ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں شہید حکیم محمد سعید کی یاد میں “یادیں، باتیں” کے عنوان سے تقریب

اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے زیرِ اہتمام بانیٔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، شہید حکیم محمد سعید کی زندگی، وژن اور گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک یادگاری تقریب بعنوان “یادیں، باتیں” منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں عوامی صحت کے اہم موضوعات جن میں خون کا عطیہ، ذیابیطس سے بچاؤ، غذائیت اور بچوں کی صحت شامل تھے، کو اجاگر کیا گیا اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ہمدرد کے دیرینہ عزم کی تجدید کی گئی۔ تقریب میں ممتاز شخصیات، ماہرینِ صحت، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
سینیٹر مشاہد حسین سید، مہمانِ خصوصی، نے شہید حکیم محمد سعید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی اصل شناخت اور علم، کردار اور خدمت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید وہ واحد شخصیت تھے جن کی پہلی اردو کتاب سابق سوویت یونین میں شائع ہوئی، جبکہ ان کا مشہور سفرنامہ “سفرنامۂ روس” روس میں نمایاں اعزاز کا حامل رہا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید حکیم محمد سعید نوجوانوں کو امتِ مسلمہ کا مستقبل سمجھتے تھے اور صحت کے شعبے میں متوازن اور ہمہ گیر نظام کے قائل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد اُن چند اداروں میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنے مشن اور اثر کو کامیابی سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر، محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ہمدرد کی بنیاد شہید حکیم محمد سعید کے وژن اور عمر بھر کی خدمات پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور قومی خدمت پر مبنی ایک مشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد نہ صرف ایک جامع ادارہ ہے بلکہ طب کے میدان میں ایک ممتاز اور نمایاں مقام رکھتا ہے، اور شہید حکیم محمد سعید کی طبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکیم سعید کی کاوشوں کو سراہنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق حکیم سعید کی محنت کی بدولت آج پاکستانی طلبہ طب کے میدان میں عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں، اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے مشن کی عملی تصویر ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق گورنر سندھ، نے شہید حکیم محمد سعید کو ایک غیر متنازعہ قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر قومی ادویات کے فروغ میں حکیم سعید کے کلیدی کردار اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ساتھ ان کی ذاتی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد بھی ہمدرد نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور آج پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن (PAEM) کے صدر، حکیم عبدالحنان نے شہید حکیم محمد سعید کو صحت اور تعلیم کے لیے ایک روشن مینار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم محمد سعید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدمت، علم اور اخلاق انسانیت کے لیے سب سے بڑی میراث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم اور خدمت ہی انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں اور ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں علم، کردار اور خدمت کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق حکیم محمد سعید نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ تھے، اور ان کا وژن آج بھی نوجوانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ایسی عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے، جناب شہزاد عالم نے صحت کے شعبے میں ہمدرد کی خدمات کو سراہتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد کی جانب سے پاکستان میں WHO پروگرامز، بشمول عالمی یومِ صحت، کے فروغ میں تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر جنرل، جناب امتیاز حیدر نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار اور خدمت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمدرد یونیورسٹی تعلیم کو اخلاقیات، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات صرف یادگاری نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی خدمت کے عہد کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب کا اختتام اتحاد، غور و فکر اور عزم کے پُراثر پیغام کے ساتھ ہوا، جس میں شہید حکیم محمد سعید کی دائمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم صحت کے مسائل پر آگاہی کو فروغ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں