پانی سے بجلی بنانا تو انسان نے بہت بعد میں سیکھا۔ دریا پر بند باندھ کر ڈیم بنانا اور اس سے نہریں نکالنا اور ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنا آج کے دور کے انسان کے لیے اب کچھ ایسا مشکل نہیں بلکہ ایٹمی توانائی کے دور میں تو یہ بھی ایک پرانی چیز ہو چکی ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سورج سے توانائی حاصل کر کے اسے بجلی میں بدل دینا بھی آج کے دور کے انسان کا کمال ہے لیکن ان سب سے بہت پہلے جب انسان نے یہ سیکھا کہ وہ کس طریقے سے ہوا کی طاقت سے ہوائی چکی اور پانی کی طاقت سے کسی پن چکی کے پہیے کو گھمانے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ اس کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ انسان اس وقت ہوا اور پانی کی طاقت کو بجلی کی صورت میں بدلنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا مگر وہ ان قوتوں کے ذریعے کسی پہیے کو گھمانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا اور اس کے دھرے کو آگے لے جا کر عین اسی طرح جس طریقے سے آج بجلی مشین کو حرکت میں لا کر انسان کے کام آتی ہے، اس دور میں انسان نے ان قوتوں کے ذریعے سادہ مشین کو چلانے کا کام لیا۔ یہ مشینیں انسانی قوت اور صلاحیت سے بڑھ کر پیداواری صلاحیت اور طاقت رکھتی تھیں۔
ایسی ہی پانی سے چلنے والی ایک چکی کے بارے میں آپ کو ابھی بتانے والا ہوں۔ یہ چکی جو صرف گندم اور دیگر اجناس کو پیسنے کے کام نہیں آتی تھی بلکہ اس کے ذریعے بھاری بھرکم پتھروں کو تراشا جاتا اور ان کے ذریعے شاہی محلات کے فرش، ستون یا شاہی مقبروں کی تشکیل اور تزین کے کام آنے والے پتھروں کی تراش خراش کے ساتھ ساتھ ان کو پالش کرکے خوبصورت اور خوشنما ڈھانچے، گلدان اور دیگر اشیاء بنانے کا کام بھی اس چکی سے لیا جاتا تھا۔
قبل اس کے، کہ ہم اس خاص شاہی چکی یا مل کی بات کریں پہلے آپ کو لیے چلتے ہیں اس سے قریب ہی واقع ایک خوبصورت محل کی جانب پھر آپ کو یہ بات بھی سمجھ میں آجائے گی کہ یہاں پر اس چکی کا موجود ہونا کیا معنی رکھتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے۔
برلن سے شمال مشرق کی جانب اگر آپ ہائی وے نمبر 24 کے ذریعے جرمنی کے ایک دوسرے بڑے شہر ہمبرگ کی جانب روانہ ہوں تو تقریبا ہمبرگ شہر سے ایک سے ایک سو کلومیٹر قبل ہی ایک دوسری ہائی وے نمبر 114 جرمنی کے ایک اور اہم شہر شویرین کی جانب کو مڑتے ہوئے کراس کرتی ہے۔ ہائی وے 114 آپ کو سیدھے شورین شہر پہنچا دے گی۔ کسی زمانے میں یہ شہر مشرقی جرمنی کا ایک چھوٹا شہر ہوا کرتا تھا جو بالٹک سی سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ شویرین جرمنی کے صوبے میکلن بورگ فور پومن کا دارالحکومت ہے اور یہاں پر واقع ایک خوبصورت محل دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس محل کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ نہ صرف اس شہر کی ایک خاص نشانی ہے بلکہ قدیم زمانے میں یہاں کے شہزادوں، ڈیوک کی رہائش گاہ، ان کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت ایک عالی شان یادگار عمارت ہے جو اپنے باغات، محلات اور گرجاگھراور ارد گرد کی دیگر عمارت کی وجہ سے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میکلن بورگ فور پومن کی صوبائی اسمبلی بھی اسی محل کے ایک حصے کو مختص کرکے بنا دی گئی ہے۔ اس محل میں جا بجا اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بادشاہت سے جمہوریت کا راستہ کس حد تک آسان اور ہموار بنایا جا سکتا ہے اور درحقیقت جرمنی کی تاریخ بھی اس بات کی گوا ہی دیتی ہے۔
شہر شویرین کا یہ محل، یہاں پر موجود ایک بڑی سی جھیل، جو شویرین جھیل کہلاتی ہے، میں واقع ایک جزیرے پر بنایا گیا ہے۔ اس کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے شاہی محل کے مینار اور اس کی خوبصورت عالی شان عمارت اپنے خوبصورت خدوخال دیدہ زیب رنگ پورے جاہ جلال کے ساتھ دیکھنے والی آنکھوں کو مسحور شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ پانچ زاویوں پہ مشتمل یہ خوبصورت محل 1560 میں ڈیوک یوہان البرش اول نے اپنے شاہی معمار یوہان بپتستا پار کے ذریعے اس کی بنیاد رکھی، جسے بعد میں ڈیو ک اعلی فریڈرش فرانز دوم نے اپنے آرکیٹیکٹ جارج اڈلف ڈاملر اور پھر بعد میں فریڈرش اگست اسٹولر نے اسے جدید رینی سوں طرز پر مکمل کروایا۔ اس محل کے ایک ہال میں ایک تصویری شجرہ نسب، گزرے تمام بادشاہوں اور ملکاوں کے پورٹریٹ اور قدآدم پورٹریٹ کے ذریعے نہایت خوبصورتی سے سجا کر اسے شجرہ نصب گیلری کا نام دیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک بڑے سے درباری ہال میں ایک خوبصورت تخت لگا ہے جس پر بیٹھ کر اس علاقے کے والی شہزادے ڈیوک عوام کے مسائل سنا کرتے یا مجالسیں منعقد کی جاتیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک شاہی گرجا گھر بھی موجود ہے اور جیسا کہ میں نے اوپر بتایا صوبہ میکلن بورگ فور پومن کی صوبائی اسمبلی بھی یہی منعقد ہوتی ہے۔ اس محل کو 24 جولائی 2022 کو یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہاں سالانہ تقریبا دو لاکھ افراد اس محل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں اس محل کی پرانی تاریخ سن 965 تک جاتی ہے جب یہاں پر ایک قلعہ بنایا گیا تھا اور اس زمانے میں اندلس سے آئے ہوئے سیاح ابراہیم ابن یعقوب نے اس قلعے کا ذکر اپنے سفر نامے میں کیا تھا جو اس وقت یہاں آباد قوم سلاوش لوگوں کا ایک چوبی قلعہ تھا۔ جس نے آنیوالے وقتوں میں موجودہ محل کا روپ دھار لیا۔
اس محل میں سیڑھیوں کے پاس ایک بالشتیے کا مجسمہ لگا ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں چابیوں کا گچھا ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ یہاں کا وہ چھلاوا ہے جو اس پر قبضے کرنے والوں کو اس قدر پریشان کیا کرتا تھا کہ وہ اس محل کو چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔
شیورین کے محل کا بیشترحصہ خوبصورت سرخ اور سبز پتھروں سے بنی دیواروں اور ایستادہ ستونوں کا خوبصورت امتزاج ہے۔ دیواروں پہ منقش مینا کاریاں اور خوبصورت ڈیزائن بنے ہوئے ہیں۔ مختلف کمروں میں مختلف طرح کے خوبصورت فرنیچر لگے ہوئے ہیں استراحت گاہوں میں خوبصورت آرام دہ میں مسہریاں لگی ہیں۔ لکھنے پڑھنے کے کمرے دفتری کام کے کمرے خوبصورت میز اور کرسیوں سے آراستہ ہیں کرسیوں پرخوب صورت مخملی گدے لگے ہیں۔ کھانے کے کمرے طویل کھانے کی میز اور کرسیوں سے مزین ہیں۔ الغرض تمام محل نہایت خوبصورت نفیس اور طبیعت کو لبھا دینے والا ماحول پیش کر رہا ہوتا ہے جسے صرف دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس محل کے ارد گرد طویل باغات کا ایک سلسلہ ہے ایک طرف سامنے جھیل کے نہایت خوبصورت منظر سے لطف اٹھانے کے لیے گیلری بنی ہے طویل باغات میں طرح طرح کے پودے اور پھول انتہائی خوشنما منظر پیش کرتے ہیں محل چونکہ ایک جزیرے پر واقع ہے تو اس کے سامنے سے ایک پل کے ذریعے اسے شہر کے بقیہ علاقوں سے جوڑ دیا گیا ہے۔ محل سے نکل کر پارک سے گزرتے ہوئے ہم لوگ باہر آگئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم لوگ اٹھارویں صدی کے بادشاہی دور میں پہنچ گئے ہوں اور باہر نکل کر اچانک سے 21 ویں صدی میں داخل ہو گئے ہوں۔ دوپہر کے کھانے کا
وقت ہو چکا تھا اور بھوک خوب چمک اٹھی تھی۔ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور پھر آج رات یہیں شیورین میں قیام کرنے کی غرض سے ایک ہوٹل آگئے۔
ہوٹل کیا تھا، شہر سے باہر ایک قریبی دیہی علاقے میں ایک فارم ہاؤس میں واقع تھا۔ یہ فارم ہاؤس بھی درحقیقت مویشیوں کے باڑوں کے بیچوں بیچ تھا جہاں بے شمار مویشی اور مرغیوں اور بطخوں کے فارم تھے۔ ایک طرف گھوڑوں کے اصطبل اور ان کی چراگاہیں تھیں تو دوسری جانب بے شمار گائے کے باڑے تھے۔ دودھ دینے والی گائے کے بچے ان سے علیحدہ ایک دوسرے باڑے میں چر رہے تھے کچھ چھوٹے بچوں کو ان کی ماؤں کے پاس دودھ پینے کے لیے بھی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسی طرح سے مرغیوں کے فارم اور بطخوں کے فارم بھی وہیں پر موجود تھے کچھ فاصلے پر پھول پودوں کی نرسری بھی تھی جہاں سے پھول پودے خریدے جا سکتے تھے۔
گاؤں کا چکر لگاتے ہوئے ہم لوگ ایک کیفے میں رک گئے اور شام کی چائے سے لطف اندوز ہونے لگے۔ بھیگتی شام سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے اور تھوڑی دیر میں اندھیرا چھا چکا تھا اب صرف آرام ہی کیا جا سکتا تھا چونکہ اس وقت اس گاؤں میں بالکل ہی ہو کا عالم ہو تھا اور کسی طرح کی تفریح یا سیر سپاٹے کے لیے گاڑی کے ذریعے شہر ہی جایا جا سکتا تھا مگر دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد ہماری اس کی ہمت نہ تھی اور دوسرے دن ہمیں سویرے وہ پن چکی دیکھنے جانا تھا جس کے ذکر سے ہم نے آج کے اس مضمون کا اغاز کیا تھا۔ دوسرے دن صبح سویرے اٹھ کر ہم لوگ ناشتے کے لیے ایک ریستوراں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے تقریبا 10 کلومیٹر دور محل کے عین سامنے ہم لوگوں کو ایک ریستوراں نظر آیا جس میں ہم نے ڈٹ کر ناشتہ کیا اور پھر محل کے باغ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کی پچھلی جانب ہمیں ایک پن چکی نظر آگئی۔ اس پن چکی کا اہم اور چکی کو چلانے والا پہیہ چکی کی عمارت سے باہر کی جانب اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ اسے اوپر کی طرف سے آتے ہوئے پانی کے بہاؤ کے ذریعے حرکت میں لایا جا سکے پہیے کو ایک دھرے کے ذریعے جوڑ کر کمرے کے اندر لایا گیا ہے جہاں اسے مختلف پہیے اور دھرے کی مدد سے مختلف طریقے سے چلاتے ہوئے مختلف کام لیے جاتے ہیں یعنی دھرے کا ایک حصہ مختلف آریوں سے اس طرح سے جوڑا گیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور بھاری بھرکم آرے کی طرح پتھر کو کاٹ سکتے ہوں۔ پتھر کاٹنے کے دوران اٹھنے والے گرد و غبار اور اٹھنے والی جنگاریوں سے بچنے کی کی خاطر خواہ تدبیر کے طور پر اوپر سے پانی کو گرانے کا بندوبست ہے۔ اسی طریقے سے ریت کے ذروں کے استعمال کے ذریعے آریوں کارکردگی کو بڑھایا جاتا تھا اور ایک دوسری مشین میں ایک ایسے دھرے کو جوڑ کر کٹے ہوئے پتھروں کو پالش کیے جانے کا کام لیا جاتا تھا۔ اس مشین کو پن چکی سے چلایا جانے اور اس سے موجودہ دور کی برقی مشینوں کی طرح سے کام لیے جانے کا قدیم طریقہ نہایت دلچسپ اور قابل غور ہے۔
اٹھارویں صدی میں یہ پن چکی میکلن بورگ میں مکمل طور پر فعال تھی۔ جسے سن 1985 سے ایک میوزیم میں بدل کر اسے لوگوں کو چلا کر دکھایا جاتا ہے تاکہ پرانے وقت کی مشینی کارکردگی کا نمونہ پیش کیا جاسکے یہ پن چکی ایک اور “مردار جھیل” نامی جھیل سے منسلک ہے جسے محل کے باغ میں بنایا گیا ہے۔ پن چکی کے پہیے کو چلانے کے لیے اشاریہ پانچ میٹر اونچائی سے نیچے گرتے پانی کی مدد لی جاتی ہے۔ گرنے والا پانی پہیے کو گھماتا ہے۔ پہیے سے منسلک دھرا گھومتا ہے تو مشین کو حرکت میں لاتا ہے۔ موجودہ میوزیم میں پن چکی کو چلانے والا پہیہ ساڑھے
چار میٹر اونچا ہے۔
پن چکی سن 1705 میں ہی تیار ہو گئی تھی اور تب اس سے اناج، باجرے کو ہی پیسا جاتا تھا بعد میں یہاں پر اس کی توسیع کرتے ہوئے اس سے 1747 میں پتھروں کو کاٹنے اور ان کو چکنا کرنے کی پن چکی کا درجہ دے دیا گیا اور محل کے آر کیٹکٹ جارج اڈولف ڈامیلر نے اپنی نگرانی میں یہاں پتھروں کی کٹائی اور ان سے مختلف ٹائلز اور ڈھانچے بنوانے کام کروایا ہے۔
تقریبا” ڈیڑھ گھنٹے تک ہم لوگ میوزیم میں موجود ملر انجینئر سے پن چکی کی کارکردگی پر جامع لیکچر سنتے رہے۔ اور یہاں سے نکل کر برلن کو لوٹ گئے۔
