سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی دفاعی صنعت نے بھرپور شرکت کے ذریعے عالمی برادری میں اپنی صلاحیتوں، خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور اظہار کیا۔ اس ایونٹ میں 80 سے زائد ممالک نے شرکت کی عالمی ایونٹ میں پاکستان کے جدید دفاعی سازوسامان، بالخصوص فتح 2 میزائل، لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی نظاموں نے بین الاقوامی ماہرین، دفاعی تجزیہ کاروں اور غیر ملکی وفود کی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
نمائش کے دوران پاکستان کی شرکت کو نہ صرف ایک دفاعی نمائش بلکہ قومی وقار، تکنیکی خود اعتمادی اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی دفاعی قوت کے طور پر دیکھا گیا۔ عالمی دفاعی نمائش میں یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب محض ملکی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہے۔
نمائش میں شرکت کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مختلف بین الاقوامی فورمز اور دفاعی سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دفاعی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور آج دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے لڑاکا طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی سازوسامان کے حصول میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت کا دائرہ کار مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جو نہ صرف ملکی سلامتی کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
نمائش کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خواجہ آصف نے عالمی دفاعی نمائش کے شاندار انعقاد پر سعودی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے عالمی ایونٹس خطے میں دفاعی تعاون، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عالمی دفاعی نمائش میں پاکستان کی جانب سے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹری اور دیگر دفاعی اداروں نے شرکت کی۔ ان اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے جدید دفاعی نظام، ہتھیار، ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں نے پاکستان کی دفاعی خود کفالت کی عملی تصویر پیش کی۔
نمائش کے دوران پاکستان کے فتح 2 میزائل کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی، جسے پاکستان کی دفاعی لائن کو مضبوط بنانے والی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ عالمی دفاعی ماہرین نے اس میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں، درستگی اور جدید فیچرز کو سراہا۔ فتح 2 میزائل سمیت دیگر دفاعی سازوسامان نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی میدان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے لیے تیار ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی نمائش کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں اور مشترکہ اقدامات نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا ہے، جو مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
نمائش میںدفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب جدید ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے دفاعی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے محدود وسائل کے باوجود تحقیق، جدت اور قومی عزم کے ذریعے دفاعی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی مؤثر موجودگی نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا بلکہ دفاعی برآمدات کے نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔ کئی ممالک کی جانب سے پاکستانی دفاعی مصنوعات میں دلچسپی مستقبل میں دفاعی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
نمائش میں یہ بات بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت ملکی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ تک رسائی اور بین الاقوامی شراکت داری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے۔
عالمی دفاعی نمائش 2026 کے کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دفاعی میدان میں ایک ذمہ دار، پْرامن مگر مضبوط ملک کے طور پر عالمی برادری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی ترقی نہ صرف قومی سلامتی کی ضامن ہے بلکہ یہ مستقبل میں خطے اور دنیا میں پاکستان کے مؤثر کردار کی بنیاد بھی بن رہی ہے۔
پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا….شیخ راشد عالم






