٭ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر
٭سائلین پر نذرانے میں اضافے اورکام کے لٹکنے کا خوف طاری،نئے رجسٹرار کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری
٭آئی پی او کا ٹریڈ مارک رجسٹری نظام مفلوج، کراچی رجسٹری میں ہزاروں کیسز التوا کا شکار، فائلوں کے انبارلگ گئے
٭کراچی میں ٹریڈ مارک فائلنگ میں تاخیر سے کاروباری طبقہ پریشان، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات
٭آئی پی او ایکٹ کے تحت اہم عہدے خالی، ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی عدم تعیناتی سے ادارہ عملی طور پر مفلوج
٭ٹی ڈیپ کی طرز پر چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں تاکہ نظام بہتر ہو،بزنس کمیونٹی کا مطالبہ
٭آئی پی او کااسلام آباد ہیڈ ا?فس کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرح عالیشان مگر کام زیرو،کراچی آفس آثار قدیمہ کا بھیانک نمونہ
٭28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
٭آئی پی او نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے معاشی استحکام اور سرمایہ کار ی وژن کو ایک خواب بنادیا جس کی کوئی تعبیر نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی (رپورٹ:نشید آفاقی) پاکستان کے اہم ترین ادارے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) کا ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن جوتباہی کے دہانے پر ہے اب وہاں نئے رجسڑار محمد فاروق کا تقرر عمل میں آیا ہے ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر ہونے کی وجہ سے نئے رجسڑار کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں سائلین کے ذھن میں یہ سوال آرہا ہے کہ نئے رجسڑار کے آنے کے بعد ٹریڈ مارک کا خرچہ وہی ر ہے گا یا بڑھ جائیگا۔ سائلین کا کہنا ہے کہ نئے رجسڑار کو چاہیئے کہ وہ ایس ای سی سی پی کی مثال اپنے سامنے رکھیں
جو سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود نا صرف مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ رشوت ستانی سے بھی دور ہے آئی پی او میں مبینہ طور پر اس وقت رائج سرکاری فیس اور نذرانے کی تفصیلات درج زیل ہیں
کام کی نوعیت۔۔۔سرکاری فیس۔۔۔ نذرانہ
اسائنمنٹ۔۔۔۔۔6 ہزار۔۔۔20 ہزار
ایکسپٹنس۔۔۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔5 ہزار
سرٹیفکیٹ۔۔۔۔۔۔9 ہزار۔۔۔۔5 ہزار
ذرائع کے مطابق ا ٓئی پی اوکے ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن میں معاملات شدید تعطل کا شکارہیں فائلوں کے انبار لگ گئے ، کاروباری طبقے کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سات سال تک رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہنے والے رفیق طاہر کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ ڈائریکٹر انفورسمنٹ سے ایڈیشنل رجسٹرار بننے والے نصیر احمد اسلام آباد چھوڑنے اور کراچی آنے سے گریزاںرہے اس صورتحال میں کیس فائلنگ، ٹریڈ مارک رجسٹری، ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملات نہ صرف متاثررہے بلکہ غیر ضروری طوالت کا شکار ہو ئے پہلے ٹریڈ مارک فائلنگ کے لیے دو سے تین دن لگتے تھے مگر بعد میںڈیڑھ ماہ میں بھی فائلنگ نہیں ہو پارہی تھی۔ ذرائع کے مطابق آئی پی او کے عہدوں میں بڑی چمک ہے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی خطیررقم کے معاملات ہوتے ہیں اس لئے کوئی بھی چارج چھوڑنا نہیں چاہتا جو جہاں ہے وہیں رہنا چاہتا ہے ایڈیشنل رجسٹرار نصیر احمد کے اسلام آباد میں ہونے سے نہ صرف کراچی میں ٹریڈ مارک سے متعلق متعدد اہم کیسز اور درخواستیں زیر التوا رہیں بلکہ اس صورتحال میں کاروباری طبقے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کا منصوبہ صرف ایک خواب بن کر رہ گیاان حالات میں آئی پی او جیسے اہم ترین ادارے کی کارکردگی صفر ہوگئی اطلاعات کے مطابق سینئر افسر رفیق طاہر جن کو رجسٹرار کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا وہ قائم مقام افسر کے طور پر صرف ادارے کے روزمرہ کے کام چلا رہے تھے تاہم انہیں مکمل اختیارات حاصل نہیں تھے۔ خاص طور پر ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اختیارات نہ ہونے کے باعث نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں ٹریڈ مارک کے ہزاروں کیسز اور درخواستیں دائر ہوتی ہیں، تاہم اختیارات کے فقدان اور انتظامی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں کیسز تعطل کا شکارہوگئے۔آئی پی او ایکٹ کے تحت ایک رجسٹرار، دو ڈپٹی رجسٹرار اور چار اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات ہو سکتے ہیں مگر ڈپٹی رجسٹرار کی دونوں اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی تین آسامیاں خالی ہیں۔ آئی پی او میں ہمیشہ ذمہ دار عہدوں پر آسامیاں خالی رہتی ہیں، پہلے چیئرمین تعینات تھے تو ڈی جی کا عہدہ خالی تھا اور اب ڈی جی آ گئے ہیں تو چیئرمین کا عہدہ خالی ہے۔ آئی پی او دنیا بھر میں انتہائی اہم محکمہ سمجھا جاتا ہے مگر پاکستان میں اس کی حیثیت کسی ٹھکرائے ہوئے بلدیاتی محکمے کی لگتی ہے۔28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ملک کی مجموعی درخواستوں کا 70 فیصد کراچی میں فائل ہوتا ہے جہاں رجسٹرار کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک اور کنٹرولر پیٹنٹ بیٹھتے ہیں مگر یہاں کا دفتر بدحالی کی داستان سنا رہا ہے، چھت تک فائلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد جہاں چیئرمین آئی پی او، ڈی جی اور ڈائریکٹرز بیٹھتے ہیں وہ دفتر کسی ملٹی نیشنل آفس سے
کم نہیں جبکہ کراچی آفس کے مقابلے میں یہاں کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔بزنس ایسوسی ایشنز، بزنس کمیونٹی اور کراچی چیمبر نے وزارت تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ڈیپ کی طرز پر آئی پی او کے چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں۔بزنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز کے انبار لگے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کو اس بھنور سے نکالتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر سابق قائم مقام رجسٹرارسات سال تک کیس لڑتے رہے جب وہ سپریم کورٹ سے کیس ہارگئے تو ان کوعہدے سے ہٹا کر ڈپٹی رجسٹرار بنادیا گیا اس کاجواب کون دے گا؟
آئی پی او کی اندھیر نگری ٭نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز سے نمٹنا اورآئی پی او کی ساکھ کی بحالی ایک مشکل ٹاسک رپورٹ:نشید آفاقی
