پہلی فلم کے بولڈ مناظر نے والدین کو پریشان کردیا تھا،کنگنا رناوت

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی پہلی فلم میں شامل بولڈ مناظر نے ان کے والدین کو خاصی پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔
اداکارہ کے مطابق ان کے قدامت پسند خاندان کے لیے فلمی دنیا کو قبول کرنا آسان نہیں تھا اور ابتدا میں ان کے کام کو شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں کنگنا رناوت نے اپنی ڈیبیو فلم ’’گینگسٹر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2006 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ان کے چند جرات مندانہ مناظر بھی شامل تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ان کے والد کا ردعمل غیر متوقع تھا کیونکہ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور مکمل خاموشی اختیار کرلی۔

کنگنا کے مطابق جب انہوں نے اپنی والدہ سے فلم کے بارے میں رائے پوچھی تو والدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر ابھی بہت کم تھی اور فلم میں ان سے ایسے مناظر کروائے گئے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس جواب نے انہیں مایوس کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی والدہ پوری فلم اور ان کی اداکاری کو دیکھیں گی، لیکن ان کی توجہ صرف انہی مناظر پر مرکوز رہی۔
اداکارہ نے کہا کہ اس وقت ان کے والدین کو فلم کی کہانی یا ان کی فنی صلاحیتوں سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ معاشرہ اور برادری کے لوگ اس بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول وہ ایک تعلیم یافتہ اور سرکاری افسران کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں فلمی دنیا کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔
کنگنا رناوت نے مزید بتایا کہ ان کے گھر میں فلمی شخصیات سے متعلق خبروں کو بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی رنگین اخبار گھر آتا تو والدین فلمی ستاروں کی تصاویر والے صفحات الگ کر دیتے اور صرف باقی اخبار پڑھتے تھے۔
اداکارہ کے مطابق 1990 اور 2000 کی ابتدائی دہائی میں فلم انڈسٹری کے بارے میں کئی منفی تصورات پائے جاتے تھے۔ اس دور میں انڈر ورلڈ سے مبینہ روابط اور دیگر تنازعات کی خبریں عام تھیں، جس کے باعث ان کے والدین بھی فلمی دنیا کے حوالے سے اچھا تاثر نہیں رکھتے تھے۔
کنگنا نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے مطابق جب انہیں حکومت کی جانب سے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تو ان کے والدین کو پہلی بار ان کے انتخاب پر فخر محسوس ہوا۔ بعد ازاں پدما شری جیسے بڑے سول اعزاز کے حصول نے ان کا نظریہ مکمل طور پر بدل
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان اعزازات کے بعد ان کے دیا۔ کو احساس ہوا کہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی عزت، وقار اور ملک کی خدمت کے اعتراف میں بڑے اعزازات حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب انہوں نے ان کے کیریئر کو دل سے قبول کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا
بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا۔
بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نےایک انٹرویو میں بالی ووڈ فلم انڈسٹری اور معاشرے میں خوبصورتی سے متعلق قائم سخت معیار پر تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ آج بھی خواتین اداکاراؤں کو عمر اور ظاہری شکل کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔
مادھوری ڈکشٹ کاکہناتھاکہ اداکاراؤں کو زندگی کےہرمرحلےمیں اپنی شکل وصورت کےحوالے سےغیر ضروری تبصروں اورتنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے،اکثر لوگ برسوں بعد ملاقات ہونے پرکسی کی شخصیت یا کامیابیوں کےبجائے اس کےوزن،عمر یا بالوں میں آنے والی سفیدی پر تبصرہ کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔
مادھوری ڈکشٹ نےکہا لوگوں کو انکی اصل حالت میں قبول کرنا چاہیے اورکسی کی جسمانی تبدیلی کو تنقید کا موضوع نہیں بنانا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں