ایران ،امریکا ،اسرائیل جنگ،ٹرمپ کو خوش کرنا کیا جرمنی کی مجبوری ہے؟تحریر سرور غزالی

برطانوی وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تشویش ظاہر کی
تیل کی بلند قیمتیں، گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں

جنگ ہمیشہ ہی قتل و غارت گری اور انانیت کی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں ہوا کرتی۔ اور جنگ کے بعد کے مقاصد جس پر آج کل یورپ میں بحث چھڑ گئی ہے، میرے نزدیک اور کچھ نہیں ہوتے ما سوائے اس کے کہ لوٹ مار اور انسانوں کی بے حرمتی کی جائے۔ جنگ کیے جانے کا واحد مقصد دشمن کو زیر کر کے اس سے مال غنیمت چھیننا ہوتا ہے۔ یہ جنگ مال غنیمت کے حصول کے لیے ہی کی جاتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ اس میں ہر دور میں مال غنیمت کا تعین مختلف ہوا کرتا ہے۔
جب جنگ دو فرقوں میں چھڑ جائے اور یہ جنگ حق و باطل کی ہو جس میں ایک حملہ آور ہو اور دوسرا اپنا دفاع کرنے والا ہو، تو پھر اس میں غیر جانبدار ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اور ایسی غیر جانبداری بھی درحقیقت حملہ آور کی پشت پناہی ہوتی ہے کہ جس میں تیسرا فرد زبان سے بھی حملہ آور کو حملہ آور کہنے سے گریز کرے۔
موجودہ امریکی اسرائیلی جاریت جو ایران کے خلاف جاری ہے اس میں غیر جانبدار نہیں رہا جا سکتا کم از کم غیر جانبدارانہ بیانیہ تو بالکل ہی اختیار نہیں کیا جا سکتا چونکہ یہ صریحا” بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے قوانین اور بین الاقوامی سرحدوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی آزادی خودمختار ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ بات ایسی صورت میں اور بھی زیادہ واضح اور قابل مذمت ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات چل رہے تھے اور یہ بات بھی خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس سے قبل کے بیان میں کہہ دیا تھا کہ ایران پر پچھلے حملے کے بعد اس کی ایٹمی افزدگی کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان ساری صورتحال میں ایران پر جنگ مسلط کیا جانا اور اس کی یہ توجیع پیش کرنا کہ ایران کے ایٹم بم سے دنیا کو خطرہ ہے، ایک ایسا جھوٹ ہے جس پر دنیا میں کسی کو بھی یقین نہیں آیا ہے۔ یورپی ممالک کے جو سربراہان اس کھلی جھوٹی کہانی پر یقین کرتے ہوئے ایران کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے جوابی حملے بند کر دے وہ یقینا آئینے میں اپنا منہ نہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک دوسرا بہانہ اس جنگ کو شروع کرنے کے سلسلے میں جو گھڑا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایران کی حکومت اپنے عوام کی آزادانہ رائے دہی کے حقوق سلب کر رہی ہے اور انہیں عوامی احتجاج پر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ یعنی ایران میں بہتر جمہوری حکومت کی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر ایرانی حکومت کی تبدیلی کی کوشش کو وجہ جنگ بنایا جا رہا ہے تو یہ بات جتنی درست ہے کہ ایران کو یقینی طور پر ایک آئینی جمہوری آزادانہ حقوق پر یقین رکھنے والی حکومت کی ضرورت ہے تو موجودہ صورتحال میں اس کی اس سے بھی زیادہ شدید ضرورت اسرائیل اور امریکہ کے شہریوں کو ہے چونکہ ایرانی معاملات کے اثرات صرف اندرونی ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے اندرونی معاملات کے اثرات ساری دنیا پر پھیلتے نظر آرہے ہیں ان کی ڈکٹیٹرانہ حکومت سے ساری دنیا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایرانی عوام پر اس طرح بے تحاشہ بمباری اس ملک کے عوام کو کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ ان کی زندگی کو مزید اجیرن کیا جا رہا ہے اور اسے جنگ کی وجہ بتانا دراصل انتہا درجے کی غیر ذمہ دارانہ، بہیمانہ عمل ہے۔
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائی کے آغاز سے قبل جس طرح سے دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان، سربراہ حکومت اور اہم شخصیات ایپسٹین فائیلز کے اسکینڈلز سے اپنی شہرت گنوا رہے تھے اور جس طرح جنگ چھڑنے کے بعد ساری توجہ جنگ کی طرف مبذول ہوکر ایپسٹین اسکینڈلز سے ہٹ گئی ہے۔ اس سے عوام میں یہ شبہ بھی سر اٹھارہا ہے کہ یہ جنگ دراصل اس اسکینڈلز کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے ہی شروع ہوئی ہے۔
اس جنگ کے بارے میں یورپین یونین میں بھی آپس میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ جرمنی کے چانسلر میرز مکمل طریقے سے اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں انہوں نے اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی ملکی سا لمیت کے حقوق کے بارے میں بھی ایک ایسا متنازعہ بیان دیا ہے کہ جس سے ایران کی سورنٹی، خودمختاری پر ضرب لگی ہے انہوں نے اسرائیلی امریکی جارحیت کا ذکر کیے بغیر ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے دفاع میں کیے جانے والے حملے کو بند کر دیں اس کے علاوہ انہوں نے اس جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک ملاقات میں اپنے اس حتمی تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ اس امریکی جنگ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے شہر رمسٹائن بھی موجود امریکی اڈے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی امریکیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
جب سے جنگ کے آغاز پر ہی اسرائیلی کا سرکاری صدارتی ہوائی جہاز برلن کے ایئرپورٹ پر اترا ہے تو اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے قیام اور ان کی صحت کے متعلق بھی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ اسرائیلی سرکاری پریس کانفرنس اس سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کرنا اور اسرائیلی صدر کا خود پردہ سیمی پر نہ آنا اور ان کے کسی بھی بیان کا سامنے نہ آنا بھی شکوک پیدا کررہے ہیں۔ سرکاری طور پر صرف یہ اعلان کیا گیا کہ طیارے کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے طور پر برلن لایا گیا ہے۔ جوکہ ایک مبہم سی توجیع ہے۔ جرمنی کا اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے اقدام کا اس طرح سے مکمل اور بھرپور ساتھ دینا دراصل یہودی قوم کے ساتھ جرمنی کا عالمی جنگ دوم کے دوران ناروا سلوک کی تلافی ایک وجہ ہے جب کہ دوسری وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیسری وجہ جرمنی کی بگڑتی معاشی صورتحال میں جرمنی کی اپنی اسلحے کی پیداوار کو بھی بڑھانے کی کو شش ہے۔ امریکی اسرائیلی جنگ سے خود کو الگ کرکے برطانوی وزیراعظم اسٹامر نے کھل کر ٹرمپ سے ناراضگی مول لی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ برطانیہ از خود یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ جنگ میں اس کو بھی کودنا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر جنگ کے بارے میں گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی غیر جمہوری رویے اور عوامی قید و بند اور آزادی اظہار رائے کی پابندی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
فرانس کا بھی یہی حال ہے ایک طرف جنگ کو غیر ضروری قرار دے کر اس کی ساری ذمہ داری ایران پر تھوپ دی ہے۔ یہ دونوں ممالک کسی وقت بھی اس جنگ میں ایران کے حلیف بن سکتے ہیں خاص کر جب اس مشرق وسطی کے اڈے غیر محفوظ ہونے جارہا ہوں۔
ناروے نے بھی جنگ کی مخالفت کی ہے۔ سب واضح اور مثبت رویہ جو سامنے آیا ہے وہ ہسپانوی حکومت کا۔ اس کے صدر سانچیز نے دوٹوک لفظوں میں جنگ کی مخالفت کی ہے۔ اور اپنے ملک میں قائم امریکی اڈوں کے استعمال کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔ ڈونلڈ
ٹرمپ نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کا بھی کم و بیش یہ رویہ ہے کہ یہ جنگ غیر انسانی، غیر قانونی اور عالمی سلامتی کونسل سے مشورہ کیے بغیر شروع ہوئی ہے۔
جرمنی کے چانسلر میئرز کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا ہو یا مکرون کا بیان یورپی یونین اور یورپ کی اہمیت ڈونلڈٹرمپ کے یورپی ممالک سے اختلافات اور خاص کر یوکرین کی جنگ کے معاملے پر نا اتفاقی نے یورپ کی اہمیت گلوبل پولیٹکس میں بہت کم کر دی ہے۔ دوسری طرف روس سے جنگ اور اس کے نتیجے میں تجارتی بندش تیل و گیس کی عدم دستیابی کی موجودہ صورتحال میں ایران سے جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا۔ گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان اور آزمائش ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ مگر بھاری تباہی کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں ہی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ اس جنگ کا رخ کس طرف مڑتا ہے اور کیا کیا تباہیاں آتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں