے علاوہ تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہے جو تکنیکی طور پر آگے بڑھنے والی دنیا میں موثر کردار ادا کرے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں پیشرفت سے نمٹنے کے لیے آپ کو مستقل اپ ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
اختتامِ تقریب پر سرسیدیونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے ترانہ علیگڑھ پیش کیا۔
باکس1
طلائی تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر طلائی تمغہ حاصل کرنے والوں میں نرمین پرویز (بایومیڈیکل انجینئرنگ)، فاطمہ راشد (بایومیڈیکل سائنس)، صارم مشہود (کمپیوٹر انجینئرنگ)، عماد الدین علی خان (الیکٹریکل انجینئرنگ)، مبشر شیخ (الیکٹرانک انجینئرنگ)، مروہ مسرور (بائیوٹیکنالوجی)، مہوش خان (کمپیوٹر سائنس)،شیزا انور شیخ (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، اْزبہ نسیم (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، حسن عبداللہ (سول انجینئرنگ)، ماہر (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حسین ایزی (آرکیٹیکچر)، آمنہ جمال (بی بی اے)، محمد عدیل خان (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد ایان ندیم (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید اذہان رضا (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، ربیعہ سلمان (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکوریٹی)، جواد احمد (ریاضی) اور اسپرنگ پروگرام کی ثانیہ توقیر (بایومیڈیکل سائنس)، کنزہ حسین (بی بی اے)، زبیر خان (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
باکس2
چاندی کاتمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں ماہ نور (بائیومیڈیکل انجینئرنگ)، عائشہ (بائیومیڈیکل سائنس)، مرزا محمد عمار (کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد عباد (الیکٹریکل انجینئرنگ)، محمد عبید الرحمان (الیکٹرانک انجینئرنگ)، عائشہ فیصل (بائیو ٹیکنالوجی)، سیدہ آمنہ رضوی (کمپیوٹر سائنس)، محمد موحد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، آصف حسین (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، فیضان خان (سول انجینئرنگ)، سید محمد رمیز (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد فرحان (آرکیٹیکچر)، یشرا خان (بی بی اے)، سید حمزہ بن عابد (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد عباد بصیر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، ایمن (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، نادرہ (موبائل کمیونیکیشن ایند سیکوریٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے حفصہ عبداللہ (بائیومیڈیکل سائنس)، لائبہ حسن (بی بی اے)، محمد اویس نادر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
باکس 3
کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
FALL پروگرام میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں محمدرافع (بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، محمد طحہٰ (کمپیوٹر انجینئرنگ)، اریب (الیکٹریکل انجینئرنگ)، عواب نعیم (الیکٹرانک انجینئرنگ)، سیدہ زینب راشد (بائیو ٹیکنالوجی)، سمیت سلیم (کمپیوٹر سائنس)، عرشیہ احمد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، سمیر احمد (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، ازکا عاصم (سول انجینئرنگ)، شیخ حسن احمد (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد یعقوب (آرکیٹیکچر)، صبا ناگری (بی بی اے)، امیر حنظلہ (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حافظ فدا الشراف شامی (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید محمد جواد حیدر (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکیورٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے سیدہ وجیہہ کاظمی
(بایومیڈیکل سائنس)، سید حسن علی (بی بی اے)، محمد اسامہ (الیکٹرکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔






