بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات…شیخ راشد عالم

جنوبی ایشیا کا خطہ ایک طویل عرصے سے جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان کو جہاں مشرقی سرحد پر روایتی خطرات کا سامنا ہے، وہیں غیر روایتی اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا کردار ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا، جن کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمتِ عملی اور جراتمندانہ اقدامات کے ذریعے ان عزائم کو ناکام بنایا۔
پراکسی وار جدید دور کی ایک پیچیدہ حکمتِ عملی ہے جس میں ریاستیں براہِ راست تصادم کے بجائے مقامی یا سرحد پار عناصر کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر اس امر کی نشاندہی کی کہ بھارتی خفیہ نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کار ملک میں تخریبی کارروائیوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے مربوط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ان نیٹ ورکس کی بیخ کنی کو ترجیح دی۔
انسدادِ دہشت گردی کے بڑے آپریشنز اس جدوجہد کا مرکزی ستون رہے۔ پاک فوج کے آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایسے عناصر بے نقاب ہوئے جو بیرونی سرپرستی میں ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان آپریشنز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی پراکسی ڈھانچے کو برداشت نہیں کریں گی۔
سرحدی نظم و نسق کی بہتری بھی بھارتی پراکسی کے خلاف حکمتِ عملی کا اہم حصہ رہی۔ مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے نظام اور چیک پوسٹس کے قیام نے دراندازی کے امکانات کو محدود کیا۔ اسی طرح لائن آف کنٹرول پر مؤثر دفاعی حکمتِ عملی نے دشمن کی درپردہ سرگرمیوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان اقدامات کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت اور اسلحہ کی ترسیل پر سخت کنٹرول ممکن ہوا۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے پراکسی نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسز اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایسے عناصر کی نشاندہی کی گئی جو بظاہر عام شہری زندگی گزار رہے تھے مگر پس پردہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ بروقت کارروائیوں نے ممکنہ حملوں کو ناکام بنایا اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا۔
بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کا فروغ بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ بھارتی پراکسی کا ایک مقصد مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنا تھا، مگر پاک فوج نے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں معاونت فراہم کر کے عوامی حمایت کو مضبوط کیا۔ جب عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں تو پراکسی نیٹ ورکس کی گنجائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
اطلاعاتی جنگ کے میدان میں بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔ دشمن کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا بروقت جواب دیا گیا۔ شفاف معلومات اور حقائق کی فراہمی نے افواہوں کا توڑ کیا اور قومی بیانیے کو مضبوط بنایا۔ ہائبرڈ وار فیئر کے اس دور میں اطلاعاتی محاذ پر کامیابی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی زمینی محاذ پر۔
سفارتی سطح پر پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے شواہد پیش کیے کہ کس طرح بھارتی پراکسی عناصر خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سفارتی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیوں کا اعتراف بڑھایا۔ بین الاقوامی فورمز پر فعال کردار ادا کرنا بھی قومی سلامتی کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ رہا۔
پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید سازوسامان اور جوانوں کی قربانیاں اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ سیکڑوں افسران اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا بہتر ہوئی ہے اور ترقیاتی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پراکسی کے خلاف جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ قومی سطح کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی اس جنگ کو پائیدار کامیابی تک پہنچانے کے لیے ضروری عناصر ہیں۔ پاک فوج نے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا ہے، اب دیگر اداروں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
مجموعی طور پر بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان مضبوط اور مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ یہی اتحاد اور اعتماد ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی کے ذریعے ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں