کراچی کو اگر محض عمارتوں کا جنگل اور آبادی کا سیلاب سمجھ لیا جائے تو یہ اس شہر کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ شہر روزِ اول سے زبان و ادب، فہم و فکر اور تخلیق کا وہ زندہ استعارہ رہا ہے جہاں سیاست کی گرد کے ساتھ ساتھ لفظوں کے چراغ بھی جلتے ہیں۔ یہاں آرٹس کونسل آف پاکستان جیسے معتبر ادارے ہیں، فنونِ لطیفہ کی جامعات موجود ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ خاموش مگر مسلسل کوششیں ہیں جو ادب کو زندگی سے جوڑے رکھتی ہیں۔ انہی کوششوں میں ایک معتبر نام گل افشاں اور شاہ فہد کی ادبی تنظیم ‘‘ادب دوست’’ کا ہے۔
ادب دوست برسوں سے کراچی میں ادب، شعور اور فکری تربیت کی روایت کو بغیر کسی شور شرابے کے روشن رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو حرف کی حرمت، شاعری کے ذوق اور اظہار کی ذمہ داری سے آشنا کرنا اس تنظیم کا نمایاں وصف ہے۔ یہ سہل گراں قدر دبستان کراچی کی ادبی فضا میں ایک منفرد مثال بن چکا ہے، جہاں ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ تربیتِ ذہن کا وسیلہ بنتا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اہم اور بامعنی کڑی عبداللہ گرلز کالج میں منعقد ہونے والا مشاعرہ تھا، جو محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ نسلِ نو اور شعر کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی کوشش تھی۔ اس مشاعرے کی صدارت پاکستان کے معروف مزاحیہ شاعر خالد عرفان اور نامور استاد و کراچی کی منفرد شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فیاض احمد شاہین نے نہایت سلیقے سے انجام دیے، جو خود بھی ترنم کے بہترین شاعر ہیں۔
مشاعرے کا آغاز کالج کی سالِ اوّل کی طالبہ دعا کی پرسوز نعتِ مقبول سے ہوا، جس نے فضا کو روحانی وقار عطا کیا۔ اس کے بعد سامیہ ناز کو پہلی شاعرہ کے طور پر مدعو کیا گیا۔ پھر ہما عظمیٰ نے اپنا کلام پیش کیا۔ پروفیسر شائستہ سحر کو جب دعوتِ سخن دی گئی تو انہوں نے دھیمے لہجے میں یہ احتجاج ریکارڈ کرایا کہ شاعری کی دنیا میں ان کی پہچان میں کچھ کوتاہی ہوئی ہے، کیوں کہ وہ اس رتبے سے سینئر شاعرہ ہیں۔ تاہم اس احتجاج کے باوجود انہوں نے کلام سنایا اور بھرپور داد سمیٹی۔
ہدایت ساحر نئے طرزِ تکلم کے ساتھ کراچی کے ادبی منچ پر نمودار ہو رہے ہیں۔ ان کے ایک شعر پر خالد معین نے برجستہ ایک جملہ کہا ہدایت
ساحر نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو ‘‘اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی’’ کے مصداق، دوستوں کے طنزیہ نشتر سامنے تھے۔ خالد معین نے صورتِ حال سنبھالتے ہوئے کہا:
‘‘جاری رکھو، نوجوانوں کی ضرورت ہے۔’’
ہدایت ساحر نے اپنا طرز جاری رکھا اور ترنم سے کلام پڑھا اور حاضرین سے داد وصول کی۔
پروفیسر رضوانہ زائد صدیقی کے بعد مشاعرے کی آرگنائزر اور نسائی لب و لہجے کی منفرد شاعرہ گل افشاں نے کلام سنایا۔ گل افشاں اپنی منفرد اور عوامی شاعری کے باعث نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ آج بھی طالبات نے انہیں توجہ سے سنا اور ایک ایک شعر پر داد
دی۔ ڈاکٹر افتخار ملک نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ طالبات کی جانب سے شعر کو سمجھ کر دی جانے والی داد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ ادب دوست کی محنت رنگ لا رہی ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر افتخار ملک ایڈووکیٹ نے کلام پیش کرنے سے قبل نہایت معنی خیز بات کہی کہ:
‘‘ہم مشاعرے کی روایت لے کر کالج کالج جا رہے ہیں، اسی باعث آج بچوں اور شاعری کے درمیان رشتہ قائم ہو چکا ہے۔’’
مختلف کالجوں میں مشاعروں کا انعقاد اور نوجوانوں کی باخبر داد اس بات کا اعلان ہے کہ شعر اب محض اسٹیج تک محدود نہیں رہا بلکہ طالب علموں کے دلوں میں اتر رہا ہے۔
‘‘ہم آپ کے لیے آئے ہیں، اور آپ ہمارے لیے’’ افتخار ملک کا یہ جملہ دراصل اسی ادبی رشتے کا اعتراف تھا جو شعراء اور کراچی کے نونہالوں کے درمیان قائم ہو چکا ہے۔
شہر کے سینئر شاعر و ادیب اور مشاعرے کے مہمان خصوصی خالد معین نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اچھے شعر پر داد دینا اور جوش کا اظہار آپ کا حق ہے، مگر تالیاں بجانا مشاعرے کی روایتی صورت نہیں رہی۔ تاہم آپ نئے وقت کی نمائندہ ہیں، اس لیے یہ شوق بھی پورا کریں، مگر ساتھ ساتھ مشاعرے کی روایت اور آداب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
خالد معین نے موقع کی مناسبت سے اپنا معروف کلام پیش کر کے بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر ہمیں جوانی کے وہ دن یاد آ گئے جب 1989ء میں، ایم اے سالِ دوم ابلاغیات کے امتحانات کی تیاری کے دوران، مسلم لیگ کوارٹرز ناظم آباد میں ایس ایم شجاع عباس کے گھر قیام کے دوران، خالد معین نے پہلی بار یہ کلام سنایا تھا۔ آج جب انہوں نے وہی نظم طالبات کے سامنے پڑھی تو کہا:
‘‘میری بچیوں اور اساتذہ کے لیے یہ دعا ہے’’
رات آنکھوں میں کاٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
بارِ ہجر اٹھانے والو، شاد رہو آباد رہو
کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں
پہلا ساون بھیگنے والو، شاد رہو آباد رہو
اب آئے ہو سارے دیے جب ایک ایک کر کے بجھ بھی گئے
لیکن لوٹ کے آنے والو، شاد رہو آباد رہو
خانہ بدوشی ایک ہنر ہے، رفتہ رفتہ آئے گا
رنجِ مسافت کھینچنے والو، شاد رہو آباد رہو
ایک دریچے سے دو آنکھیں روز صدائیں دیتی ہیں
رات گئے گھر لوٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
ہجر زدوں پر خود نہیں کھلتا کس عالم میں رہتے ہیں
حال ہمارا پوچھنے والو، شاد رہو آباد رہو
پروفیسر رضیہ سبحان قریشی، جو اسی کالج کی سابق پرنسپل رہ چکی ہیں، کلام پیش کرنے سے قبل یادوں کے دریچوں میں کھو گئیں۔ جذبات کے بہاؤ میں طویل گفتگو کے بعد جب گل افشاں نے مسکراتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ
‘‘میڈم، کلاس نہیں، مشاعرہ چل رہا ہے’’
تو انہوں نے کہا:
‘‘میں جذباتی ہو گئی تھی’’
اور پھر یہ شعر پڑھا:
‘‘یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے’’
چند لمحے توقف کے بعد بولیں:
‘‘یہ میرا مہکا ہے، آدھی سے زیادہ عمر یہاں گزاری ہے۔’’
طالبات نے تالیوں کی گونج میں اپنی سابق پرنسپل کو خوش آمدید کہا۔
صدرِ مشاعرہ خالد عرفان نے بھی ماضی کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کالج کی دیواریں ان کے لیے اجنبی نہیں، گرلز کالج بننے سے پہلے یہ بوائز کالج تھا اور وہ خود یہاں طالب علم رہ چکے ہیں۔ یوں یاد، لفظ اور لمحہ ایک ہی اسٹیج پر ہم کلام ہو گئے۔ خالد عرفان کی شاعری نے ہال میں گویا طوفان برپا کر دیا۔ راہداریوں میں کھڑی طالبات بھی ہال میں امڈ آئیں اور ہر مصرع پر داد و شور کا ایسا عالم تھا کہ فضا گونج اٹھی۔ طنز و مزاح کے اس بے تاج بادشاہ نے ایسی یادیں چھوڑیں کہ سامعین مدتوں مسکراتے رہیں گے۔
تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر نصرت شمس ملکانی نے مہمانوں اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کالج اور شعراء کے درمیان یہ خوشگوار تعلق برقرار رکھنے کے لیے سالانہ مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے۔ طالبات کی دلچسپی اس بات کی گواہی تھی کہ اگر خلوص، تسلسل اور مقصد
واضح ہو تو ادب آج بھی نئی نسل کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
کراچی کی ادبی فضا میں ایسے چراغ کم ہی ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو دور تک روشنی دیتے ہیں۔ ادب دوست، گل افشاں، شاہ فہد اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش اسی روشن روایت کا تسلسل ہے،خاموش، مگر دیرپا۔ شاعر خورشید احمد جو تاخیر سے پہنچے مشاعرے کا حصہ نہیں بن سکے کہ جب مجلس صدور مشاعرہ پڑھ رہی تھی تو وہ ہال میں داخل ہوئے انتظامیہ اس شیش و پنچ میں پھنس گئی کہ اب کیا کیا جائے تاہم مجلس صدور سے فیصلہ آیا کہ مشاعرے کی یہ روایت نہیں کہ اب نئے آنے والے کو مشاعرہ پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ پروفیسر انیس زیدی، پروفیسر رخسانہ ناز عنبرین سمیت بڑی تعداد میں معززین شہر اور اساتذہ نے اس مشاعرے میں خصوصی شرکت کی۔
ادبی تنظیم ’’ادب دوست ‘‘ کے زیر اہتمام عبداللہ گرلز کالج میں مشاعرہ رپورٹ :بشیر سدوزئی
