پاکستان کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، محمد زبیر عمر،ہمدرد شوری سے خطاب

ماہانہ اجلاس سے جنرل(ر )معین الدین حیدر ودیگر کا خطاب ، محترمہ سعدیہ راشدبھی موجود تھیں

کراچی (پاکستان واچ نیوز)سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا معاشی ترقی کے تین مراحل ہیں پہلے ڈیفالٹ سے بچائو، جس کے بعد استحکام اور پھر اقتصادی نمو۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا کہ استحکام کا مرحلہ غیر معمولی طور پر طویل ہوگیا۔ استحکام کے دور میں سب سے زیادہ بوجھ عام شہری، متوسط طبقے اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔کیوں کہ اس دوران معاشی ترقی محدود رہتی ہے، روزگار کے مواقع کم پیدا ہوتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ گزشتہ روز ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے ماہانہ اجلاس بہ عنوان ’’پر ی بجٹ 2026ء معاشی چیلنجز اور ممکنہ حل‘‘ پر بہ طور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر نے انجام دی۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
 محمد زبیر نے کہا مسئلہ صرف آمدنی بڑھانے کا نہیں بلکہ اخراجات کو قابو میں لانے، وسائل کے بہتر استعمال اور پائیدار معاشی اصلاحات کا بھی ہے۔پاکستان کی آبادی میں سالانہ اضافہ تقریباً 2.6 فیصد ہے، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں اوسط معاشی ترقی تقریباً 2.2 فیصد رہی۔ جب معیشت کی ترقی آبادی کے اضافے سے کم ہو تو نتیجہ بے روزگاری، غربت اور قوتِ خرید میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اس وقت پاکستان میں تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔اگر موجودہ ٹیکس بوجھ کے باوجود عوام، صنعت اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہیں تو مزید بوجھ کس حد تک قابلِ برداشت ہوگا؟لوگوں کے مسائل کا حل یہ ہوتا ہے کہ اُن کے لیے روزگار کے متعدد مواقع میسر ہوں۔ یہ کام کارپوریٹ سیکٹر کرتا ہےلیکن پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے کاروباری ماحول کو زیادہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں مقامی صنعت اور برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کا اثر برآمدات پر بھی پڑتا ہے۔ برآمدات کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں،کیوں کہ یہی شعبہ ملک میں زرمبادلہ لاتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور صنعتی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو معاشی نمو کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔مزید برأں ٹیکسوں کی شرح پہلے ہی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح شرحِ سودبھی کاروباری سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہےجو پہلے ہی زیادہ ہے۔ جب کاروبار کے لیے قرض لینا مہنگا ہو، بجلی مہنگی ہو اور ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہو تو سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہاپاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ حکومتی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ ٹیکس وصولیاں اور دیگر آمدنی ان کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ منظور ہوتے ہی ملک کو پہلے ہی دن بڑے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر سال یہ تجاویز سامنے آتی ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، مزید شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور آمدنی بڑھائی جائے، لیکن سرکاری اخراجات میں کمی اور سادگی اختیار کرنے پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان کے ابتدائی دور میں چین ہم سے کہیں زیادہ غریب ملک تھا۔ اس وقت چین کی فی کس آمدنی بھی پاکستان سے کم تھی اور غربت کی شرح بہت زیادہ تھی۔ ایک موقع پر شدید زلزلے کے بعد دنیا بھر نے چین کو امداد، خوراک اور ادویات فراہم کرنے کی پیشکش کی، لیکن چینی قیادت نے خود انحصاری کو ترجیح دی اور قومی وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقی کا راستہ اختیار کیا۔چین نے سادگی، محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو اپنایا۔چین نے کفایت شعاری اور بچت کی پالیسی اختیار کی۔ انہی بچتوں کو صنعتوں کے قیام، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور معاشی ترقی پر خرچ کیا گیا۔ نتیجتاً چین ایک مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرا۔
کموڈور(ر)سدید انور ملک نے کہا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج ترقی کی طرف بڑھا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا کریں اور دستیاب وسائل کے اندر رہ کر فیصلے کریں۔اگر ہم برآمدات میں اضافہ کریں، ترسیلاتِ زر کو بہتر انداز میں استعمال کریں اور درآمدات کو مؤثر طریقے سے منظم کریں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ طویل المدت حل بیرونی امداد نہیں بلکہ خود کفالت اور مضبوط معیشت ہے۔ معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ بدعنوانی اور غیر مؤثر انتظامی ڈھانچے کسی بھی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اگر شفافیت، احتساب اور بہتر گورننس کو یقینی بنایا جائے تو معاشی کارکردگی میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔
انجینئر پرویز صادق نے کہا بعض اوقات مالی مجبوریوں اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا فرق ہمیں قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے اور وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے تو مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام محدود طبقے تک مرکوز ہے۔ ایک چھوٹا سا رجسٹرڈ طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ نسبتاً کمزور اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ پڑتا ہے، جس سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہماری انتظامی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی خلا موجود ہے۔
اجلاس سے ڈپٹی اسپیکر شوریٰ کرنل (ر)مختار احمد بٹ،سینئر صحافی مظفر اعجاز،ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین، ڈائریکٹر ہمدرد فائونڈیشن پاکستان سید محمد ارسلان، ظفر اقبال، مبشر میر، انجینئر ابن الحسن، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، ہما بیگ، بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل ، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین، شہلا احمد، سلطان چاولہ، جسٹس (ر) ضیا پرویز، پروفیسر ڈاکٹر امجد جعفری اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں