پہلگام کا بیانیہ ،حقیقت، سیاست اور سوالات…شیخ راشد عالم

جنوبی ایشیا میں بیانیے کی جنگ اب محض الفاظ کی حد تک نہیں رہی بلکہ یہ سفارت کاری، میڈیا اور عوامی رائے کے میدان میں ایک مستقل محاذ بن چکی ہے۔ ایسے میں بعض واقعات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ محض ایک سکیورٹی معاملہ نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل سیاسی حکمت عملی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پہلگام واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے ایک سال گزرنے کے باوجود مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس نے اس معاملے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت آج تک اس واقعے کے حوالے سے اپنے مؤقف کے حق میں قابلِ اعتبار شواہد پیش نہیں کر سکا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک سادہ سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
یہاں اصل سوال صرف ایک واقعے کا نہیں بلکہ اس کے بعد تشکیل پانے والے بیانیے کا ہے۔ جدید دور میں کسی بھی واقعے کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ اسے کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا، ریاستی بیانات اور سفارتی سرگرمیاں مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں جو عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام واقعہ بھی جلد ہی ایک بڑے بیانیاتی تنازعے میں تبدیل ہو گیا۔
بھارت کی جانب سے فوری طور پر الزام تراشی اور اس کے بعد میڈیا میں اس بیانیے کو تقویت دینا ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بیانیے میں موجود خلا نمایاں ہونے لگے۔ جب سوالات اٹھے تو ان کے تسلی بخش جوابات سامنے نہیں آ سکے، جس نے خود بھارتی مؤقف کو کمزور کیا۔
دوسری جانب پاکستان نے اس صورتحال میں نسبتاً محتاط اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا۔ بارہا یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ یہی وہ نقطہ تھا جس نے عالمی حلقوں میں توجہ حاصل کی، کیونکہ یکطرفہ الزامات کے بجائے شواہد پر مبنی مؤقف ہمیشہ زیادہ وزن رکھتا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سفارتی بیانات تیز ہوئے، میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف مہمات چلیں اور عسکری سطح پر بھی تناؤ محسوس کیا گیا۔
غالباً اسی واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے ایک جارحانہ بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، تاہم اسے عالمی سطح پر وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے سفارتی محاذ پر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے اس کا وقار عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوا، جبکہ بھارت کو اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیوں، اطلاعات اور سفارت کاری کے میدان میں بھی اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جس فریق کا مؤقف زیادہ مضبوط، شواہد پر مبنی اور متوازن ہو، وہی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل
کرتا ہے۔
اس تناظر میں کشمیر کا مسئلہ بھی ایک اہم پس منظر فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اسے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے داخلی معاملہ کہتا ہے یہی بنیادی اختلاف ہر ایسے واقعے کو مزید حساس بنا دیتا ہے اور دونوں ممالک کے بیانیوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔
عطا تارڑ نے اپنی گفتگو میں بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسے ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ الزام اپنی جگہ، لیکن اس سے ایک بڑی حقیقت سامنے آتی ہے کہ میڈیا اب صرف خبر دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ ریاستی بیانیے کی تشکیل میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
مزید برآں، اقلیتوں کے حقوق، ہندوتوا نظریے اور خطے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت جیسے موضوعات بھی اس بیانیے کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب کسی ملک کے اندرونی حالات پر سوالات اٹھتے ہیں تو اس کا اثر اس کی خارجی پالیسی اور عالمی ساکھ پر بھی پڑتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیوں اور عزم کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے، جو ایک حقیقت ہے کہ ملک نے اس حوالے سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ یہی پس منظر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے اور کسی بھی الزام کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پہلگام واقعہ گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا تھا، جہاں ایک حملے کے بعد جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھارت نے فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک واقعہ بیانیے میں ڈھلتا ہے اور پھر بیانیہ سفارت کاری، سیاست اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، شواہد اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ بالآخر سچائی ہی وہ بنیاد ہے جس پر دیرپا استحکام قائم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں