ڈاکٹر سید عامر علی میزان بینک کےصدر و سی ای او مقرر

کراچی (کامرس ڈیسک )پاکستان کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک لمیٹڈ (MEBL)، میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں آ گئی ہے۔ بینک نے ڈاکٹر سید عامر علی کو 30 دسمبر 2025 سے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ میزان بینک کے بانی صدر و سی ای او عرفان صدیقی کی جگہ یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
میزان بینک نے اس تقرری سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو منگل کے روز جاری کردہ نوٹس میں آگاہ کیا۔ نوٹس کے مطابق،
“ہمیں مطلع کرنا ہے کہ ڈاکٹر سید عامر علی کو 30 دسمبر 2025 سے میزان بینک لمیٹڈ کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جو عرفان صدیقی کی جگہ یہ منصب سنبھالیں گے۔”
نوٹس میں مزید بتایا گیا کہ عرفان صدیقی بدستور میزان بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے عرفان صدیقی کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت، انتھک محنت اور قیمتی خدمات نے میزان بینک کو پاکستان کی کامیاب ترین کارپوریٹ کہانیوں میں شامل کیا اور اسلامی بینکاری کے عالمی شعبے میں ایک رجحان ساز ادارہ بنایا۔
بورڈ کے مطابق، “اسلامی بینکاری کے فروغ میں عرفان صدیقی کا قائدانہ کردار اور غیر متزلزل وابستگی ملک میں اس شعبے کی مضبوط بنیاد رکھنے اور بینک کی شاندار ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔”
میزان بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، ڈاکٹر سید عامر علی ایک سینئر اسلامی بینکاری ماہر ہیں اور فنانس، اکاؤنٹنگ، بزنس اور قانون میں اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں۔ انہیں فنانس، ٹریژری، انویسٹمنٹ اور کارپوریٹ بینکاری کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی اداروں میں خدمات انجام دیں، جن میں اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی، شیل، بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ اور میزان بینک شامل ہیں۔ ڈاکٹر عامر علی دی سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ (امریکہ) سے چارٹرڈ فنانشل اینالسٹ، اے سی سی اے (برطانیہ) سے چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹ، اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ ہمدرد کراچی سے ایم بی اے اور جامعہ کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سید عامر علی نے 2006 میں پہلی بار میزان بینک میں شمولیت اختیار کی اور کارپوریٹ و انویسٹمنٹ گروپ کی قیادت کی۔ بعد ازاں 2018 میں وہ بینک اسلامی سے وابستہ ہوئے، جبکہ 2023 میں دوبارہ میزان بینک کا حصہ بنے۔ اب ان کی تقرری کو بینک کی مستقبل کی حکمتِ عملی اور اسلامی بینکاری کے مزید فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں