گلی کوچے..عورت سے اختلاف یا اس کی تذلیل.. فر حا نہ اشرف فرحانہ

اختلاف ایک فطری، فکری، علمی و معاشرتی عمل ہے۔ لیکن کسی بھی عمل میں تہذیب و وقار کا خیال نہ رکھا جائے تو بات دلیل سے نکل کر تذلیل میں تبدیل ہوجاتی ہے-اب وہ اختلاف چاہے مرد ذات سے ہو یا عورت سے،ترقی پسند معاشروں میں شخصی آزادی اور ذاتی پسند کا احترام کیا جاتا ہے جب کہ ہمارے یہاںحال ہی میں خاتون صحافی کے لباس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ جس میں عوام نے اپنا اچھا خاصا قیمتی وقت برباد بھی کیا اور تنقید برائے تنقید سے حاصل کچھ نہیں ہوا بلکہ غیر ضروری بحث سے ایک دوسرے سے تعلقات بھی خراب کیے۔ وقت بھی ضائع کیا۔ خاتون صحافی کے لباس سے متعلق بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان کی نماِئندگی مشرقی لباس میں ہونی چاہیے تھی۔ جبکہ سارے مرد صحافی فرہنگی لباس میں ہی ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مان لیا بہت ہی غلط لباس صحافی خاتون نے پہن لیا تھا۔لیکن کیا اس کی نامناسب تصاویر لینا اور پھر عوام کا ان تصاویر کا نہ صرف وائرل کرنا بلکہ بگاڑ بگاڑ کر میمز بنا بنا کر پوسٹ کرنا وائرل کرنا صحیح عمل ہے ؟
اور کس پاکستان کی نمائند گی کر رہے ہیں آپ ؟
ایک طرف آ پ کے اسلا می درس اور دو سری جانب آ پ کا یہ عمل۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔جنکو اسلام کا الف نہیں معلوم پاکستان کے پ سے بے خبر انہوں نے بھی اسلام کی اور پاکستان کی نمائندگی والی باتوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔مذاکرات میں کیا طے ہوا۔ملکی صورت حال کیا ہوگی اس پر بات کرنیکے بجائے لباس زیر بحث ہے۔
اس موضوع پر میں نے دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے رابطہ کیا اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی کہ وہ اس صورت حال کو کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ کیا سوچتے ہیں
محمد فیصل عشرت ،لیکچرار گورنمنٹ کالج کہتے ہیں کہ”انسان اپنی سوچ سے پہچانا جاتا ہے، لباس سے نہیں”۔ لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں ایسا لگتا ہے کہ ہم نے لوگوں کو ان کے کام، ان کی محنت اور ان کی شخصیت کے بجائے صرف اس ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے کہ انہوں نے کیا پہنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینئر خاتون صحافی کے لباس پر ہونے والی تنقید محض ایک فرد پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ذہنیت کی عکاسی ہے جو عورت کو اس کے کام سے زیادہ اس کے ظاہر سے پرکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں معروف اینکر پرسن کے لباس کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، وہ نہ صرف ایک فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہے بلکہ ہمارے مجموعی سماجی رویوں پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔
لباس کا انتخاب کسی بھی انسان کا نہایت نجی فیصلہ ہوتا ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی کے طور پر ان کی پہچان ان کا کام، ان کے سوالات اور ان کی رپورٹنگ ہونی چاہیے۔ جب ہم کسی خاتون کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو پسِ پشت ڈال کر اس کے لباس پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں، تو ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
سینئر خاتون صحافی نے برسوں کی محنت سے صحافت کے میدان میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ ایک اینکر کے طور پر ان کا کام مشکل سوال کرنا اور حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھنا ہے۔ جب ہم ان کے تجزیوں کو چھوڑ کر ان کے لباس کو بحث کا موضوع بناتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ایک عورت چاہے کتنی ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ اس کے “لْک” (Look) کی بنیاد پر ہی جج کیا جائے گا۔ کیا یہ رویہ ایک مہذب معاشرے کو زیب دیتا ہے؟۔۔۔۔
خلاصہ کلام یہ کہ لباس بدلتے رہتے ہیں، لیکن جو تلخ جملے ہم کسی کی دل آزاری کے لیے ادا کرتے ہیں، ان کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔ آئیے تنقید کے بجائے احترام کو فروغ دیں”
یہ تھے فیصل عشرت ان ہی کی بات کو آگے بڑھاونگی کہ متوازن، معاشرہ تب وجود میں آتا ہے جب احتساب سب کے لیے یکساں ہو۔صرف ایک طبقے کو مورد الزام ٹہرانا انصاف نہیں تعصب ہے۔
ٹیچر مہرین بنت رمضان کا کہنا ہے کہ” بہت ہی حساس موضوع ہے۔مختصر ہی کلام کرنا چاہونگی۔کہتی ہیں کہ صحافی خاتون کی تصاویر جس قسم کی لی گئیں وائرل کی گئیں نہا یت غیر اخلاقی نامناسب عمل ہے۔اور جو لوگ اس عمل میں شامل تھے انکو لباس پر تنقید کرنے کے بجائے
اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔اختلاف و اعتراض تمیز و تہذیب سے بھی ہوسکتے ہیں”
با لکل ا ختلاف رائے کا تنقید کا سلیقہ سیکھنے کی ہماری قوم کو ضرورت ہے تو کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے اندر وہ بصیرت پیدا کر یں جو ہمیں دوسروں کے بجائے اپنی اصلاح کرنے کی طرف مائل کرے۔
اسی سلسلے میں پاکستان کے نامور سینئر شاعرجاوید صبا صاحب سے بھی گفتگو ہوئی
وہ فرماتے ہیں کہ”عورت ہو یا مرد دونوں کی عزت و حرمت کا پاس رکھنا چاہیے۔ اور لباس کا انتخاب فرد کی شخصی آزادی ہے۔ اپنی پسند ہے۔ دنیا بھر میں کون کیا پہن رہا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں۔یہ موضو ع زیر بحث ہونا ہی نہیں چاہیے۔ تنگ ذہنیت کے لوگ ایسا کرتے ہیں
وہ صحافی ہیں تو صحافت پر بات کی جائے۔
میرا ایک شعرہے کہ
تیرے پیرہن میں بھٹک گئے سبھی قافلے رہ شوق کے
تیری گفتگو سے پتہ چلاکہ تیرا پتا کوئی اور ہے
وہ مزید فرماتے ہیں کہ بدقسمت معاشرہ ہیہم ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں جو بنا سوچے سمجھے کہتے ہیں اور ججمینٹل ہوتے ہیں۔ “یعنی ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ شعور و تربیت کی ضرورت ہے۔
بینکر آفتاب احمد کا کہنا ہے کہ”میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں شخصیات کے گرد پیدا ہونے والے مباحث اکثر اپنی اصل سے ہٹ کر ذاتیات کی نذر ہو جاتے ہیں، اور یہی کچھ آج کل صحافی خاتون کے لباس کے حوالے سے دیکھنے میں آ رہا ہے کسی کے لباس کو بنیاد بنا کر تضحیک، طنز اور کردار کشی کرنا نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ معاشرتی رویوں میں عدم برداشت کو بھی ظاہر کرتا ہے تنقید کا حق ہر شہری کو حاصل ہے، مگر اس کا دائرہ تہذیب اور شائستگی سے باہر نہیں ہونا چاہیے بدقسمتی سے ہم اختلاف کو ذاتی حملوں میں بدل دیتے ہیں اور یہی رویہ معاشرے کو تقسیم کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اختلافِ رائے کا مہذب اظہار ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں شخصیت نہیں بلکہ رویے پر تنقید کرنی ہوگی، اور وہ بھی دلیل اور وقار کے ساتھ کسی کے لباس، شکل یا ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا نہ کل درست نہ آج ”
یعنی تنقید برائے اصلاح ہوتذلیل کا رویہ ایک سماجی بیماری ہے۔ عورت کی تعظیم و تکریم نہ کرنا عورت کو کم تر حقیر سمجھنا اخلاقی پستی کی علامت اور معاشرے کے زوال کا سبب ہے
آئیے سوشل میڈیا کے ہجوم سے نکل کر اپنے اندر جھانکیں اور یہ طے کریں کہ
ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں ؟
وہ جہاں اختلاف دلیل سے ہو یا وہ جہاں پر بحث ذاتی تضحیک میں بدل جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں