پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی

کراچی (ویب ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 47 سال پہلے قتل کے ایک مقدمے میں آج ہی کے دن راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی۔
سپریم کورٹ مارچ 2024 میں فیصلہ دے چکی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا اس مقدمے میں ٹرائل منصفانہ نہیں تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ملکی اور عالمی سطح پر ایک مقبول لیڈرتھے۔
وہ 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پيدا ہوئے، کيلی فورنيا اور پھر آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی۔
1963 ميں جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے، آگے چل کر ایوب خان سے اختلاف ہوئے تو ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر 30 نومبر 1967 میں پيپلزپارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر اور 1973 سے 1977 تک منتخب وزيراعظم رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے علاقائی اور عالمی فورمز پر پاکستان کو نمایاں مقام دِلانے میں مرکزی کردار ادا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، متفقہ آئین دیا، مغربی استعمار کیخلاف اسلامی ممالک کو متحد کرنے کی کوشش کی اور آخری دم تک بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کیلئے چیلنج بنے رہے۔
داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ زندگی کا باب بند کردیا گیا مگر ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات کی گونج آج بھی باقی ہے۔
صدرآصف زرداری کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پرپیغام
صدر مملکت آصف زرداری نے کہا شہید ذوالفقارعلی بھٹوپاکستان کی سیاسی تاریخ میں مرکزی مقام رکھتے ہیں، 1971 کے بعد کے مشکل دور میں ان کی قیادت نے قومی اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی۔
صدر آصف زرداری نے 1973 کے آئین کی منظوری کو اس دورکی سب سے پائیدارکامیابیوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ ان کی حکومت نے ایسی پالیسیوں اور اداروں کی بنیاد رکھی جنہوں نے اسٹریٹجک سمت کو شکل دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں