وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات نے ملک کے تعلیمی حلقوں، والدین اور طلبہ میں ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کی منظوری کے بعد حکومت اسٹیشنری پر دی جانے والی سیلز ٹیکس رعایت ختم کرکے اسے 18 فیصد تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یکم جولائی 2026 سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل اور دیگر تعلیمی سامان واضح طور پر مہنگا ہو جائے گا۔
یہ تجویز بظاہر ایک تکنیکی مالیاتی فیصلہ معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات صرف اکانٹس یا ریونیو تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہِ راست ہر گھر، ہر طالب علم اور ہر تعلیمی ادارے تک پہنچیں گے۔
تعلیم پہلے ہی دبا و میں
پاکستان میں تعلیم پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ اسکولوں کی کم شرح، معیارِ تعلیم کی کمی، بڑھتی ہوئی فیسیں اور گھریلو آمدنی میں جمود نے تعلیمی نظام کو عام شہری کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر بنیادی تعلیمی سامان ہی مہنگا ہو جائے تو یہ بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
ایک عام گھرانے کے لیے تعلیم صرف فیس تک محدود نہیں ہوتی۔ کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات مل کر ایک بڑا ماہانہ خرچ بناتی ہیں۔ اسٹیشنری کی قیمت میں اضافہ اگرچہ بظاہر معمولی لگے، لیکن جب یہ اضافہ مسلسل اور ہر تعلیمی سیشن میں ہو تو مجموعی بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
متوسط اور غریب طبقے پر اثر
اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔ بڑے شہروں میں رہنے والے خاندان ہوں یا دیہی علاقوں کے والدین، دونوں پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسے میں جب ایک سے زیادہ بچے اسکول میں ہوں تو ہر بچے کی اسٹیشنری ایک لازمی اخراج ہے۔
اگر کاپی، رجسٹر اور دیگر سامان مہنگا ہوتا ہے تو بعض گھرانے ممکن ہے اخراجات کم کرنے کے لیے تعلیمی ضروریات میں کٹوتی کریں۔ اس کا نتیجہ براہِ راست بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور اسکول میں حاضری پر پڑ سکتا ہے۔ یوں ایک مالی فیصلہ تعلیمی ناہمواری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تعلیمی پالیسی میں تضاد
یہ ایک اہم سوال ہے کہ ایک طرف حکومت شرحِ خواندگی بڑھانے، بچوں کو اسکولوں میں لانے اور تعلیم کو فروغ دینے کے دعوے کرتی ہے، اور دوسری طرف تعلیمی ضروریات پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
یہ ایک واضح پالیسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر تعلیم واقعی ترجیح ہے تو پھر اس سے جڑے بنیادی وسائل کو سستا یا کم از کم مستحکم رکھا جانا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تعلیمی سامان پر ٹیکس کم یا صفر رکھا جاتا ہے تاکہ تعلیم کو عام کیا جا سکے۔
اسکولوں اور اداروں پر اثرات
اسٹیشنری کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھروں تک محدود نہیں رہے گا۔ اسکول، کالج، کوچنگ سینٹرز اور حتی کہ دفاتر بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اسکولوں کو امتحانی پرچوں، رجسٹرز اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے زیادہ بجٹ درکار ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر فیسوں میں اضافے کی صورت میں والدین پر ہی پڑے گا۔
اسی طرح چھوٹے پرائیویٹ ادارے بھی اپنی لاگت بڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ یوں یہ ایک ایسا سلسلہ بنے گا جو تعلیم کے پورے نظام میں مہنگائی کو پھیلا دے گا۔
مہنگائی اور معاشی دباو
پاکستان پہلے ہی مہنگائی کے ایک مسلسل دباو کا شکار ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ ایک اضافی جھٹکا ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بنیادی ضروریات مہنگی ہوتی ہیں تو لوگ سب سے پہلے غیر خوراکی اخراجات میں کمی کرتے ہیں، اور بعض اوقات تعلیم بھی اس فہرست میں آ جاتی ہے۔ یہ صورتحال طویل مدت میں انسانی وسائل کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
معاشی پالیسی کا دوسرا پہلو
حکومت کا مقف یہ ہو سکتا ہے کہ ٹیکس استثنا ختم کرکے محصولات بڑھانا ضروری ہے تاکہ مالی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کہاں اور کس پر ڈالا جا رہا ہے۔
اگر ٹیکس پالیسی میں توازن نہ ہو تو اس کے سماجی اثرات معیشت کی بہتری سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دبا کا شکار طبقات پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
متبادل راستے
تعلیمی سامان پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت کے پاس کئی متبادل راستے موجود ہیں۔ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا، بڑے پیمانے پر آمدنی رکھنے والے شعبوں سے بہتر وصولی، اور ٹیکس چوری کے خاتمے جیسے اقدامات زیادہ مثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح تعلیمی شعبے کو سبسڈی دے کر نہ صرف معاشرتی بہتری حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ انسانی سرمائے میں بھی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے، جو کسی بھی ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سماجی اثرات
تعلیم صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سماجی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ تعلیمی اخراجات میں اضافہ نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ مستقبل کے طلبہ کی تعداد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
جب والدین مالی دبا کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے نکالنے یا تعلیم محدود کرنے پر مجبور ہوں تو اس کے اثرات براہِ راست معاشرے میں خواندگی کی شرح اور انسانی ترقی کے اشاریوں پر پڑتے ہیں۔
اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس میں اضافہ بظاہر ایک مالیاتی اصلاح ہو سکتی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات وسیع اور دیرپا ہوں گے۔ تعلیم پہلے ہی مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہے، اور ایسے اقدامات اس خلا کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
بجٹ سازی کا اصل امتحان یہی ہے کہ ریاست اپنی آمدنی کے اہداف اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم رکھے۔ اگر یہ توازن بگڑ گیا تو وقتی ریونیو میں اضافہ شاید حاصل ہو جائے، مگر اس کی قیمت معاشرے کو طویل مدت تک چکانی پڑے گی۔ See less
کتاب، کاپی اور قلم بھی مہنگے؟پاکستان واچ رپورٹ
