امریکا کو طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے.ایرانی وزیر خارجہ

تہران (ویب ڈیسک )ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری ’قتلِ عام‘ کو دیکھ رہی ہے۔ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے انہیں اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں سفارتی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

Disclaimer:
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں