تصویر کا دوسرا رخ: فرحا نہ اشرف فرحانہ

اے کہ دل تیرا ہے فکر بادہء گلفام میں
زہر بھی ہوتا ہے اکثر خوبصورت جام میں
ظفراحمد صدیقی

ہماری زندگی بھی تصویر ہی کی مانند ہے جو دکھائی دیتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا۔ جیسے تصویر میں ایڈیٹنگ ہوتی ہے فلٹر ہوتا ہے ہماری مصنوعی مسکراہٹ شامل ہوتی ہے جسے دیکھنے والا حقیقت سمجھتا ہے۔ جبکہ حقیقی شخص و منظر اس کے برعکس ہوتا ہے۔
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر چیز خوبصورت فریم میں قیددکھائی دیتی ہے اگر سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینوں پر مسکراتے چہرے جگمگاتی روشنیاں اور کامیابیوں کی لمبی فہرستیں یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو بظاہر تو مکمل اور دلکش لگتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی حقیقت بھی اتنی ہی روشن ہے اس تصویر کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے ؟
ہمارے معاشرے میں بھی یہی تضاد اور نمایاں ہے ایک طرف ترقی جدیدیت اور خوشحالی کے دعوے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل ہیں
ہم بلند و بانگ دعوے تو سنتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے
یہ وہ دوسرا رخ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح ہمارے رویوں میں بھی دہرا پن بڑھتا جا رہا ہے ہم بظاہر اخلاقیات اور اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں اکثر ان سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں سچ بولنے کا درس دینے والے خود مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔انصاف کی بات کرنے والے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
یو ں معاشرہ ایک ایسی تصویر بن جاتا ہے جس کا ایک رخ خوبصورت اور دوسرا دھندلا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔
زندگی کی روز مرہ ہنگامہ خیزی میں انسان جو کچھ دیکھتا سنتا اور سمجھتا ہے وہ اکثر مکمل حقیقت نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔

اشفاق احمد کہتے ہیں کہ

بانو قدسیہ ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔میں ہر روز انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔یونیورسٹی پہنچ کر میں گاڑی سے اتر کر دوسری طرف سے آتا اور دروازہ کھولتا میری( بیوی) بانو قدسیہ گاڑی سے اترتی
اور سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہو جاتی پھر چھٹی کے وقت دوبارہ بانو قدسیہ (بیوی) کو لینے جاتا اور اسے گاڑی میں بٹھا کر واپس گھر لے آتا۔
میری بیوی بانو قدسیہ کی سہیلیاں یہ منظر دیکھتیں اور رشک کرتیں اور کہتیں کہ ہمیں بھی ایسا شوہر ملے۔ان کے درمیان کتنی محبت اور چاہت ہے۔
اشفاق احمد مزید کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان کوئی ایسی محبت نہ تھی اصل میں گاڑی کا دروازہ خراب تھا جو کہ اندر سے نہیں کھلتا تھا اس لیے مجھے باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا۔

بقول شاعر

ظاہری حالت پر کرنہ باطن کا قیاس
خوبیء تن پر دلالت کر نہیں سکتا لباس

ظفراحمد صدیقی

آج کا انسان دکھاوے کہ اس ہجوم میں اپنی اصل پہچان کھوتا جا رہا ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کے چند خوشگوار لمحات دیکھ کر اپنے حالات کا موازنہ کرتے ہیں اور خود کو کمتر اور محروم محسوس کرنے لگتے ہیں۔
بیشمار گھروں میں دوسروں کی ظاہری نمودو نمائش یا رہن سہن دیکھ کر لوگ اپنا ہنستا بستا گھر اجاڑدیتے ہیں۔ گھروں میں مسائل اور جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک اداسی اور کہانی ہوتی ہے ہر کامیابی کے پیچھے کہیں ناکامیاں چھپی ہوتی ہیں اور ہر روشن چہرے کے پیچھے تھکن پریشانی اور جدوجہد کا ایک طویل سفر ہوتا ہے۔
لیکن ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہی نہیں ہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ یہی ہے کہ ہر چمک کے پیچھے اندھیرابھی ہوتا ہے۔ہر قہقہے کے پیچھے کوئی خاموشی بھی چھپی ہوتی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس چمک کو حقیقت نہ سمجھیں۔بلکہ حقیقت کے پیچھے بھی ایک حقیقت موجود ہوتی ہے۔اگر ہم صرف دیکھنے پر اکتفا کریں گے تو ہم ادھورا سچ ہی سمجھیں گے مگر ہم سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے تو حقیقت کے قریب پہنچ سکیں گے۔
تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا محض ایک فکری مشق نہیں
بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ دراصل شعور کی بیداری کا نام ہے یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کو یک رخی انداز میں نہ دیکھیں بلکہ ہر مظہر کے متعدد پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں یہی رویہ نہ صرف علمی پختگی کو جنم دیتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور فکری و سعت کا باعث بنتا ہے۔

اس موضوع پرلیکچرار فیصل عشرت صاحب سے گفتگو ہوئی انکے خیالات اب ہی کی زبا نی جانتے ہیں

محمد فیصل عشرت
(لیکچرار گورنمنٹ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، گورنمنٹ آف سندھ۔
میں آپ کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھاتا ہوں
فرض کیجیے کہ ایک بھرا ہوا جہاز بادلوں کے درمیان پرواز کر رہا ہے۔ ایک مسافر کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے روئی کے گالوں جیسے سفید بادل اور ڈھلتے سورج کی خوبصورت سنہری کرنیں نظر آتی ہیں۔ وہ اس منظر کی سحر انگیزی میں کھو کر اسے ‘جنت نظیر’ قرار دیتا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی لمحے، نیچے زمین پر کھڑا ایک کسان کالی گھٹاؤں کو دیکھ کر پریشان ہے کہ اگر آج شدید بارش ہو گئی تو اس کی تیار فصل تباہ ہو جائے گی۔
منظر ایک ہی ہے، لیکن دیکھنے والوں کے حالات اور زاویوں نے اسے دو بالکل مختلف حقیقتوں میں بدل دیا ہے۔ یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے

انسانی فطرت ہے کہ وہ معاملات کو اپنی پسند، ناپسند اور محدود مشاہدے کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ہم اکثر کسی واقعے، شخصیت یا فیصلے کو دیکھ کر فوری طور پر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں، جبکہ حقیقت کی تہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک کے نیچے ایک چھپی ہوتی ہیں۔ اردو کی مشہور مثال ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی”، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ “ہر کالی نظر آنے والی چیز کوئلہ نہیں ہوتی”۔

ہماری زندگی میں اکثر تنازعات اور غلط فہمیاں صرف اس لیے جنم لیتی ہیں کہ ہم تصویر کا صرف ایک رخ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں تو یہ وباء مزید پھیل چکی ہے۔ کسی کی پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر ہم اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جبکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ویڈیو سے پہلے کیا ہوا تھا اور اس کے بعد کیا ہوا۔

“سچائی اکثر وہ نہیں ہوتی جو نظر آتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جسے دیکھنے کے لیے زاویہ بدلنا پڑتا ہے۔”

کسی بھی معاملے کے دوسرے رخ کو سمجھنے کے لیے ظرف اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح ایک باپ اپنے بیٹے پر غصہ کر رہا ہے۔ ہم کو ظلم نظر آتا ہے،
دوسرا رخ یہ ہے کہ بیٹا کسی ایسی راہ پر چل پڑا تھا جو اس کی زندگی تباہ کر سکتی تھی محبت اور فکر نظر آتی ہے۔
اسی طرح، جب ہم کسی کی کامیابی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں صرف اس کی چمک دمک، پروٹوکول اور دولت نظر آتی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا رخ وہ کالی راتیں، مسلسل ناکامیاں، اپنوں کی تنقید اور وہ تھکن ہے جو اس مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے برداشت کی۔
بقول شاعر،
یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی،
لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو۔۔

ایک متوازن معاشرے کی تشکیل تب ہی ممکن ہے جب ہم “اختلافِ رائے” کو دشمنی نہ سمجھیں۔ جب کوئی شخص آپ سے مختلف بات کر رہا ہو، تو ضروری نہیں کہ وہ غلط ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ تصویر کے دائیں جانب کھڑے ہوں اور وہ بائیں جانب۔
خلاصہ کلام یہ کہ کائنات کا کوئی بھی رخ حتمی نہیں ہے۔ سورج جہاں ایک طرف زندگی اور روشنی دیتا ہے، وہیں اس کی تپش صحراؤں میں پیاس کا سبب بھی بنتی ہے۔ رات جہاں اندھیرا لاتی ہے، وہیں سکون اور نیند کی نعمت بھی ساتھ لاتی ہے۔
اگر ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ لے آئیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ “کیا میں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا ہے؟” تو یقین جانیے، ہماری آدھی سے زیادہ پریشانیاں اور تلخیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ زندگی صرف “سیاہ” یا “سفید” نہیں ہے، بلکہ ان کے درمیان “گرے” (Gray) رنگ کے بے شمار شیڈز موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے بصارت نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔
یہ تھے فیصل عشرت کے خیالات
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ
تصویر کا دوسرا رخ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی چیز کو صرف ظاہری شکل سے نہ پرکھا جائے ہر منظر کے پیچھے ایک اور منظر اور ہر حقیقت کے پیچھے ایک اور حقیقت موجود ہوتی ہے۔

ظفراحمد صدیقی کا شعر ہے کہ

ہو نہ جائے معتقد دل ظاہری تنویر کا
دیکھ لینا دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں