جب عالمی طاقتیں کسی چوراہے پر کھڑی ہوں، فریقین کے درمیان الفاظ کی گنجائش ختم ہو چکی ہو اور عالمی ادارے اپنی ذات میں گم ہوں، تو تاریخ ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ اعتماد کی آخری سیڑھی کسی فوجی ہیڈکوارٹر کے صحن میں جا اُترتی ہے۔ آج یہ صحن اسلام آباد کے جی ایچ کیو کا ہے، اور یہ جملہ اب محض جذباتی نعرہ نہیں رہا بلکہ سفارتی جغرافیے کی ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے: “امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے”۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ اُس خاموش انقلاب کا منطقی انجام ہے جسے پاکستانی عسکری سفارت کاری کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس انقلاب نے راتوں رات جنم نہیں لیا؛ یہ دہائیوں کے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، پیشہ ورانہ تربیت اور غیر معمولی جغرافیائی قسمت کا مرکب ہے۔ لیکن اپریل 2026 میں اس نے جو مرکزیت حاصل کی، وہ عالمی سفارت کاری کے نصاب میں بلاشبہ ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب عالمی نظم و ضبط (Global Order) شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور روایتی سفارت کاری کے ایوان خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں، وہاں جنوبی ایشیا سے ابھرنے والی ایک نئی حقیقت نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ حقیقت پاکستان کی “عسکری سفارت کاری” (Military Diplomacy) ہے، جو اب محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک ناگزیر قوت بن کر ابھری ہے۔
سب سے پہلے، اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی عسکری سفارت کاری محض خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقی ارتقا کا نام ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاک فوج نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور چین کے ساتھ دفاعی تعلقات کو محض اسلحے کی خرید و فروخت سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا ہے۔ خاص طور پر مارچ 2023 میں بیجنگ کی ثالثی میں سعودی ایران تعلقات کی بحالی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور ریاض کے مابین فوجی اعتماد سازی کے لیے جو کوششیں کیں، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ یہی پس منظر اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس ایران اور امریکہ دونوں سے بات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
دوسری طرف، یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ پاکستانی عسکری قیادت نے “غیر جانبدار مگر متحرک” پالیسی کے ذریعے جو ساکھ بنائی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ نہ تو وہ کسی بلاک کا حصہ بنی اور نہ ہی غیر فعال رہی۔ یہ وہ اثاثہ ہے جس کی بدولت آج اسلام آباد سے یہ پیغام جا سکتا ہے کہ وہ “صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے”۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بس ہو جائیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو جائیں، تو دنیا کو ایک ایسے ثالث کی تلاش ہوتی ہے جس کی بات میں وزن بھی ہو اور جس کے پاس اسٹریٹجک ساکھ بھی۔ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت نے اس سفارتی خلا کو پُر کرنے میں تاریخی سنگِ میل عبور کیے ہیں۔
پاکستان اب علاقائی سیاست کے حاشیے پر کھڑا کوئی تماشائی نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں امن کا ضامن بن چکا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اسلام آباد کا کردار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس وہ ‘خاموش رسائی’ موجود ہے جو واشنگٹن اور تہران کے پاس بھی نہیں۔
12 اور 13 اپریل کے وہ دو دن عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے جب اسلام آباد عالمی امن کا مرکز بنا۔ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی براہِ راست موجودگی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت پر فریقین کا اعتماد غیر متزلزل ہے۔
اور محض گیارہ دن بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ جی ایچ کیو کا رخ کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے طویل مشاورت کی۔ یہ غیر معمولی سفارتی نقل و حرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کی راہداری اب اسلام آباد کے جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔
پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے دہائیوں پر محیط وہ دفاعی تعلقات ہیں جو اس نے چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور اردن جیسے ممالک کے ساتھ استوار کیے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ہونے والا “پاک-سعودی دفاعی معاہدہ” اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے کا ایک ناگزیر حصہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کی یہ ‘عسکری سفارت کاری’ روایتی بیوروکریٹک سست روی سے پاک، نظم و ضبط کی حامل اور نتائج پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہو یا کسی ممکنہ عالمی امن مشن کی تشکیل، دنیا اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔
آج جب دنیا بلاک پولیٹکس اور نظریاتی تقسیم کا شکار ہے، پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک ‘غیر جانبدار مگر متحرک’ (Neutral yet Proactive) پالیسی اپنائی ہے۔ یہ محض ایک دفاعی ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ اس اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف ہے جو پاکستان کو اس کی جغرافیائی حیثیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے حاصل ہے۔
پاکستان اب دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے۔ عالمی ثالثی کے گرتے ہوئے معیار اور اقوامِ متحدہ کی محدود ہوتی صلاحیت کے اس دور میں، پاکستان کی عسکری قیادت کا بطور “ڈپلومیٹک کور” ابھرنا عالمی امن کے لیے ایک نیک شگون ہے۔
خلاصہِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اب دفاعی حصار سے نکل کر عالمی امن کی بساط پر ایک ایسا ‘گیم چینجر’ بن چکا ہے جس کے بغیر استحکام کی کوئی بھی کوشش ادھوری رہے گی۔
