​عالمی مالیاتی بساط پر پوتن کا ‘چیک میٹ’: ڈالر کے زوال اور نئے ‘گولڈ سٹینڈرڈ’ کا آغاز…تحریر: شیخ راشد عالم

​ ایک نئی معاشی سرد جنگ کا آغاز ، ​جب دنیا کی نظریں واشنگٹن میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور صدر ٹرمپ کے فاتحانہ بیانات پر جمی تھیں، کرملین میں ایک ایسی دستاویز پر دستخط کیے گئے جس نے خاموشی سے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے یکم مئی 2026 سے روس سے ‘ریفائنڈ گولڈ بارز’ کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں، بلکہ ‘ڈی-ڈالرائزیشن’ (De-dollarization) کے تابوت میں وہ آخری کیل ہے جس کا انتظار عرصہ دراز سے کیا جا رہا تھا۔
​روسی معیشت کا فولادی قلعہ (The Gold Fortress)
​روس، جو دنیا کا دوسرا بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے، اب اپنی سالانہ 310 ٹن سے زائد پیداوار کو عالمی منڈی میں جھونکنے کے بجائے اپنے ہی ‘خودمختار اثاثوں’ (Sovereign Assets) میں محفوظ کر رہا ہے۔
​ روسی سینٹرل بینک نے حکمت عملی کے تحت سال کے آغاز میں بلند ترین قیمتوں پر سونا فروخت کر کے اربوں ڈالر کمائے اور اب سپلائی روک کر عالمی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
​اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ 74.3 ملین اونس سونے کے ذخائر کے ساتھ، روس اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی کرنسی ‘روبل’ کو ٹھوس اثاثوں کی پشت پناہی دے کر مغربی پابندیوں کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کر دے۔
​برکس (BRICS) اور ‘یونٹ’ کرنسی کا ظہور
​اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو اکتوبر 2025 میں لانچ ہونے والا BRICS Unit نظام ہے۔ یہ نیا مالیاتی بلاک ایک ایسی کرنسی پر کام کر رہا ہے جو امریکی ڈالر کی طرح صرف ‘اعتبار’ پر نہیں، بلکہ 40 فیصد سونے اور 60 فیصد برکس ممالک کی مقامی کرنسیوں پر مبنی ہے۔
​پوتن کا سونے کو سرحدوں کے اندر ‘لاک’ کرنا دراصل برکس کے تجارتی نظام کے لیے ایک ‘کولیٹرل’ (ضمانت) فراہم کرنا ہے۔ جب تجارت سونے کی بنیاد پر ہوگی، تو ڈالر کی مصنوعی طلب خود بخود ختم ہو جائے گی۔
​ہرمز سے ماسکو تک: ایک نیا تجارتی سرکٹ
​مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز میں چینی یوآن میں ٹول کی وصولی نے اس سرکٹ کو مکمل کر دیا ہے۔
​انرجی کنٹرول پالیسی کے تحت ایران نے تیل کی ادائیگیوں کو غیر-ڈالر چینلز پر منتقل کیا۔
​جبکہ روس نے اس تجارتی سرکٹ کو سونے کی مضبوطی اور ضمانت فراہم کی۔
جس کے نتیجے میں ​بظاہر ‘پیٹرو ڈالر’ (Petrodollar) کا وہ دور ختم ہو رہا ہے جس نے نصف صدی تک امریکہ کو عالمی معیشت کا بے تاج بادشاہ بنائے رکھا۔
​عالمی منظر نامے میں تیزی سے رونما ہونے والی ان تبدیلیوں سے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل کی ‘نیشن برانڈنگ’ صرف اشتہارات سے نہیں، بلکہ ‘اکنامک ریزیلینس’ (Economic Resilience) سے وابستہ ہے۔
​پاکستان جیسے ممالک جو اس وقت ڈالر کے بوجھ تلے دبے ہیں، ان کے لیے یہ ایک تزویراتی (Strategic) اشارہ ہے کہ دنیا ‘کاغذی معیشت’ سے نکل کر ‘حقیقی اثاثوں’ (Real Assets) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ہمیں بھی اپنی معاشی پالیسیوں میں تنوع لانے اور ابھرتے ہوئے برکس بلاک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی غلامی کے طوق سے آزاد ہو سکیں۔
​صدر ٹرمپ کی ‘فتح’ کے غلغلے میں پوتن کا یہ خاموش حملہ ثابت کرتا ہے کہ اصل طاقت اب اسلحے کے انبار میں نہیں، بلکہ انبار شدہ سونے اور توانائی کے کنٹرول میں ہے۔ عالمی معیشت کا نیا سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے، اور جو قومیں اس تبدیلی کو بروقت بھانپ لیں گی، وہی مستقبل کے نقشے پر پائیدار معاشی استحکام حاصل کر پائیں گی۔ـــ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں