اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی

دنیا بھر میں 23 اپریل کا دن کتابوں اور کاپی رائٹ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ، سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل) کے زیرِ اہتمام رشین سینٹر کراچی پاکستان کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل سیمینار بعنوان ‘ خودی، نالج اور کتاب: اقبال اور کتابوں کا عالمی دن گزشتہ روز رشین ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا, اس سیمینار کو اسپرل اور رشین ہاؤس نے 21 اپریل علامہ محمد اقبال رح کے فلسفے اور کتابوں کے عالمی دن کو ساتھ منایا۔سیمینار کی مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم تھیں مہمانِ اعزازی میں رشین سینٹر کے ڈائریکٹر مسٹر رسلان اور کراچی کی نمایاں شخصیت اخلاق احمد تھے ، سیمینار میں ندیم ظفر صدیقی نے بھی شرکت کی۔کراچی کے نمائندہ اداروں اور جامعات کے لائبریرینز نے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کی(یہ مختصر اور مخصوص نشست کا سیمینار تھا جس میں 40 کے قریب سامعین کو شامل کیا گیا)جن میں ڈاکٹر آمنہ خاتون پاکستان لائبریری پروموشن بیورو سینئر لائبریرین ،فرحین محمود گورنمنٹ کالج ناظم آباد ،افشاں خان نیول لائبریری ، نصرت جبیں آئی بی اے کراچی، شمع شہزاد سید زولفقار علی بھٹو لاء لائبریری ، ادیبہ نازحبیب یونیورسٹی ، ثناء افشین سٹی اسکول ، ام حبیبہ ڈاؤ یونیورسٹی کراچی، شہزاد ترین گورنمنٹ اسلامیہ کالج سے، اویس منور علی گورنمنٹ کالج ، عامر سبحانی گورنمنٹ اسلامیہ کالج ، علی احمد درس گورنمنٹ کالج ، صمیم کاردار این ای ڈی یونیورسٹی ، سلمان عابد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ،نزیحہ اسفرین جامعہ کراچی آء سی سی بی ایس ،ثنا رحیم بحریہ یونیورسٹی،جواہر علیم کیٹ یونیورسٹی ، سیدہ عائشہ نقوی سندھ مدرستہ الاسلام ، ڈاکٹر خرم شفیع این ای ڈی یونیورسٹی نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی اسپرل ٹیم جن میں صمیم کاردار ، جواہر علیم اور ربیعہ علی فریدی نے کی ،شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر سعد بن عبد العزیز ، ڈاکٹر آمنہ خاتون ، ندیم ظفر صدیقی ، فرحین محمود ، عامر سبحانی، ثناء افشین، نزیحہ اسفرین اور دیگر شامل تھے، کم عمر عبداللہ خان نے اقبال کی شاعری نہایت خوبصورتی سے پڑھ کر سنائی ، تلاوت قرآن کی سعادت صمیم کاردار نے حاصل کی ، ربیعہ علی فریدی نے اسپرل کی ٹیم کی طرف سے رشین ہاؤس کراچی کا شکریہ ادا کیا اور تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اپنی گفتگو میں ربیعہ نے کتابوں کے عالمی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، ڈائریکٹر مسٹر رسلان پروخروف نے اپنی تقریر میں مہمانوں کو روسی ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں اور ملاقات کے اس موقع پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم کراچی کی لائبریری برادری کے نمائندوں کی میزبانی کر رہے ہیں وہ لوگ جو روزانہ ثقافتی اور فکری ورثے کو محفوظ رکھتے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
روس اور پاکستان کے درمیان ادبی تعاون کی گہری اور روشن بنیادیں موجود ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک کے پاس ادب کی زرخیز روایات ہیں، اور کتابوں، تراجم اور مطالعے کے فروغ کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔
آج کل اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی نوجوانوں کو مطالعے سے دور کر دے گی۔ لیکن تجربہ اس کے برعکس ثابت کرتا ہے: معلومات اور ویڈیو مواد کی کثرت کے باوجود مطالعے میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ بہت سے نوجوان، تیز رفتار
ڈیجیٹل مواد سے تھک کر، معنی، گہرائی اور اندرونی سکون کی تلاش میں دوبارہ کتابوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج لائبریرین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم مل کر اور آپ کی فعال شرکت سے کراچی کے روسی ہاؤس کو نوجوانوں کے لیے ایک مرکزِ کشش اور ایک ایسا “ہب” بنا سکیں گے جہاں وہ اپنی ذات کی تلاش میں ہوں۔
اخبار جہاں اور اسٹار مارکیٹنگ سے تعلق رکھنے والے مشہور رائٹر و جرنلسٹ اخلاق احمد نے اپنی تقریر میں لائبریری کے ارتقاء پر بات کی اور بتایا کے کیسے آنا لائبریری سے لائبریری کی ابتدا ہوئی ، انہوں نے بتایا کے ایک وقت میں استاد کے علاوہ اضافی مدد لائبریرین سے ملتی تھی لوگ ٹیوشن جانے میں قباحت محسوس کرتے تھے کتراتے تھے ، لائبریری صرف علم کا مرکز نہیں بلکہ ایک کمیونٹی حب تھا قومی ورثہ کی حفاظت صرف لائبریریز کرتی تھیں ،لائبریریز ویران ہوئیں تو لائبریرین کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی کے کا کے لیے کام کریں ،آج ٹیکنالوجی کے آ جانے سے لائبریری کلچر ختم نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہی یہ المیہ ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم نے اپنے خطاب میں اقبال کے خودی کے فلسفے پر گفتگو کی ، لائبریریز کے وجود کتب بینی پر سیر حاصل گفتگو کی اپنی شاعری شرکاء کو سنائی اور ماضی کے جھروکوں سے یادوں کا تذکرہ کیا ٹیم اسپرل کا شکریہ ادا کیا پروگرام کے اختتام پر صدر اسپرل اکرام الحق نے اپنا آن لائن خطاب کیا تمام سامعین کو شکریہ اداکیا، کتب بینی پر گفتگو کی رشین سینٹر کے اقدام کو سراہا ڈائریکٹر رشین ہاؤس اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، سعد بن عبدالعزیز نے جو ولڈایکسپو کے چیف آرگنائزر ہونے کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں مئی میں ہونے والے ایجوکیشن وٹیکنالوجی فیر پر بات کی اور مفید مشوروں سے ٹیم اسپرل کو نوازہ۔ پروگرام میں بین الاقوامی لائبریری ماہرین لویڈا گریشیا فیبو اور ڈاکٹر کولنس چیشیتا نے آن لائن خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں لائبریری پروموشن بیورو کی جانب سے کتابیں تقسیم کیں۔ ٹیم اسپرل نے شیلڈز پیش کیں جب کے ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں کتب تقسیم کیں ، رشین ہاؤس کی نمائندہ فریحہ عاقب نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں