سیاست، ارتقا اور قیادت……تحریر: اظہر لغاری


تحریر: اظہر لغاری
کبھی کبھی انسان خود سے ایک ایسا سوال کر بیٹھتا ہے جو بظاہر سادہ ہوتا ہے مگر اندر سے پورے فکری نظام کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک سوال یہ ہے کہ آخر سیاسی سفر ہوتا کیا ہے؟ کیا سیاست محض اقتدار تک پہنچنے کا نام ہے، یا کسی عہدے، منصب اور کامیابی پر ختم ہو جانے والا راستہ ہے؟ یا پھر سیاست دراصل ایک ایسا فکری سفر ہے جو انسان کی سوچ، اس کی زندگی اور اس کے مقصد کو بدل دیتا ہے؟ یہ وہ سفر ہوتا ہے جو انسان کو سیکھنے کا موقع دیتا ہے، خود کو دریافت کرنے کا موقع دیتا ہے، اور اسے ذاتی مفاد سے اٹھا کر اجتماعی بھلائی کی طرف لے جاتا ہے۔
زندگی بذاتِ خود ارتقا کا نام ہے۔ کائنات کی ہر شے مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ انسان، سماج، علوم، معیشت، حتیٰ کہ سیاست بھی وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود قدرت کے کچھ اصول ایسے ہیں جن میں کبھی ارتقا نہیں ہوا۔ وہ اصول ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں برسوں سے اپنی جگہ قائم ہیں۔ حق اور باطل، انصاف اور ظلم، سچ اور جھوٹ—یہ وہ اصول ہیں جو زمانے بدلنے کے باوجود نہیں بدلے۔ سیاست بھی انہی اٹل اصولوں کے گرد گھومتی ہے، چاہے اسے جتنا بھی جدید، ترقی یافتہ یا بدلتا ہوا کیوں نہ دکھایا جائے۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہر دور نے اپنی سہولت اور مفاد کے مطابق سیاست کی نئی تشریح گھڑ لی ہے۔ کسی کے نزدیک جھوٹ، فریب اور چالاکی سیاست کا ارتقا ہیں، جبکہ کسی کے نزدیک سچ، شفافیت اور اصول پسندی کو سیاست کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاست نہ صرف سچ کا نام ہے اور نہ صرف جھوٹ کا۔ سیاست دراصل بہتری کے راستے نکالنے کا نام ہے۔ سیاست بند دروازے کھولنے، الجھے ہوئے مسائل کے حل تلاش کرنے اور ایسے امکانات پیدا کرنے کا نام ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہوں۔
سیاست محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ مکالمے کا نام ہے، برداشت کا نام ہے، اختلاف کو سننے اور سمجھنے کا نام ہے۔ یہ وہ مکالمہ ہوتا ہے جو سخت ترین دلوں کو نرم کر سکتا ہے اور وہ زبان ہوتی ہے جو پتھر جیسے رویوں کو بھی پگھلا دیتی ہے۔ حقیقی سیاست وہ ہوتی ہے جو ٹکراؤ کم کرے، تقسیم کم کرے اور معاشرے کو جوڑنے کی کوشش کرے۔
یہاں سے ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے: سیاست دان اور لیڈر کا فرق۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو سیاست کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کسی کے لیے طاقت اہم ہوتی ہے، کسی کے لیے دولت، کسی کے لیے شہرت اور کسی کے لیے محض اپنی بقا۔ وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر محور اکثر اپنی ذات ہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس لیڈر وہ ہوتا ہے جو سیاست کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ ایک نظریے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ لیڈر تاریخ میں صرف اپنا نام نہیں بلکہ اپنی سوچ اور اپنے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔
لیڈر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ہمیشہ کامیاب ہو، یا ہر جنگ جیت لے۔ اصل لیڈر وہ نہیں جو ہر قیمت پر اپنے مقاصد حاصل کر لے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو قوم کو ایک نئی فکری سمت دے، شعور دے، سوال کرنے کا حوصلہ دے اور سوچنے کی آزادی کا فہم دے۔ لیڈر لوگوں کے ذہن بدلتا ہے، ان کے اندر اعتماد اور خودی پیدا کرتا ہے۔
پھر یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ لیڈر بنتا کیسے ہے؟ کیا قیادت پیدائشی صلاحیت ہے یا کوئی انسان لیڈر بنایا جاتا ہے؟ کیا قدرت کچھ لوگوں کو چن لیتی ہے، یا وہ لوگ اپنی زندگی کے تلخ تجربات، محرومیوں اور ناانصافیوں سے سیکھ کر لیڈر بنتے ہیں؟ شاید حقیقت ان سب کے درمیان کہیں موجود ہے۔ کچھ لوگ حالات کے ہاتھوں تراشے جاتے ہیں، کچھ دکھ دیکھ کر جاگتے ہیں، اور کچھ لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی تبدیلی بن جاتا ہے۔
ایک بات مگر طے ہے کہ لیڈر بننے کے لیے سیاست میں آنا پڑتا ہے۔ سیاست کے عمل سے گزرے بغیر قیادت محض ایک تصور رہ جاتی ہے۔ سیاست وہ میدان ہے جہاں انسان کا اصل کردار، اس کی نیت اور اس کی برداشت کھل کر سامنے آتی ہے۔ یہیں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون محض سیاست دان ہے اور کون واقعی لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک پرانی مگر گہری بات یہ ہے کہ انسان کی سوچ کا دائرہ اس کی صحبت اور مطالعے سے بنتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے جو صرف مقامی سیاست، شخصیات اور وقتی مفادات تک محدود ہوں، تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک سیاست دان بن سکتا ہے۔ لیکن اگر گفتگو نظریے، وژن، قومی مستقبل اور بین الاقوامی امور پر ہو، تو یہی فکری ماحول انسان کو وسیع النظر بناتا ہے اور قیادت کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ محض پڑھ لینے یا اچھی محفلوں میں بیٹھنے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا۔ اصل امتحان عمل میں ہوتا ہے۔ قیادت کردار مانگتی ہے، قربانی مانگتی ہے، اور سب سے بڑھ کر نیت کی صفائی مانگتی ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل فیصلے کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، چاہے وہ فیصلے وقتی طور پر غیر مقبول ہی کیوں نہ ہوں۔
پھر بات آتی ہے اچھے اور برے لیڈر کی۔ کیا کسی لیڈر کو اس کی ذاتی زندگی کی بنیاد پر پرکھا جائے یا اس کی کارکردگی کی بنیاد پر؟ کیا اس کے فیصلے اہم ہیں یا اس کا کردار؟ شاید درست جواب ان دونوں کے امتزاج میں ہے۔ ایک لیڈر کی ذاتی دیانت، اخلاق اور نیت اس کے فیصلوں میں جھلکتی ہے، اور اس کے فیصلے اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
جمہوریت میں قیادت کا سب سے اہم ذریعہ انتخابات ہوتے ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے طے کرتے ہیں کہ ان کا لیڈر کون ہو گا۔ مگر اگر انتخابات شفاف نہ ہوں، اگر نتائج بدل دیے جائیں، اگر عوامی رائے کو مسخ کیا جائے، تو ایسے نظام سے آنے والا شخص کبھی حقیقی لیڈر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ لیڈر وہی ہوتا ہے جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔
یہ درست ہے کہ عوام کبھی کبھار غلط انتخاب بھی کر لیتے ہیں، مگر شفاف نظام میں انہیں اپنی غلطی درست کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ لیکن جب یہ حق بھی چھین لیا جائے تو نہ صرف قیادت کا معیار گرتا ہے بلکہ پورا نظام کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک اچھے لیڈر کو ایک مضبوط اور اہل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ درست لوگوں کا انتخاب کرنا بھی قیادت کی ایک بڑی آزمائش ہے۔ ٹیم میں غلطیاں ہو جانا کسی لیڈر کو برا نہیں بنا دیتا، اگر اس کا وژن صاف ہو اور نیت ذاتی فائدے سے پاک ہو۔ اچھا لیڈر اپنے لیے نہیں سوچتا، اپنے خاندان کے لیے نہیں سوچتا، بلکہ پورے ملک کو اپنا خاندان اور ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہےاور شاید یہی وہ باریک مگر فیصلہ کن فرق ہے
جو ایک عام سیاست دان اور ایک حقیقی لیڈر کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں