صوبائی وزیر نے 4 خطرناک کتے پال لئے، سائلین ڈرکر سہم جاتے ہیں

کراچی (آغاخالد)یہ چڑیا گھر نہیں؟ کسی مل مالک کا گھر یا فارم ہائوس بھی نہیں پھر یہ اتنا مہنگا اور خوں خوار کتا آخر کس کا ہے؟؟؟
یہ کروڑوں کا سوال ہے جسے سن کر محترم بلاول بھٹو محترمہ آصفہ بھٹو اور جناب صدر مملکت بھی حیران و پریشان ضرور ہوں گے کہ یہ لاکھوں مالیت کا کتا ان کے ایک معصوم سے نظر آنے والے صوبائی وزیر جناب سعید غنی کے شوق شہنشاہی کا حصہ ہے ایک نہیں دو نہیں جناب سعید غنی نے ایسے 4 کتے پال رکھے ہیں کتے پالنے والے خان پور پنجاب کے ماہر اسلم رانجھن کے بقول اس ایک کتے کی مالیت 50 لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے وزیر موصوف کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ یہ چاروں کتے انہوں نے تین تلوار کلفٹن سے متصل اپنے کیمپ آفس میں باندھ رکھے ہیں کیمپ آفس کے احاطہ میں ایک لوہے کے مضبوط جنگلے کے دوسری طرف موجود یہ کتا کیمپ آفس میں داخل ہونے والے ہر سائل پر جھپٹ نے کے انداز میں بھونکتا ہے تو سائل کی آدھی جان تو وہیں نکل جاتی ہے اس کے بھونک نے پر کیمپ آفس کے اندر بندھے مزید 3 کتے جو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں بھونک نے لگتے ہیں جس سے خوف کا سماں پیدا ہو جاتاہے ان کتوں کے رکھوالے سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر موصوف کو کوئی خطرہ ہے جو اتنے خطرناک کتے انہوں نے اپنے کیمپ آفس میں باندھ رکھے ہیں تو اس معصوم شخص نے جواب دیا، ارے نہیں۔۔ صاحب کا یہ شوق ہے، پھر وہ بڑی سادگی سے بولا بڑے لوگوں کے شوق نرالے ہوتے ہیں صاحب ،یہاں اس کی تفصیل بیان نہیں کرسکتا کہ سعید غنی کے والد محترم عثمان غنی اپنے دور کے قلندر تھے وہ ایک بینک کی یونین کے معروف اور اصولوں پر ڈٹ جانے والے عظیم مزدور رہنما تھے لاکھوں کا یونین کا بجٹ ہونے کے باوجود کالا پل کے ساتھ ایک گوٹھ جو کچی آبادی میں شمار ہوتا تھا رہے ان کے پائوں میں کبھی کراچی کے صحافیوں نے نئی یا ڈھنگ کی جوتی نہیں دیکھی مگر اخلاقیات فولادی ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بینک کی نجکاری کے خلاف وقت کے حکمرانوں کو للکارا اور جیل بھی گئے مگر موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے آج بیٹے ڈیفنس میں کیسے رہتے ہیں یہ کبھی پھر سہی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں