گزشتہ دنوں جب ایک گروسری اسٹور میں کھڑے ہو کر قیمتوں کا موازنہ کر رہی تھی تو اچانک خیال آیا کہ جنگ صرف خبروں کا موضوع نہیں رہی یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے یہاں بیٹھ کر جب دنیا کے مختلف حصوں میں جنگ کی خبریں سنتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ سب ہم سے بہت دور ہو، مگر جیسے ہی روزمرہ گروسری کے اخراجات کا حساب کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ جنگ ہم سے اتنی دور بھی نہیں۔دنیا ایک بار پھر ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگ صرف میدانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات معیشت، روزگار اور عام انسان کی زندگی تک پھیل چکے ہیں۔ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ عالمی حالات کا اثر یہاں کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔مہنگائی ایک خاموش دباؤ جنگ کا سب سے نمایاں اثر مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کینیڈا میں اشیائے خوردونوش، کرایوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ اچانک نہیں، بلکہ ایک مسلسل دباؤ کی شکل میں عام آدمی کو متاثر کر رہا ہے۔مگر یہاں ایک فرق واضح ہے مہنگائی کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، بلکہ اس پر کھل کر بات ہوتی ہے اور اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جاتی ہیں اگر روزمرہ زندگی میں دیکھیں ان اثرات کو اگر روزمرہ زندگی میں دیکھا جائے تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ایک عام آدمی صبح سویرے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے، کام پر جاتا ہے، اور شام کو واپس آ کر اپنے اخراجات کا حساب لگاتا ہے۔ گروسری اسٹور میں اب خریداری ایک عادت نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا حصہ بن چکی ہے۔ لوگ لسٹ بنا کر جاتے ہیں، غیر ضروری اشیاء سے گریز کرتے ہیں اور ڈسکاؤنٹس کا انتظار کرتے ہیں۔ پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے بھی روزمرہ معمولات کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے لوگ اب پبلک ٹرانسپورٹ یا کار پولنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود زندگی رکی نہیں بلکہ ایک نظم اور صبر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ، پیٹرول اور توانائی کی صورتحال جنگی حالات میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایک فطری عمل ہے۔ کینیڈا میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا ہے، مگر سپلائی کا نظام مستحکم ہے۔ عوام کو قلت کا سامنا نہیں، اور متبادل ذرائع پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔حکومت کا کردار عملی اقدامات یہاں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کینیڈا میں حکومت حالات کو صرف دیکھتی نہیں بلکہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات بھی کرتی ہے۔کم آمدنی والے افراد کے لیے مالی امداد ٹیکس میں ریلیف اور ریفنڈز چائلڈ بینیفٹ اور سوشل سپورٹ پروگرامز رہائش اور کرایوں میں مدد کے منصوبے یہ اقدامات مسائل کو مکمل ختم تو نہیں کرتے، مگر عوام کو یہ احساس ضرور دلاتے ہیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں عوام کی سوچ فکر اور اعتماد کینیڈا کے لوگ حالات سے باخبر ہیں۔ مہنگائی اور عالمی کشیدگی پر گفتگو بھی ہوتی ہے، مگر ایک توازن کے ساتھ یہاں ایک اعتماد پایا جاتا ہے کہ نظام کام کر رہا ہے اور مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی ان حالات کو گہرائی سے محسوس کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ مہنگائی اور جنگ کے اثرات کو دیکھ رہی ہے، تو دوسری طرف یہاں کے نظام کا تقابل بھی کرتی ہے، اکثر یہ رائے سننے کو ملتی ہے کہ مشکلات یہاں بھی ہیں، مگر ان کا سامنا کرنے کا طریقہ زیادہ منظم اور سنجیدہ ہے اور یہی فرق امید کو زندہ رکھتا ہے آگے کیا ہوگا؟یہ سوال ہر ذہن میں ہے۔ جنگ کے اثرات کب تک رہیں گے؟ مہنگائی کہاں جا کر رکے گی؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا غیر یقینی کی طرف بڑھ رہی
ہے، مگر ایسے حالات میں وہی معاشرے مضبوط رہتے ہیں جہاں نظام مستحکم ہو، عوام باشعور ہوں اور ذمہ داری کا احساس موجود ہو۔جنگ چاہے کہیں بھی ہو، اس کے اثرات ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں۔ مگر اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ ایک معاشرہ ان اثرات کا مقابلہ کیسے کرتا ہے۔کینیڈا میں مہنگائی ہے، مشکلات ہیں، مگر ان کے ساتھ جینے کا حوصلہ بھی ہے اور ان سے نمٹنے کی کوشش بھی۔شاید اصل سوال یہی نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے اثرات کا سامنا کیسے کر رہے ہیں دنیا بھر کی طرح کینیڈا میں بھی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں مسائل کو چھپایا نہیں جاتا بلکہ ان کے ساتھ جینا سیکھ لیا جاتا ہے۔ ایک عام انسان کی روزمرہ زندگی میں یہ مہنگائی کیسے شامل ہو چکی ہے، اگر اس کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو ایک مکمل کہانی سامنے آتی ہیمحنت، نظم و ضبط اور توازن کی کہانی ایک عام دن کی شروعات کینیڈا میں ایک عام آدمی کا دن اکثر صبح سویرے شروع ہوتا ہے۔ الارم بجتا ہے، باہر سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے، اور انسان کو گرم بستر چھوڑ کر کام پر جانا ہوتا ہے۔ موسم چاہے منفی درجہ حرارت ہی کیوں نہ ہو، زندگی نہیں رکتی۔گھر سے نکلنے سے پہلے ہیٹنگ کا نظام چیک کرنا، بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرنا اور جلدی جلدی ناشتہ کرنایہ سب ایک معمول کا حصہ ہے۔
کام اور ذمہ داریاں یہاں زیادہ تر لوگ ایک ہی آمدنی پر مکمل انحصار نہیں کرتے۔ کئی افراد اضافی شفٹ یا پارٹ ٹائم کام بھی کرتے ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کیا جا سکے دفاتر، دکانیں، فیکٹریاں ہر جگہ لوگ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وقت کی پابندی یہاں صرف اصول نہیں بلکہ ضرورت ہے۔مہنگائی کا براہ راست اثرگروسری اسٹور کا ایک چکر لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مہنگائی کیا ہوتی ہے۔ وہی اشیاء جو پہلے آسانی سے خرید لی جاتی تھیں، اب سوچ سمجھ کر خریدی جاتی ہیں۔لوگ لسٹ بنا کر خریداری کرتے ہیں غیر ضروری اشیاء سے گریز کرتے ہیں سیلز اور ڈسکاؤنٹس کا انتظار کرتے ہیں یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی نے عادات بدل دی ہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روزمرہ زندگی کو براہ راست متاثر کرتا ہے، کام پر جانا، بچوں کو اسکول چھوڑنا، روزمرہ خریداری سب کچھ مہنگا محسوس ہونے لگتا ہے۔اسی لیے بہت سے لوگ اب پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہیں کار پولنگ کر رہے ہیں یا غیر ضروری سفر کم کر چکے ہیں گھر اور بلز کی حقیقت کینیڈا میں رہائش ایک بڑا خرچ ہے۔ کرایہ، بجلی، ہیٹنگ، انٹرنیٹ یہ سب مل کر بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں۔خاص طور پر سردیوں میں ہیٹنگ کا خرچ بڑھ جاتا ہے، سہولت ساری موجود ہیں مگر اس کی قیمت ہے حکومتی ریلیف ایک سہارا یہاں ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت عوام کو مکمل طور پر تنہا نہیں چھوڑتی۔ مختلف پروگرامز کے ذریعے مالی مدد، ٹیکس ریلیف اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔یہ مدد مشکلات کو ختم تو نہیں کرتی، مگر انہیں قابلِ برداشت ضرور بنا دیتی ہے۔سماجی رویہ اور توازن کینیڈا میں ایک بات نمایاں ہے لوگ اپنی زندگی کو توازن کے ساتھ جیتے ہیں۔ وہ شکایت کم اور حل زیادہ تلاش کرتے ہیں۔خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، ویک اینڈ پر سادگی سے لطف اندوز ہونا، اور ذہنی سکون کو اہمیت دینایہ سب زندگی کا حصہ ہے مگر یہ بات بہت اہم ہے۔جنگ کے اثرات پاکستان میں مہنگائی نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اور ان درآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر عالمی خام تیل کی قیمت میں 10 یا 15 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا ضرورت زندگی کی ہر چیز کو متاثر کرتا ہے عام لوگوں کی
زندگی اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اس خلیجی جنگ نے بہت سارے ممالک کو پرشیان اور فکر مند کر دیا ہے کہ جلد سے جلد یہ جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور دنیا پر امن ہوجائے۔
کینیڈا میں عام لوگوں پرجنگ کے اثرات ،پاکستانی کمیونٹی کیا سوچتی ہے ؟صبیحہ خان صبیحہ
