ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ معاملہ اب محض دوطرفہ سفارت کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع علاقائی اور بین الاقوامی فریم ورک اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے اہم ممالک بھی مختلف سطحوں پر شریک دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک مرتبہ پھر بڑے سیاسی ارتعاش کے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف محتاط حکمتِ عملی کا متقاضی ہے بلکہ توازن اور رابطہ کاری بھی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت بنتی ہے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، یہ بیان عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس بیان کو محض روایتی سیاسی جملہ قرار دینا بھی شاید اس کی مکمل نوعیت کو سمجھنے کے لیے کافی نہ ہو، کیونکہ اس میں ایک ایسے خطے کا ذکر موجود ہے جو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں میں ایک اہم مگر غیر رسمی کردار ادا کرتا آیا ہے۔
پاکستان کا حوالہ اس تناظر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام آباد کو خطے میں ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے نہ صرف ایک سفارتی موقع ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جس میں توازن، تحمل اور حکمت عملی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے مذاکراتی مرحلے کے 21 یا 22 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے امکانات ہیں۔
اگر یہ تاریخیں حتمی شکل اختیار کرتی ہیں تو یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہوگی کہ دونوں ممالک ابتدائی رابطوں اور اعتماد سازی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک منظم مذاکراتی فریم ورک کی طرف جا رہے ہیں۔ تاہم اس مرحلے کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا
دونوں فریق بنیادی اختلافات کو وقتی طور پر نرم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ جوہری پروگرام، پابندیوں کا نظام اور علاقائی سلامتی کے خدشات اب بھی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سفارتی دورے بھی اسی بڑے منظرنامے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کے دوروں کو محض رسمی روابط تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ انہیں ایک وسیع مشاورت اور علاقائی رابطہ کاری کے سلسلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ بات اہم ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں متحرک نظر آ رہا ہے اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ترکیہ اور قطر جیسے ممالک پہلے بھی مختلف بین الاقوامی مذاکراتی عمل میں غیر رسمی سہولت کاری کا کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب خطے کی بڑی سیاسی اور معاشی طاقت ہونے کے ناطے ہمیشہ سے اہم سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا اظہار ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے سفارتی عمل سے خود کو الگ نہیں رکھنا چاہتا۔
اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان بھی اہم روابط دیکھنے میں آئے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں مصروفیات اور بالخصوص ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کو خطے کی مجموعی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر اب علاقائی سلامتی، سرحدی تعاون اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی معاملات تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
اگر ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود نہیں رہے بلکہ ایک کثیر الجہتی سفارتی عمل کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی مصروفیات، ترکیہ اور قطر کی مسلسل سفارتی موجودگی اور سعودی عرب کا فعال کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں ایک غیر رسمی مگر مؤثر ڈپلومیٹک نیٹ ورک موجود ہے جو مختلف سطحوں پر اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم اس تمام تر سفارتی سرگرمی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے یا معاملات کسی واضح نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں جن میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، اور سیکیورٹی خدشات جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل محض بیانات یا ابتدائی رابطوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے طویل، صبر آزما اور مسلسل مذاکراتی عمل درکار ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک نہایت نازک مگر اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے لیے یہ امکان موجود ہے کہ وہ خطے میں ایک سہولت کار یا رابطہ کار کے طور پر اپنے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کردار کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی تنازع میں ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کرنا صرف بیانات یا وقتی سرگرمیوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی مضبوطی اور واضح سفارتی حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اگر ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے خود کو الگ رکھنے کے بجائے اس میں ایک ذمہ دار فریق کے طور پر شامل رہنا چاہتا ہے۔
اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہر سطح پر ہونے والی مصروفیات کو بھی محض عسکری روابط تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ وسیع تر اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سیکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکی صدر کے بیان کو اگر اسی مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر اہمیت دی جا رہی ہے۔
اگرچہ اس بیان کو کسی حتمی سفارتی پیش رفت کا اعلان نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا نام خطے کے بڑے مذاکراتی عمل میں ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر زیر بحث آ رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک ایسے سفارتی موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں فیصلے ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے لیکن سمت کا تعین ہونا شروع ہو چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اگر 21 یا 22 اپریل کو منعقد ہوتے ہیں تو یہ ایک اہم سنگِ میل ہوگا
خبر میں خبر …..خبروں کی تہہ میں بنتا نیا عالمی و علاقائی توازن،ماجد علی سید
