کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟نشید آفاقی

آج کا دور رفتار کا دور ہے۔ معلومات کی رفتار، رابطوں کی رفتار اور زندگی کے معمولات کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسان کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا ہے جہاں ہر خبر، ہر خیال اور ہر تصویر چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتی ہے۔ اس تیز رفتار دور میں ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اب انسان کی زندگی میں پہلے جیسی جگہ نہیں رکھتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتاب آج بھی وہی طاقت رکھتی ہے جو صدیوں پہلے رکھتی تھی، بلکہ ٹیکنالوجی کے اس ہجوم میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
کتاب صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کی سوچ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اسے نئے زاویوں سے دنیا کو دیکھنے کا موقع دیتی ہے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کو وسعت دیتی ہے۔ سوشل میڈیا یا مختصر ویڈیوز انسان کو چند لمحوں کی معلومات تو دے سکتی ہیں، لیکن وہ گہرائی نہیں دے سکتیں جو ایک کتاب دیتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا انسان زیادہ صبر والا، زیادہ غور و فکر کرنے والا اور زیادہ وسیع النظر ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی شخصیات کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ان میں ایک مشترک بات نظر آتی ہے کہ وہ سب مطالعہ کے شوقین تھے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں کتابوں سے دوری ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہاہے۔ نئی نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ کتاب ہاتھ میں لینا اب بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مشکل اور بورنگ کام بن گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اکثر طلبہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نصابی کتابیں پڑھتے ہیں، جبکہ غیر نصابی مطالعہ کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن گہری سوچ اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔
کتابوں سے دوری کا اثر صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ معاشرے کی فکری سطح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو جائے تو وہاں تخلیقی سوچ بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ نئی سوچ، نئے خیالات اور نئی ایجادات کا تعلق براہ راست مطالعہ اور تحقیق سے ہوتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کتابوں سے دور ہو جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں آج بھی کتاب اور مطالعہ کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابی شوق خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار گھر اور تعلیمی اداروں کا ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو بچپن سے ہی کہانیاں سنائی جائیں، انہیں رنگین اور دلچسپ کتابیں دی جائیں اور گھر میں کتاب پڑھنے کا ماحول ہو تو ان کے اندر مطالعہ کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ والدین اگر خود کتاب پڑھتے ہوں تو بچے بھی اس عادت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں لائبریریوں کو فعال بنانا اور طلبہ کو نصابی کتابوں کے علاوہ بھی مطالعہ کی ترغیب دینا ضروری ہے۔
آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب کو جدید طریقوں سے نوجوانوں تک پہنچایا جائے۔ اگرچہ روایتی کتاب کی اپنی ایک خوشبو اور کشش ہوتی ہے، لیکن ای بک اور آڈیو بک جیسی سہولیات بھی مطالعہ کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کو کتاب کا دشمن بنانے کے بجائے اسے کتاب کا ساتھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوان موبائل فون پر گھنٹوں وقت گزار سکتے ہیں تو اسی موبائل پر اچھی کتابیں پڑھنے کی عادت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
مغربی ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں ٹیکنالوجی ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے، لیکن اس کے باوجود کتاب کا شوق ختم نہیں ہوا۔ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں عوامی لائبریریاں آج بھی لوگوں سے بھری رہتی ہیں۔ بچوں کے لیے خصوصی ریڈنگ پروگرام ہوتے ہیں، اسکولوں میں کتاب پڑھنے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور والدین بچوں کو چھوٹی عمر سے کہانیاں سناتے ہیں۔ وہاں مطالعہ کو صرف تعلیم کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کی ایک خوشگوار سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔
مغرب میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مصنفین اور کتابوں کو بہت احترام دیا جاتا ہے۔ نئی کتاب شائع ہونے پر تقریبات منعقد ہوتی ہیں، مصنفین کے ساتھ ملاقات کے پروگرام ہوتے ہیں اور لوگ شوق سے کتابیں خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کتابی صنعت بھی بہت مضبوط ہے اور نوجوان نسل میں مطالعہ کی عادت برقرار ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں لائبریریاں کم ہوتی جا رہی ہیں اور کتاب خریدنے کا رجحان بھی محدود ہوتا جا رہا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل زیادہ باشعور، تخلیقی اور باصلاحیت ہو تو ہمیں انہیں کتاب سے جوڑنا ہوگا۔ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کتاب انسان کو وہ بصیرت دیتی ہے جو مختصر معلومات یا سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ کتابیں صرف کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ یہ خیالات، تجربات اور دانش کا خزانہ ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا کرتی ہے جو اسے بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی سوچ بدل سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی اگر کوئی چیز انسان کو گہرائی سے سوچنے، سمجھنے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت دیتی ہے تو وہ کتاب ہی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف ان کی سوچ وسیع ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی فکری طور پر زیادہ مضبوط اور روشن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں