جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے
میجر علی رضا نے پْرخلوص انداز میں استقبال کیا، برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹرکا آنکھوں دیکھا احوال پاکستان واچ کی اینکر پرسن کے قلم سے
چھ بجے کی سخت سردی میں جب اسلام آباد کی سڑکیں پیچھے رہنے لگیں تو احساس ہوا کہ یہ سفر محض میلوں کا نہیں، کہانیوں اور قربانیوں کا بھی ہے۔ یہ وہ صبح تھی جس میں گاڑی کا رخ اسلام آباد سے پشاور کی جانب تھا۔ ڈھائی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم پشاور سے چند میل آگے، ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹر پہنچ چکے تھے—ایک ایسی جگہ جہاں خاموشی میں عزم بولتا ہے اور نظم میں طاقت پنہاں ہوتی ہے۔
دروازے پر میجر علی رضا کی پْرخلوص مسکراہٹ نے خوش آمدید کہا۔ ہم بریفنگ روم کی طرف بڑھے، جہاں برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے الفاظ میں ٹھہراؤ تھا اور تجربے کی گونج۔
‘‘غیر روایتی جنگ’’.یہ اصطلاح سنتے ہی میں نے سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر خطے کی زبان، روایات اور ثقافت جدا ہوتی ہے؛ ان نزاکتوں کو وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جو اسی مٹی میں پلا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے خطے میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی ترجیح بنتی ہے.تاکہ دہشت گردوں کی ہر حرکت پر مقامی سطح پر نظر رکھی جا سکے۔
انہوں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مثالیں دیں، اور جرگہ سسٹم کا ذکر کیا جہاں ایف سی اہلکار عوام کے ساتھ بیٹھ کر انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ امن کی جنگ صرف بندوق سے نہیں، تعاون سے جیتی جاتی ہے۔ ‘‘سیکیورٹی فورسز کے بعد سب سے اہم کردار آپ لوگوں کا ہے۔ سہولت کاری رک جائے تو مستقبل محفوظ ہو جائے’’—یہ جملہ کمرے میں دیر تک گونجتا رہا۔
اس کے بعد ہم اسپیسیفک زون تربیتی مرکز کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں نوجوان جدید تقاضوں کے مطابق تربیت پا رہے تھے—وہ تربیت جو بدلتے ہوئے خطرات کا جواب ہے۔ بتایا گیا کہ افغانستان سے دراندازی اور خطے میں عدم استحکام کے تناظر میں، خاص طور پر طالبان کے ہاتھوں جدید اسلحے کے استعمال نے چیلنجز بڑھائے ہیں، جو ریاستہائے متحدہ کے انخلا کے بعد خطے میں پھیلا۔ اسی لیے تربیت میں عملی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور مقامی حساسیت—تینوں کو یکجا رکھا جاتا ہے۔
یہاں روزانہ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی بنیاد رکھی جاتی ہے، مگر اس عزم کے ساتھ کہ مقامی آبادی ہر صورت محفوظ رہے۔ میدان میں دوڑتے، پسینہ بہاتے نوجوانوں کو دیکھ کر دل خودبخود گواہی دیتا ہے کہ امن کوئی سستا تحفہ نہیں؛ یہ مسلسل محنت، ضبط اور قربانی کا حاصل ہے۔
واپسی پر سورج ڈھل رہا تھا، مگر ذہن میں ایک روشن سچ ابھر چکا تھا: امن کے چراغ وردی کی جیب میں نہیں، عوام کے دل میں جلتے ہیں۔
ص جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے۔






