پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے تحت۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان قرض لیتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ قرض لینے کے بعد ملک اس مقام تک پہنچتا ہے یا نہیں جہاں اسے اگلی بار قرض کی ضرورت کم پڑ جائے۔
اب ایک بار پھر پاکستان عالمی مالیاتی منڈی کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کررہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبے کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت رواں مالی سال ایک سے دو ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے پر غور کررہی ہے، جبکہ سکوک اور یورو بانڈز کے اجرا کے لیے بینکوں کے کنسورشیم بھی مقرر کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 75 کروڑ ڈالر کے چینی یوان بانڈز، یعنی پانڈا بانڈز، کے اجرا کی تیاری بھی جاری ہے۔
بظاہر یہ محض قرض لینے کی ایک اور کوشش ہے، مگر اس فیصلے کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کو دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرکے عالمی کیپٹل مارکیٹس، تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے برسوں میں پاکستان کی معاشی سمت کا بڑا حصہ منحصر ہوسکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ سے قرض لینا بذاتِ خود کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ صرف قرض لینے والا ملک نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت ہے جہاں سرمایہ محفوظ بھی ہے، منافع بخش بھی ہے اور طویل مدت کے لیے قابلِ اعتماد بھی۔
یہاں کریڈٹ ریٹنگ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ملک کی معاشی صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں نسبتا بہتر نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ حکومت اب مزید بہتری، بالخصوص بی پلس اور اس کے بعد ڈبل بی کی سطح تک پہنچنے کا ہدف رکھتی ہے۔ لیکن ریٹنگ میں بہتری صرف اعلانات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کا تسلسل، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں اضافہ، مہنگائی پر قابو، ٹیکس نظام کی اصلاح اور سب سے بڑھ کر سیاسی و معاشی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان بھی یہی ہے۔
ایک طرف حکومت عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری کررہی ہے، دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قرض لے کر وقتی مالیاتی ضرورت پوری کرنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن درآمدات اور برآمدات کے درمیان بنیادی عدم توازن ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
اگر ایک ملک مسلسل اپنی ضرورت سے زیادہ درآمد کرتا رہے اور برآمدات اس رفتار سے نہ بڑھیں تو بیرونی قرض خواہ بدلنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ قرض خواہ چین ہو، عالمی بانڈ مارکیٹ ہو، کوئی مالیاتی ادارہ ہو یا نجی سرمایہ کار، رقم بہرحال واپس کرنا پڑتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ قرض کی شرائط، شرحِ سود، مدت اور ادائیگی کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کو محض ایک مالیاتی لین دین کے بجائے ایک بڑے معاشی منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
امریکا کے ساتھ ممکنہ 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ نے پیش رفت کا ذکر کیا ہے اور اسے نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈی ایف سی جیسے ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں کی فنانسنگ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا: امداد اور سرمایہ کاری میں فرق۔
امداد کسی مشکل وقت میں سہارا دے سکتی ہے، لیکن سرمایہ کاری معیشت کو پیداوار، روزگار اور برآمدات کی طرف لے جاسکتی ہے۔ پاکستان اگر واقعی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف قرض لینے کی صلاحیت نہیں بلکہ سرمایہ کھینچنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔
دنیا کا سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے تین چیزیں نظر آئیں: واضح پالیسی، مناسب منافع اور کم خطرہ۔
پاکستان کے پاس مواقع کی کمی نہیں۔ زراعت، معدنیات، آئی ٹی، فری لانسنگ، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، توانائی، لاجسٹکس اور صنعتی پیداوار ایسے شعبے ہیں جہاں ملک عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن سکتا ہے۔ لیکن مواقع کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے صرف کانفرنسیں، معاہدے اور اعلانات کافی نہیں۔ کاروباری ماحول کو آسان بنانا، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مسابقتی رکھنا، ٹیکس نظام کو قابلِ فہم بنانا اور سرمایہ کار کو پالیسی کے اچانک بدل جانے کے خوف سے آزاد کرنا ہوگا۔
چین پاکستان کا ایک بڑا قرض خواہ رہا ہے اور پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرض میں چین کا نمایاں حصہ ہے۔ لیکن اب حکومت کا یہ کہنا کہ فی الحال چین سے مزید فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
یہ تنوع بظاہر ایک مثبت حکمت عملی ہے۔ کسی بھی معیشت کے لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس کے مالیاتی ذرائع محدود نہ ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عالمی بانڈ مارکیٹ سے حاصل ہونے والا قرض عموما مارکیٹ کی شرائط پر ہوتا ہے۔ اگر عالمی سرمایہ کاروں کو خطرہ زیادہ محسوس ہو تو قرض مہنگا ہوجاتا ہے۔ اگر اعتماد بڑھے تو شرحِ سود کم ہوسکتی ہے۔
یوں عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی اصل کرنسی ڈالر یا یورو نہیں، بلکہ اعتماد ہے۔
اگر عالمی سرمایہ کار پاکستان کو ایک مستحکم اور ذمہ دار معیشت سمجھیں گے تو پاکستانی بانڈز کی قیمت بہتر ہوگی، شرحِ سود کم ہوسکتی ہے اور آئندہ فنانسنگ نسبتا آسان ہوجائے گی۔ لیکن اگر انہیں خدشہ ہو کہ ملک دوبارہ مالیاتی بحران، زرمبادلہ کی کمی یا پالیسی کے عدم تسلسل کا شکار ہوسکتا ہے تو پاکستان کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اسی لیے موجودہ مرحلے کو ایک موقع بھی سمجھنا چاہیے اور وارننگ بھی۔
موقع اس لیے کہ پاکستان دوبارہ عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ فعال کردار حاصل کرسکتا ہے۔ وارننگ اس لیے کہ قرض کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم اگر صرف پرانے قرض اتارنے، بجٹ خسارہ پورا کرنے یا درآمدی دبا وبرقرار رکھنے میں خرچ ہوگئی تو چند سال بعد یہی بحث ایک نئے قرض کے ساتھ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو اب قرض لینے کی معیشت سے پیداوار کرنے کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی قرض ہمیشہ برا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی قرض لیتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ قرض کو ایسی سرمایہ کاری میں استعمال کرتی ہیں جو مستقبل میں آمدنی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک ملک سڑک، بندرگاہ، توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی یا برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے قرض لے اور اس سرمایہ کاری سے مستقبل میں ڈالر کمائے تو قرض معیشت کے لیے بوجھ کے بجائے ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن اگر قرض صرف آج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لیا جائے اور کل کی آمدنی بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو قرض ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے یورو بانڈز، سکوک اور پانڈا بانڈز کا اجرا اسی بڑے سوال کے گرد گھومتا ہے: ہم قرض کہاں خرچ کریں گے؟
یہ سوال ہر قرض کے ساتھ پوچھا جانا چاہیے۔
اگر اس رقم سے برآمدی صنعت کو وسعت ملتی ہے، توانائی کے مسائل حل ہوتے ہیں، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، بندرگاہیں اور لاجسٹکس بہتر ہوتے ہیں اور مقامی پیداوار بڑھتی ہے تو اس قرض کا معاشی جواز مضبوط ہوگا۔
لیکن اگر یہ رقم صرف مالیاتی خلا پر کرنے میں استعمال ہوتی رہی تو عالمی مارکیٹ میں واپسی بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکے گی۔
آنے والے وقت میں پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک نے کتنے ارب ڈالر قرض حاصل کرلیا۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان نے کتنے ارب ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا کی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں برآمدات، ٹیکس اصلاحات، توانائی، صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ حکومت اگر ایک طرف عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرے اور دوسری طرف ملک کے اندر کاروبار، صنعت اور برآمدات کے لیے ماحول بہتر بنائے تو دونوں پہیے ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
ورنہ ایک ہاتھ سے قرض لینا اور دوسرے ہاتھ سے درآمدی بل بڑھاتے رہنا ایک ایسی دوڑ ہوگی جس کی منزل کہیں دکھائی نہیں دے گی۔
پاکستان کے پاس آج ایک نادر موقع ہے۔ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو دوبارہ دیکھ رہے ہیں، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے آثار ہیں، حکومت عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی چاہتی ہے اور امریکا، چین سمیت مختلف عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو نئے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
لیکن یہ موقع صرف اسی وقت کامیابی میں تبدیل ہوگا جب پاکستان مالیاتی استحکام کو حقیقی معاشی ترقی سے جوڑ دے۔
ہمیں ایسی معیشت نہیں چاہیے جسے ہر چند سال بعد نیا قرض درکار ہو۔ ہمیں ایسی معیشت چاہیے جو قرض کو آخری سہارا اور سرمایہ کاری کو پہلا انتخاب بنائے؛ جو درآمدات کے لیے ڈالر مانگنے کے بجائے برآمدات کے ذریعے ڈالر کمائے؛ جو بیرونی امداد کا انتظار کرنے کے بجائے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے دروازے تک لائے۔
پاکستان کی اگلی معاشی کہانی شاید کسی ایک بانڈ، کسی ایک سوئپ لائن یا کسی ایک قرض سے نہیں لکھی جائے گی۔ یہ کہانی اس بات سے لکھی جائے گی کہ ہم نے قرض کو کتنا دانش مندی سے استعمال کیا، سرمایہ کار کو کتنا اعتماد دیا اور اپنی معیشت کو کتنا خود کفیل بنایا۔
عالمی مارکیٹ میں واپسی ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے، مگر اصل منزل عالمی مارکیٹ سے قرض لینا نہیں، عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع فروخت کرنا ہے۔
پاکستان کو اب قرض کی منڈی میں صرف ایک قرض خواہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قابلِ اعتماد، پیداواری اور سرمایہ کاری کے قابل ملک کے طور پر اپنی شناخت بنانا ہوگی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آج کے قرض کو کل کی طاقت میں بدل سکتی ہے۔
قرض کی منڈی سے اعتماد کی منڈی تک پاکستان کی معیشت کا اگلا امتحان تحریر؛شیخ راشد عالم






