شہر میں اربوں روپے کی لاگت سے نصب ہونے والے ای چالان سسٹم کا حالیہ معاملہ نہ صرف عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ حکومتی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی ایک بس کا چالان عدالت میں چیلنج کیا گیا، جہاں بس کے مالک اور ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد نے اپنے وکیل منصف جان ایڈووکیٹ کے ذریعے موقف اختیار کیا کہ بس میں حد رفتار میٹر120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ شہر میں نصب کیمروں نے دوران ڈرائیونگ گاڑی کی رفتار160کلومیٹر فی گھنٹہ ظاہر کی۔
یہ معاملہ بظاہر ٹریفک کی معمولی خلاف ورزی لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی اہم پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے نصب شدہ ای چالان سسٹم کس حد تک درست اور قابل اعتماد ہے۔ اگر سسٹم میں ایسی خامیاں ہیں کہ یہ حقیقی رفتار کو غلط دکھا رہا ہے، تو اس کا استعمال نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ قانونی تنازعات کو بھی جنم دے گا۔
ای چالان سسٹم بنیادی طور پر جدید کیمرے اور ٹریکنگ ڈیوائسز پر مبنی ہوتا ہے جو گاڑیوں کی رفتار، نمبر پلیٹ اور دیگر ضروری معلومات ریکارڈ کرتے ہیں۔ تاہم، ہر ٹیکنالوجی کی طرح اس سسٹم میں بھی حدود اور خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ بس کے مالک کی عدالت میں دعویٰ کہ بس کی حد رفتار120کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، ایک فنی حقیقت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کیمروں یا سسٹم میں کوئی خرابی ہو سکتی ہے جس کے باعث حقیقی رفتار سے زیادہ ظاہر کی گئی۔
یہ معاملہ صرف ایک بس تک محدود نہیں۔ اگر اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم درستگی میں کمی رکھتا ہے تو اس کا اثر پورے شہر کی ٹریفک انتظامیہ اور عوام کے اعتماد پر پڑ سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غلط چالانوں کی زد میں آ سکتے ہیں اور یہ نظام صرف آمدنی کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔
عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے شہری حقوق اور قانونی انصاف کے پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ فاروق احمد کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ حکام کی جانب سے نصب کیمروں اور گاڑیوں کی رفتار کو مانیٹر کرنے والے ٹریکنگ سسٹم کی غیر جانب دار ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ یہ قانونی تقاضا نہ صرف بس مالک کے حق میں بلکہ عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ شہریوں کا حق ہے کہ وہ اس نظام کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔
عوامی اعتماد کسی بھی ٹیکنالوجی یا حکومتی پروگرام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ ای چالان سسٹم میں خامیاں سامنے آتی ہیں، تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ حکومتی مشینری کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی درستگی کو یقینی بنائے بلکہ شفاف طریقے سے شہریوں کو آگاہ کرے کہ یہ سسٹم کس حد تک قابل اعتماد ہے۔
یہ کیس ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ شہر میں نصب ای چالان سسٹم کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جائے۔ غیر جانب دار ماہرین کی ٹیم سسٹم کی ٹیکنالوجی، کیمروں اور ٹریکنگ ڈیوائسز کی درستگی کی جانچ کرے، اور اگر کوئی خامی پائی جائے تو فوری اصلاحات کی جائیں۔ ساتھ ہی عوام کو اس سسٹم کی حدود اور درستگی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ شہری اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی غلط چالان کی صورت میں مناسب قانونی کارروائی کر سکیں۔
یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی یا قانونی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ عوامی شعور اور ٹریفک نظم کے لیے بھی اہم ہے۔ عوام کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا لازمی ہے کہ جو جرمانے لگائے جا رہے ہیں وہ درست اور شفاف ہوں۔ شہری اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھا سکتے ہیں اور کسی بھی شکایتی معاملے میں عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کر سکتے ہیں۔
آخرکار، شہر میں نصب اربوں روپے کے ای چالان سسٹم کا یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ شفافیت، درستگی اور شہری حقوق کی حفاظت بھی لازمی ہے۔ عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ نظام حقیقی اور قابل اعتماد ہے یا اس میں خامیاں موجود ہیں جو شہریوں کے حقوق کو متاثر کر رہی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ حکومتی حکام نہ صرف اس سسٹم کی تکنیکی جانچ کریں بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ شہری یقین رکھ سکیں کہ ان کے خلاف کوئی غلط چالان نہیں جاری کیا جائے گا۔ شفافیت اور درستگی کے بغیر کوئی بھی ٹیکنالوجی صرف پیچیدہ اور متنازعہ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ عدالت کی مداخلت ایک مثبت اور ضروری قدم ہے جو شہریوں کے حقوق اور ٹریفک نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آخر میں، اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم عوامی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ شک اور غلط چالان کے لیے۔ شہری، حکومت، اور عدالت سب کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو عوامی بھروسے کے قابل بنائیں تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور ٹریفک نظام موثر اور شفاف طریقے سے کام کر سکے۔
ای چالان سسٹم پر پھرسوالیہ نشان، بس کا چالان عدالت میں چیلنج…نشید آفاقی
