عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں اور پاکستان کا مثبت کردار…..شیخ راشد عالم

اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو یک قطبی نظام قائم ہوا تھا، اب وہ بتدریج کثیر قطبی دنیا میں ڈھل رہا ہے۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں، اتحاد نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں اور مفادات کی بنیاد پر عالمی صف بندیاں ازسرِنو مرتب ہو رہی ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، خصوصاً ایران ،امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی فضا نے عالمی سیاست کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل عالمی جنگ کی صورت اختیار نہیں کر سکی، تاہم اس کے اثرات عالمی صف بندیوں پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت نے عالمی سیاست کو نئی جہت دی۔ چین تیزی سے معاشی اور عسکری طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ روس، یوکرین تنازع کے بعد مغربی اتحاد کے مقابل ایک نمایاں کردار میں سامنے آیا۔ یوں دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن مختلف خطوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سب اس نئی ترتیب کا حصہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ کشمکش، اور اس میں امریکہ کی شمولیت یا حمایت، نے کئی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں ایک طرف اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحت امریکہ سے روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب چین اور روس کے ساتھ معاشی تعاون بھی بڑھا رہی ہیں۔ یہ توازن کی پالیسی دراصل نئی عالمی صف بندیوں کی علامت ہے جہاں ریاستیں کسی ایک بلاک میں مکمل طور پر شامل ہونے کے بجائے مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کر رہی ہیں۔
معاشی میدان میں بھی تبدیلی واضح ہے۔ BRICS جیسے اتحاد عالمی مالیاتی نظام میں متبادل بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ توانائی کے معاہدے، مقامی کرنسیوں میں تجارت، اور علاقائی تعاون کے نئے ماڈلز سامنے آ رہے ہیں۔ توانائی کی سیاست خصوصاً ایران اور خلیجی خطے کی صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے خدشات نے عالمی منڈیوں کو محتاط بنا دیا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون اور سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کو علاقائی رابطوں کا مرکز بناتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سفارتی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان نہ تو کسی تصادم کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی بلاک کی اندھی حمایت کرنا اس کی پالیسی ہے۔ یہی طرزِ عمل اسے ایک ذمہ دار اور تعمیری ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے قیام میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کی شمولیت عالمی برادری میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانا، ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل پر مؤثر سفارت کاری کرنا، اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنا پاکستان کی تعمیری سوچ کا مظہر ہے۔
نئی عالمی صف بندیوں میں معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی معیشت کو مضبوط کرے، برآمدات میں اضافہ کرے اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دے تو وہ عالمی نظام میں زیادہ باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔ نوجوان آبادی، آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسنگ کے شعبے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا فعال حصہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی اور زراعت میں خود کفالت پاکستان کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت جذباتی ردعمل کے بجائے تدبر اور حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے مابین تناؤ، ایک حساس معاملہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امن، مذاکرات اور علاقائی ہم آہنگی کی حمایت جاری رکھے۔ یہی پالیسی اسے تنازعات سے دور رکھتے ہوئے عالمی برادری میں ایک مثبت اور متوازن قوت کے طور پر ابھار سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ایک ناگزیر حقیقت ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے اس عمل کو تیز ضرور کیا ہے، مگر اس کے باوجود دنیا مکمل تقسیم کی طرف نہیں بلکہ مفادات کے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی بصیرت اور قومی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت، تعمیری اور باوقار کردار ادا کرے۔ اگر ہم داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن خارجہ پالیسی کو یقینی بنائیں تو بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان نہ صرف محفوظ رہے گا بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی ہموار کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں