بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجنے کا خطرہ، نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے لگی،پاکستان واچ رپورٹ

بھارت اس وقت بظاہر دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے اور عالمی طاقت بننے کے دعوے کر رہا ہے، لیکن دوسری جانب ملک کے اندر ایسے سماجی، سیاسی اور معاشی تضادات موجود ہیں جو مستقبل میں سنگین بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ مودی سرکار گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے خواب دکھا رہی ہے، مگر زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی نظام میں بدانتظامی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویے اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ایسے عوامل ہیں جو بھارتی معاشرے میں بے چینی کو جنم دے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھارت کے نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والی نئی سیاسی اور سماجی تحریکوں نے مودی حکومت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کے ایک گروہ نے نئی دہلی میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بے روزگاری، کرپشن اور نظامی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو یہ تحریک وسیع تر عوامی ردعمل کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

بھارت ایک کثیر النسلی، کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی ملک ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، ذات پات کا نظام اور مذہبی تقسیم پہلے ہی بھارتی معاشرے میں موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ان اختلافات کو کم کرنے کے بجائے بعض مواقع پر انہیں مزید گہرا کیا ہے۔ ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کے مختلف طبقات میں احساس محرومی کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات نوجوان نسل میں بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھارتی نوجوان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ لاکھوں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، لیکن اکثر امتحانات میں تاخیر، انتظامی بے ضابطگیوں یا پیپر لیک جیسے اسکینڈلز کی وجہ سے ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ کئی ریاستوں میں امتحانی نظام پر سوالات اٹھ چکے ہیں اور طلبہ بارہا احتجاج بھی کر چکے ہیں۔

اسی پس منظر میں نوجوانوں کے مختلف گروہ خود کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس عمل کو تیز کیا ہے، جہاں نوجوان اپنے خیالات اور احتجاجی پیغامات تیزی سے پھیلا سکتے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی بعض نئی تحریکیں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ابھرنے والی جین زی سیاسی سرگرمیوں سے بھی متاثر ہیں۔ نیپال، بنگلادیش اور دیگر ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے روایتی سیاست کو چیلنج کرنے کے رجحانات دیکھے گئے ہیں، اور اب اسی نوعیت کی سوچ بھارت میں بھی فروغ پا رہی ہے۔

تحریک کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظام میں اصلاحات کے لیے ہے۔ ان کے مطابق روزگار کی فراہمی، شفاف امتحانی نظام، کرپشن کے خاتمے اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ان کے بنیادی مطالبات ہیں۔ تاہم حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایسی تحریکیں وسیع پیمانے پر مقبول ہو گئیں تو وہ سیاسی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔

بھارت میں بے روزگاری کا مسئلہ خاص طور پر نوجوان طبقے کو متاثر کر رہا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے اکثر “ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر اتنی بڑی نوجوان آبادی کو مناسب تعلیم اور روزگار فراہم نہ کیا گیا تو یہی طاقت ایک سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

کرپشن اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ محنت اور قابلیت کے باوجود انہیں وہ مواقع نہیں ملتے جن کے وہ حق دار ہیں۔ اس احساس محرومی نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی رویوں کو تقویت دی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت کے لیے اصل چیلنج اپوزیشن جماعتیں نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک میں نوجوان طبقہ بڑے پیمانے پر موجودہ نظام سے مایوس ہو جائے تو سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی تحریکوں نے حکومتوں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

بھارت میں بھی یہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیمی مسائل میں کمی نہ آئی تو نوجوانوں کے احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی تحریک کو محدود رکھنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو چکا ہے، کیونکہ معلومات اور پیغامات چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔

مودی سرکار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی توجہ سیاسی نعروں اور انتخابی مہمات پر زیادہ مرکوز رکھی جبکہ نوجوانوں کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ ان کے مطابق ترقی کے دعووں کے باوجود عام نوجوان کی زندگی میں مطلوبہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔

دوسری جانب حکومت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی ترقی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور موجودہ مشکلات وقتی نوعیت کی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کی شکایات کو نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر حکومت نوجوانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لے کر عملی اقدامات کرتی ہے تو حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بے روزگاری، کرپشن، تعلیمی بحران اور سماجی تقسیم کے مسائل جوں کے توں رہے تو آنے والے برسوں میں عوامی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جب یہی نوجوان خود کو نظام سے کٹا ہوا محسوس کرنے لگیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ بھارت میں ابھرنے والی نئی تحریکیں اسی حقیقت کی یاد دہانی کرا رہی ہیں کہ پائیدار ترقی صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام، خصوصاً نوجوانوں کے اعتماد اور اطمینان سے حاصل ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں