پی ٹی آئی کا ایک اور بڑا یوٹرن؟ جس کو کل تک پی ٹی آئی کالا قانون قرار دیتی تھی اب اس کے تحت عظمیٰ بخآری کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل،
پی ٹی آئی کی جانب سے عظمیٰ بخاری کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے چیئرمین پیمرا اور ڈائریکٹر جنرل این سی سی سی کو خط بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خط لکھنے کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ وہی قانون جسے ماضی میں “کالا قانون” کہا جاتا تھا، اب اسی کے تحت کارروائی کا مطالبہ پارٹی کے اندر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے واٹس ایپ گروپس میں اس معاملے پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے اندرونی کشیدگی واضح ہو گئی ہے۔
خط کے متن کے مطابق یہ اقدام دانستہ اور مسلسل غلط معلومات پھیلانے کی مہم کے ردِعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مہم ٹاک شوز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے چلائی گئی، جس میں قاسم خان کے مطابق چھوٹے الزامات کو بڑھا چڑھا کر حقائق کے طور پر پیش کیا گیا۔
بعد ازاں ان بیانات کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا، جس کے نتیجے میں غیر مصدقہ دعوے ملک گیر بیانیہ بن گئے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس خط کا متن تیار کیا۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ پی ٹی آئی کا واضح یوٹرن ہے یا بدلتی سیاسی حکمت عملی کا حصہ
پی ٹی آئی کا پیکا ایکٹ پر یوٹرن؟ عظمیٰ بخاری کے خلاف کارروائی کی تیاری،رپورٹ: بےنظیر مہدی رضوی
