شرمیلا فاروقی کا پیرس، ہمارا کراچی..نشید آفاقی

کراچی واقعی ایک عجیب شہر ہے۔ یہاں سمندر بھی ہے، شور بھی ہے، زندگی بھی ہے اور مسائل بھی ایسے کہ بندہ کبھی کبھی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ شہر چل کیسے رہا ہے۔ مگر پھر اچانک ایک بیان آتا ہے اور ساری الجھنیں دور ہو جاتی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے فرمایا کہ کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا۔ بس پھر کیا تھا، کراچی کے باسیوں کو ایک دم احساس ہوا کہ وہ تو برسوں سے غلط فہمی میں جی رہے تھے۔
ہم سمجھتے رہے کہ ہم ٹوٹی سڑکوں، پانی کی قلت، ٹریفک کے اژدھام اور لوڈشیڈنگ کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں، مگر اصل میں ہم تو پیرس کی رومانوی فضا میں سانس لے رہے تھے۔ شاید یہ ہماری بصارت کا قصور ہے کہ ہمیں لیاری ایکسپریس وے ‘‘شانزے لیزے’’ نہیں دکھائی دیتا، یا صدر کی گلیاں ہمیں ‘‘ایفل ٹاور’’ کے سائے تلے نہیں لگتیں۔
پیرس، جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے، وہاں کی گلیاں صاف، ٹریفک منظم اور شہری سہولیات بہترین ہیں۔ اور کراچی؟ یہاں روشنیوں کا شہر اب روشنیوں سے زیادہ اندھیروں کی کہانی سناتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس طاقت، وسائل اور مخصوص راستے ہوں تو واقعی کراچی پیرس لگ سکتا ہے۔ یہ وہ پیرس ہے جو صرف چند لوگوں کے لیے مخصوص ہے، جہاں نہ پانی کی لائن ٹوٹتی ہے، نہ بجلی جاتی ہے، نہ کچرا دکھائی دیتا ہے۔
عام آدمی کے لیے کراچی کا ‘‘پیرس’’ کچھ یوں ہے کہ صبح دفتر جانے نکلیں تو سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہوں۔ ٹریفک میں گھنٹوں پھنسے رہیں، اور اگر بارش ہو جائے تو پھر سڑکیں نہر کا منظر پیش کریں۔ ایسے میں اگر کوئی کہے کہ ‘‘آپ پیرس میں رہ رہے ہیں’’ تو بندہ سوچتا ہے کہ شاید ہم نے پیرس کا کوئی متبادل ورژن دیکھ لیا ہے۔
یہ بیان صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ وہ کراچی جو ایئرکنڈیشنڈ گاڑیوں کے شیشوں کے پیچھے سے دیکھا جاتا ہے، اور وہ کراچی جو رکشے، بسوں اور موٹر سائیکلوں پر سفر کرنے والے دیکھتے ہیں، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک کراچی پیرس ہے، دوسرا کراچی حقیقت ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کراچی پیرس ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے شہر کی حالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ یہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے؟ یا ہم اسی طرح بیانات کے سہارے ایک خیالی پیرس میں جیتے رہیں گے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی میں ایک خاص خوبصورتی ہے۔ یہاں کے لوگ محنتی ہیں، یہاں زندگی کی رفتار تیز ہے، یہاں مواقع بھی ہیں۔ مگر اس خوبصورتی کو پیرس سے تشبیہ دینا کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی زخم پر خوشبو لگا کر اسے ٹھیک سمجھ لیا جائے۔
شاید شرمیلا فاروقی کا پیرس وہ کراچی ہے جہاں سڑکیں ہموار ہیں، جہاں پانی وافر ہے، جہاں صفائی کا نظام بہترین ہے۔ مگر یہ کراچی کہاں ہے؟ اگر یہ واقعی موجود ہے تو پھر اسے عوام تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا؟ کیوں ایک عام شہری کو اس ‘‘پیرس’’ تک رسائی نہیں؟
یہ بیان طنز کا دروازہ اس لیے بھی کھولتا ہے کیونکہ عوام اب شعور رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور بیان کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ پیرس کی مثال دینا آسان ہے، مگر کراچی کو واقعی پیرس بنانا مشکل کام ہے، جس کے لیے محنت، منصوبہ بندی اور خلوص درکار ہے۔
اگر واقعی کراچی کو پیرس بنانا ہے تو پھر صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ سڑکوں کو درست کرنا ہوگا، پانی کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، ٹریفک کو کنٹرول کرنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر شہریوں کو وہ عزت دینی ہوگی جس کے وہ حق دار ہیں۔ تب جا کر شاید کوئی یہ کہے کہ کراچی واقعی پیرس جیسا ہے، اور لوگ اس پر ہنسنے کے بجائے فخر کریں۔
فی الحال تو صورتحال یہ ہے کہ کراچی کے باسی جب یہ سنتے ہیں کہ وہ پیرس میں رہ رہے ہیں تو وہ مسکرا دیتے ہیں۔ یہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں، بلکہ اس تلخ حقیقت کی ہے جسے وہ روز جیتے ہیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہ اگر کراچی واقعی پیرس ہے تو پھر ہمیں بھی وہی پیرس دکھا دیں۔ وہ پیرس جہاں زندگی آسان ہو، جہاں سہولیات میسر ہوں، جہاں شہری سکون سے جی سکیں۔ ورنہ ایسے بیانات صرف طنز کا سامان بنتے رہیں گے، اور کراچی بدستور کراچی ہی رہے گا ایک ایسا شہر جو اپنی اصل میں خوبصورت ہے، مگر دعووں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں