ایران کی سیاست میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، بلکہ ایک سوال بن کر زندہ رہتے ہیں رضا پہلوی بھی انہی میں سے ایک ہیں، نہ اقتدار میں، نہ ایران میں، مگر پھر بھی خود کو مستقبل کا ممکنہ رہنما سمجھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں برلن میں پیش آنے والا واقعہ، جہاں ان پر سرخ رنگ پھینکا گیا، محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی کہانی کا استعارہ ہے۔ سوال وہی ہے کہ کیا رضا پہلوی واقعی ایران کا مستقبل ہیں یا ماضی کی ایک بازگشت؟
ایران کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا موڑ انقلاب ایران تھا، جب محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور ایک نیا اسلامی نظام اْبھرا۔ یہ انقلاب صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک نظام اور ایک طرزِ حکمرانی کے خلاف عوامی ردعمل تھا۔ اسی انقلاب نے رضا پہلوی کو جلاوطنی کی زندگی پر مجبور کیا، ایک ایسی جلاوطنی جو اب چار دہائیوں پر محیط ہو چکی ہے۔
رضا پہلوی کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ان کی شخصیت کے تضادات کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولر ازم کا علمبردار قرار دیتے ہیں، مگر ان کا تعلق ایک ایسی بادشاہت سے ہے جس پر آمریت، سیاسی جبر اور مغرب نواز پالیسیوں کے الزامات لگتے رہے۔یہی تضاد ان کی سیاست کا بنیادی مسئلہ ہے، وہ ماضی سے مکمل طور پر الگ بھی نہیں ہو پاتے اور حال میں مکمل طور پر فٹ بھی نہیں بیٹھتے۔
حالیہ دنوں میں انہوں نے خود کو ایران کے ممکنہ “عبوری رہنما” کے طور پر پیش کیا ہے اور مغربی دنیا سے حمایت کی اپیل کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران میں موجودہ نظام کمزور ہو چکا ہے اور تبدیلی ناگزیر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی ملک میں حقیقی تبدیلی بیرونی حمایت یا دباؤ سے آتی ہے؟ تاریخ تو اس کے برعکس کہتی ہے۔
رضا پہلوی ان دنوں جرمنی کے دورے پر ہیں جہاں وہ جرمن ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
برلن میں اپنی حالیہ پریس کانفرنس کے دوران رضا پہلوی نے ایک بار پھر خود کو ایرانی عوام کی آواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا “میں یہاں صرف ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ کروڑوں ایرانیوں کی آواز بن کر کھڑا ہوں، جو اپنے ملک میں آزادی اور وقار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔”
یہ جملہ بظاہر ایک مضبوط سیاسی دعویٰ ہے، مگر اس کے پیچھے چھپا سوال اپنی جگہ موجود ہے، کیا واقعی وہ ان “کروڑوں ایرانیوں” کی نمائندگی کرتے ہیں؟
رضا پہلوی نے اپنی تقریر میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا “ایران کے عوام ایک ایسے نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جہاں بنیادی انسانی حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں، اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہے اور سیاسی مخالفین کو دبایا جاتا ہے۔”
برلن میں ان کی پریس کانفرنس اسی تضاد کی ایک واضح مثال تھی۔ انہوں نے نہ صرف ایران کی موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کیا بلکہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو بھی ایران میں تبدیلی کے لیے ضروری قرار دیا۔
یہ مؤقف ایک عام ایرانی شہری کے لیے کتنا قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟ ایک ایسا رہنما جو اپنے ہی ملک پر بیرونی حملوں کی حمایت کرے، کیا وہ واقعی عوامی نمائندہ بن سکتا ہے؟
اسی پریس کانفرنس کے بعد پیش آنے والا واقعہ، ان پر سرخ رنگ پھینکا جانا، بظاہر ایک احتجاج تھا، مگر درحقیقت یہ ایک علامت بھی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مخالفت صرف ایران کے اندر نہیں بلکہ بیرون ملک بھی موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ان کے کپڑوں پر لگا سرخ رنگ ایک لمحاتی واقعہ ضرور تھا، مگر اس نے ان کی سیاست پر ایک مستقل سوال کھڑا کر دیا۔
رضا پہلوی کا ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایران کی “جنریشن زیڈ” میں مقبول ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ حقیقت سامنے نہیں آ رہی۔ یہ دعویٰ اپنی جگہ، مگر سیاست میں مقبولیت کا اندازہ بیانات سے نہیں بلکہ زمینی حقائق سے لگایا جاتا ہے۔ ایک ایسا رہنما جو 40 سال سے اپنے ملک سے باہر ہو، جس نے کبھی عوامی جدوجہد کا براہِ راست سامنا نہ کیا ہو، اس کی مقبولیت کا دعویٰ ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گا۔
ان کی تقاریر میں ایک مستقل عنصر امید کا بیانیہ ہے۔ وہ ایک ایسے ایران کی بات کرتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جمہوریت ہو، اور ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ وہ خواتین، طلبہ اور نوجوانوں کی جدوجہد کو سراہتے ہیں اور خود کو ان کی آواز قرار دیتے ہیں۔
مگر سیاست صرف بیانیے سے نہیں چلتی، اس کے لیے زمینی جڑیں، تنظیمی ڈھانچہ، اور عوامی اعتماد ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو رضا پہلوی کے پاس محدود نظر آتے ہیں۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ایک “سیاسی موقع پرست” ہیں، جو ہر بحران کو اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ان کے بیانات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے۔ اسرائیلی قیادت سے روابط اور حملوں کی حمایت نے ان کی ساکھ کو ایک مخصوص دائرے تک محدود کر دیا ہے۔
دوسری جانب، ان کے حامی انہیں ایک معتدل اور قابلِ قبول متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران میں موجودہ نظام کے مقابلے میں رضا پہلوی ایک نرم، جمہوری اور عالمی سطح پر قابلِ قبول چہرہ ہیں۔ مگر سوال پھر وہی ہے: کیا عالمی قبولیت، مقامی حمایت کا متبادل بن سکتی ہے؟
ایران کی سیاست ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی حقیقت ہے۔ یہاں مذہب، قومیت، تاریخ اور سیاست ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی تبدیلی کے لیے ان تمام عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ایک جلاوطن رہنما، چاہے وہ کتنا ہی منظم یا پرجوش کیوں نہ ہو، اس پیچیدگی کو مکمل طور پر سمجھ اور کنٹرول نہیں کر سکتا۔
رضا پہلوی کی سیاست دراصل ایک جدوجہد ہے، شناخت کی جدوجہد، قبولیت کی جدوجہد، اور اقتدار کی خواہش کی جدوجہد۔ وہ نہ مکمل طور پر ماضی کا حصہ ہیں، نہ حال کا۔ وہ ایک ایسے “درمیانی خلا” میں کھڑے ہیں جہاں امکانات بھی ہیں اور حدود بھی۔
آخر میں بات وہی آ کر رکتی ہے کہ ایران کا مستقبل کسی ایک شخصیت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے فیصلوں میں ہے۔
رضا پہلوی چاہے خود کو جتنا بھی ایک متبادل کے طور پر پیش کریں، حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی سیاسی تبدیلی کی بنیاد عوامی حمایت ہوتی ہے اور یہ حمایت نہ بیانات سے حاصل ہوتی ہے، نہ بیرونی طاقتوں کے سہارے تو سوال اب بھی وہی ہے کہ ’’کیا رضا پہلوی واقعی ایک نئے ایران کی امید ہیں، یا صرف ایک پرانے ایران کی یاد؟شاید اس کا جواب وقت دے گا یا پھر ایران کے عوام۔
رضا پہلوی جلاوطن شہزادہ یا سیاسی سراب؟ماجد علی سید
