پیٹرول سستا، مگر حکومت کا ادھورا ریلیف ،عوام پھر بھی پریشان….نشید آفاقی

حکومت کی جانب سے گزشتہ رات پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کی نمایاں کمی کا اعلان بظاہر ایک بڑا اور خوش آئند قدم محسوس ہوا۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کے لیے یہ خبر کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھی۔ سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا، لوگوں نے اسے ایک بڑا ریلیف قرار دیا، اور کئی شہریوں نے طویل عرصے بعد سکون کا سانس لیا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ جیسے ہی حقیقت کا دوسرا پہلو سامنے آیا—یعنی ڈیزل کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی—تو یہ ریلیف ادھورا محسوس ہونے لگا۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معیشت کا بڑا حصہ زمینی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتا ہے، ڈیزل کی اہمیت پیٹرول سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں اور مال بردار گاڑیوں کا زیادہ تر دارومدار ڈیزل پر ہوتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو شہروں سے دیہات اور بندرگاہوں سے منڈیوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ ایسے میں اگر پیٹرول سستا ہو جائے مگر ڈیزل اپنی پرانی قیمت پر برقرار رہے، تو مہنگائی کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔

یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں وہ آسانی پیدا نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ موٹر سائیکل یا کار رکھنے والے افراد کو تو کچھ حد تک ریلیف ملا، مگر وہ شہری جو روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے حالات جوں کے توں ہیں۔ کرایوں میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ بعض علاقوں میں ٹرانسپورٹرز نے احتجاجاً گاڑیاں کم کر دیں، جس سے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹرانسپورٹرز کا مؤقف بھی قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ڈیزل کی قیمت کم نہیں ہوگی، ان کے اخراجات میں کوئی کمی ممکن نہیں۔ ایندھن ان کے کاروبار کا بنیادی جزو ہے، اور اسی کی بنیاد پر وہ کرایوں کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ڈیزل مہنگا رہے گا تو وہ نہ صرف کرایوں میں کمی نہیں کر سکتے بلکہ بعض صورتوں میں انہیں سروسز محدود کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے واقعی مکمل تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا؟ یا پھر یہ اقدام محض وقتی ریلیف دینے اور عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے کیا گیا؟ پالیسی سازی میں توازن نہ ہو تو ایسے اقدامات بظاہر مثبت ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک اچھا قدم ضرور ہے، مگر اگر اس کے ساتھ ڈیزل کی قیمت بھی مناسب سطح پر نہ لائی جائے تو یہ ریلیف محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

مہنگائی کا مسئلہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سبزی، آٹا، چینی، اور دیگر بنیادی اشیاء￿ کی قیمتوں میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ترسیلی اخراجات کم ہوں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ کرنا دراصل مہنگائی کے بڑے مسئلے کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔

عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ ایک طرف خوشی ہے کہ پیٹرول سستا ہوا، دوسری طرف مایوسی ہے کہ اس کا اثر روزمرہ زندگی پر مکمل طور پر نہیں پڑ رہا۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی ٹرانسپورٹ کے مسائل، مہنگے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے پریشان ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جزوی اقدامات سے مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض ایک قیمت کے اتار چڑھاؤ کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے ایک جامع معاشی چیلنج کے طور پر سمجھے۔ وقتی ریلیف دینے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں توازن شامل ہونا چاہیے بلکہ متبادل توانائی کے ذرائع، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری، اور ٹیکسوں و لیویز کے بوجھ میں کمی جیسے اقدامات بھی شامل ہونے چاہئیں۔

مزید برآں، پالیسی سازی میں شفافیت اور تسلسل بھی نہایت اہم ہے۔ عوام کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ کیے جانے والے فیصلے وقتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ایک واضح اور مربوط حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ جب عوام کو اعتماد حاصل ہوگا تو وہ مشکل فیصلوں کو بھی بہتر انداز میں قبول کر سکیں گے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کرے۔ یکطرفہ فیصلے اکثر زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسائل کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

آخرکار، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے عوامی اثرات پر ہوتا ہے۔ اگر عوام کو حقیقی ریلیف نہ ملے تو اعداد و شمار کی بہتری یا اعلانات کی چمک اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے،
مگر جب تک یہ ریلیف مکمل اور ہمہ جہت نہیں ہوگا، تب تک عوامی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں۔

آج کی صورتحال میں عوام ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ خوشی بھی ہے اور تشویش بھی۔ ایک طرف پیٹرول سستا ہونے کا احساس، دوسری طرف مہنگی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں۔ یہی تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا بلکہ اس کا صرف ایک حصہ چھیڑا گیا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ اقدام ایک ادھورا ریلیف ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے تو اسے پالیسیوں میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات وقتی خوشی تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا سکون فراہم نہیں کر سکتے۔ عوام آج بھی اسی سوال کے ساتھ کھڑی ہے: ریلیف ملا، مگر مکمل کیوں نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں