ایف پی سی سی آئی نےایپسوس کے اشتراک سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا پہلا مقامی سروے آئی ٹی اے پی لانچ کردیا

اسلام آباد (کامرس ڈیسک): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ایپسوس کے اشتراک سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا پہلا مقامی سروےانڈیکس آف ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی اِن پاکستان (آئی ٹی اے پی)باضابطہ طور پر لانچ کر دیا۔ اس حوالے سے تقریب ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جو صبح 11 بجے شروع ہوئی۔تقریب کے چیف گیسٹ وفاقی وزیر برائے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹوز احسن اقبال تھے۔ تقریب سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین نے بھی خطاب کیا، جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر، سول سوسائٹی، اکیڈیمیا اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔آئی ٹی اے پی اقدام کا آغاز مئی 2025 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں ٹرانسپیرنسی اور اکاؤنٹیبلیٹی کی پیمائش کے لیے ایک مقامی اور باقاعدہ بینچ مارک تیار کرنا ہے۔ اس سروے کے ذریعے گورنمنٹ اور دیگر اداروں پر عوامی اعتماد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ سروے دسمبر اور جنوری میں مکمل کیا گیا۔سروے نتائج کے مطابق منفی تاثرات کے باوجود شہریوں کی اکثریت نے سرکاری اداروں کے ساتھ اپنے براہِ راست معاملات کو کرپشن فری قرار دیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹرانسپیرنسی کو مضبوط بنانا، آگاہی کے خلا کو پُر کرنا اور ادارہ جاتی بہتری کو مؤثر انداز میں کمیونیکیٹ کرنا آئندہ گورننس، پبلک ٹرسٹ اور پاکستان کے انویسٹمنٹ آؤٹ لک کے لیے نہایت اہم ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایف پی سی سی آئی کو ٹرانسپیرنسی اور اکاؤنٹیبلیٹی جیسے اہم موضوع کو قومی ڈسکورس کا حصہ بنانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی پرسیپشن اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق اگر برقرار رہے تو یہ قومی ترقی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی ٹی اے پی کو مستقل بنیادوں پر ٹریک کیا جائے تو یہ ریفارمز اور مانیٹرنگ کے لیے ایک مؤثر ٹول ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں