سوشل میڈیا، افواہیں اور قومی بیانیہ…نشید آفاقی

آج کے پاکستان میں سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، یہ رائے سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں کوئی ویڈیو، آڈیو کلپ یا تحریر لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تاثر، ایک کہانی اور بعض اوقات ایک پورا بیانیہ تشکیل پا جاتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ بیانیہ سچ پر نہیں بلکہ افواہوں، آدھی معلومات اور جذباتی ہیجان پر مبنی ہو۔ ایسی صورت میں قومیں کنفیوژن کا شکار ہو جاتی ہیں اور ریاستی و سماجی استحکام متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیاسی درجہ حرارت اکثر بلند رہتا ہے اور معاشی و سیکیورٹی چیلنجز مستقل موجود ہیں، وہاں اطلاعات کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا اکثر تصدیق کے بجائے سنسنی کو ترجیح دیتا ہے۔ کسی واقعے کی مکمل تصویر سامنے آنے سے پہلے ہی اس پر تبصرے، تجزیے اور فیصلے صادر ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ ٹویٹ یا ایڈیٹ کی گئی ویڈیو پورے معاشرے میں بے یقینی پھیلا دیتی ہے۔
افواہ کی نفسیات بہت سادہ ہے، لوگ وہی بات تیزی سے مانتے اور پھیلاتے ہیں جو ان کے پہلے سے موجود تعصبات یا جذبات سے مطابقت رکھتی ہو۔ اگر کوئی خبر ہمارے پسندیدہ سیاسی رہنما کے حق میں ہو تو ہم اسے بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دیتے ہیں، اور اگر مخالف کے خلاف ہو تو مزید جوش سے شیئر کرتے ہیں۔ اس عمل میں سچ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور قوم کا اجتماعی شعور تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے۔
قومی بیانیہ دراصل وہ مشترکہ فہم ہے جس پر ایک قوم کھڑی ہوتی ہے۔ یہ بیانیہ محض حکومتی موقف کا نام نہیں بلکہ عوامی سوچ، تاریخی تجربات اور اجتماعی مفادات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر مسلسل متضاد اور غیر ذمہ دارانہ اطلاعات گردش کرتی رہیں تو یہ مشترکہ فہم کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ہر گروہ اپنا الگ سچ تراش لیتا ہے اور یوں معاشرہ چھوٹے چھوٹے معلوماتی جزائر میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ کس طرح بعض افواہوں نے فوری طور پر عوامی ردعمل کو بھڑکا دیا۔ کبھی کسی گرفتاری کی غلط خبر، کبھی کسی اہم عہدے دار کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ، اور کبھی کسی بین الاقوامی سازش کا مبالغہ آمیز بیانیہ ،یہ سب لمحوں میں وائرل ہوا اور بعد میں یا تو تردید آ گئی یا حقیقت اس سے مختلف نکلی۔ مگر تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ اعتماد ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں رہتا۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ سارا قصور عوام کا ہے۔ ہمارے روایتی میڈیا، سیاسی قیادت اور بعض سرکاری اداروں کی غیر شفافیت بھی افواہوں کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہے۔ جب بروقت اور واضح معلومات فراہم نہیں کی جاتیں تو خلا پیدا ہوتا ہے، اور معلومات کا یہ خلا افواہوں کے لیے زرخیز زمین بن جاتا ہے۔ لوگ قیاس آرائیوں سے اس خلا کو پْر کرتے ہیں۔ اس لیے ذمہ داری دو طرفہ ہے معلومات فراہم کرنے والوں کی بھی اور انہیں قبول کرنے والوں کی بھی۔

سوشل میڈیا کی ایک اور پیچیدگی اس کا الگورتھم ہے۔ یہ ہمیں وہی مواد دکھاتا ہے جو ہماری پسند اور رجحان سے میل کھاتا ہو۔ یوں ہم ایک ایسے ڈیجیٹل کمرے میں بند ہو جاتے ہیں جہاں صرف ہماری آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مخالف رائے یا تو نظر نہیں آتی یا دشمنی محسوس ہوتی ہے۔ اس ماحول میں افواہ سچ سے زیادہ کشش رکھتی ہے کیونکہ وہ ہمارے جذبات کو تسکین دیتی ہے۔
قومی بیانیے کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ جب ہر خبر کو سازش، ہر اختلاف کو غداری اور ہر تنقید کو دشمنی سمجھا جانے لگے تو معاشرہ مکالمے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے داخلی تقسیم کی قیمت کئی بار چکائی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو، کردار کشی اور الزام تراشی نہ صرف سیاسی ماحول کو زہریلا بناتی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوشل میڈیا کو خاموش کر دیا جائے یا اختلاف رائے کو دبایا جائے۔ درحقیقت سوشل میڈیا نے عام شہری کو آواز دی ہے، جس کے ذریعے وہ ناانصافی کے خلاف بول سکتا ہے اور اہم معاملات پر بحث کر سکتا ہے۔ مسئلہ آزادی اظہار نہیں بلکہ اس آزادی کے ساتھ جڑی ذمہ داری ہے۔ آزادی اور ذمہ داری کا توازن ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔
حل کہاں سے شروع ہو؟ سب سے پہلے ہمیں بطور شہری اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا ذریعہ دیکھنا، تاریخ چیک کرنا اور کم از کم دو مستند ذرائع سے تصدیق کرنا ایک بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اگر خبر جذبات بھڑکا رہی ہو تو مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اکثر جھوٹی خبریں اسی انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ قاری فوری ردعمل دے۔
دوسری جانب ریاست اور میڈیا اداروں کو شفافیت اور بروقت معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ جب عوام کو صحیح وقت پر درست معلومات ملیں گی تو افواہوں کی گنجائش کم ہو جائے گی۔ پریس بریفنگ، ڈیٹا کی دستیابی اور واضح پالیسی بیانات اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تعلیم کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ڈیجیٹل لٹریسی کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان یہ سیکھ سکیں کہ آن لائن مواد کو کیسے پرکھا جاتا ہے، تصویر یا ویڈیو کی اصلیت کیسے جانچی جاتی ہے اور الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں۔ یہ دور محض پڑھنے لکھنے کا نہیں بلکہ معلومات کو سمجھنے اور جانچنے کا ہے۔
سیاسی قیادت کو بھی اپنے کارکنوں اور حامیوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تلقین کرنی چاہیے۔ اگر قیادت خود اشتعال انگیز زبان استعمال کرے گی تو کارکنان بھی وہی رویہ اپنائیں گے۔ قومی بیانیہ صرف نعروں سے نہیں بنتا، بلکہ برداشت، مکالمے اور سچائی کے احترام سے تشکیل پاتا ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ دشمن ہے نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا استعمال ہماری نیت اور شعور پر منحصر ہے۔ اگر ہم اسے افواہوں، نفرت اور تقسیم کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے۔ لیکن اگر ہم اسے شعور، مکالمے اور مثبت بیانیے کے لیے بروئے کار لائیں تو یہی پلیٹ فارم قومی یکجہتی کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اعتماد ہے عوام کا اداروں پر، اداروں کا عوام پر اور مختلف طبقات کا ایک
دوسرے پریہ اعتماد سچائی، شفافیت اور ذمہ دارانہ رویے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شہری محض صارف نہیں بلکہ ایک طرح کا ناشر بھی ہے۔ جو کچھ ہم لکھتے اور شیئر کرتے ہیں، وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہ قوم کے اجتماعی ذہن میں ایک اینٹ کا اضافہ کرتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا قومی بیانیہ مضبوط، متوازن اور حقیقت پر مبنی ہو تو ہمیں افواہوں کے سیلاب کے آگے بند باندھنا ہوگا۔ یہ بند قانون سے زیادہ شعور سے تعمیر ہوگا۔ اور جب شعور بیدار ہو جائے تو افواہ اپنی کشش کھو دیتی ہے، کیونکہ سچ کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قومیں مضبوط بنیادوں پر ہی آگے بڑھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں