کیا نئے صوبے عوام کی زندگی میں تبدلی لائیں گے ؟؟ صبیحہ خان صبیحہ

یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی سوال سامنے آ رہا ہے۔ عالمی بینک کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان وسائل، ذمہ داریوں اور اختیارات کی ناقص تقسیم ہے رپورٹ نے خاص طور پر مضبوط مقامی حکومتوں اور بہتر ٹیکس وصولی پر زور دیا ہے۔ تو پھر نئے صوبوں کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے؟اگر کوئی موجودہ صوبہ بہت بڑا ہے اور دور دراز علاقوں تک حکومت، صحت، تعلیم، پولیس اور انتظامیہ مثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتی، تو چھوٹے انتظامی یونٹ فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔مثلا جنوبی پنجاب یا ہزارہ جیسے علاقوں میں یہ مقف موجود ہے کہ الگ انتظامی شناخت سے وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب آسکتی ہے۔ لیکن اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوگا جب نیا صوبہ واقعی بہتر حکمرانی کرے ورنہ ایک بڑا صوبہ توڑ کر چار چھوٹے صوبے اور چار نئی بیوروکریسی، چار سیکریٹریٹ، چار اسمبلیاں اور اضافی اخراجات پیدا ہوجائیں گے۔یہ خدشہ اس وقت خاص اہم ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی مالی دبا میں ہے۔ حالیہ تجزیوں میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی اخراجات اور NFC کے ذریعے وسائل کی تقسیم مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ شاید صوبوں کی تعداد نہیں، اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی ہے،کراچی، لاہور، ملتان، پشاور یا کوئٹہ کے عام شہری کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ صوبہ کتنا بڑا ہے، اگر اس کے محلے کی سڑک، پانی، صفائی، اسپتال اور اسکول پھر بھی خراب ہیں؟
اگر اختیار صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلعی اور بلدیاتی حکومت تک نہیں پہنچتا تو صرف صوبہ چھوٹا کرنے سے عام آدمی کی زندگی لازما نہیں بدلے گی۔اسی لیے میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت تین چیزوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے انتظامی اصلاحات جہاں ضرورت ہو وہاں چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹ۔مضبوط بلدیاتی نظام اختیارات، فنڈز اور ذمہ داری براہِ راست مقامی حکومت کو۔معاشی اصلاحات ٹیکس نیٹ، برآمدات، توانائی، سرکاری اخراجات، زراعت و صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار پر توجہ اور سب سے اہم بات نیا صوبہ کوئی معاشی نسخہ نہیں ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بڑے گھر میں مسائل ہوں اور ہم گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں اگر آمدنی کم، اخراجات زیادہ اور انتظام خراب ہے تو دو گھر بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ دو بجلی کے بل، دو باورچی خانے اور دو انتظامی خرچے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
البتہ اگر گھر بہت بڑا ہے، افراد ایک دوسرے سے دور ہیں انتظام ممکن نہیں رہا،اور تقسیم کے بعد دونوں حصے اپنی ضروریات بہتر طور پر پوری کرسکتے ہیں، تو تقسیم فائدہ مند بھی ہوسکتی ہے۔لہذا پاکستان کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ نئے صوبے کیوں بنانے ہیں عوام کو بہتر خدمات دینے کے لیے یا سیاسی انتظامی طاقت کی نئی تقسیم کے لیے؟ اگر مقصد عوامی خدمت اور معاشی کارکردگی ہے تو دلیل مضبوط ہیاگر صرف نئی حکومتیں اور نئی بیوروکریسی بنانی ہے تو یہ قومی خزانے پر مزید بوجھ بن سکتا ہے۔اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت کے حلقوں
میں بھی نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹوں اور مضبوط بلدیاتی نظام تینوں راستوں پر بحث ہو رہی ہے۔ نئے صوبے، پرانے مسائل اور اس میں ہم یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ پاکستان کونئیصوبے چاہئیں یا نئی حکمرانی؟ یہ زاویہ خاصا مضبوط رہے گاخاص طور پر ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی قرض اور اخراجات کا دبا موجود ہو، نئے صوبے بنانے کا سوال صرف انتظامی نہیں بلکہ مالیاتی سوال بھی ہے۔اگر چار صوبوں کو مثلا آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو صرف نقشہ نہیں بدلے گا ہر نئے صوبے کے ساتھ گورنر، وزیرِاعلی، کابینہ، اسمبلی، اسپیکر، سیکریٹریٹ، محکمے، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، عملہ اور سکیورٹی کا نیا ڈھانچہ درکار ہوگا۔ آئین میں صوبائی گورنر، وزیرِاعلی، وزرا اور صوبائی اسمبلی کا باقاعدہ انتظام موجود ہے اور یہی وہ پہلو ہے جسے عوام کو کیا ملے گا؟کے سوال سے جانچنا چاہییپاکستان کے موجودہ مالی حالات میں یہ سوال مزید اہم ہے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریبا 18.77 کھرب روپے رکھا گیا ہے اور حکومت کو قرض، ٹیکس اور ترقیاتی اخراجات کے درمیان سخت توازن درپیش ہے۔ اصل خطرہ کیا ہے؟اگر نیا صوبہ بنانے کا نتیجہ یہ ہو کہ نیا صوبہ ،نئی اسمبلی ، نئی کابینہ ،نئی بیوروکریسی ،نئی مراعات ،نئے پروٹوکول نئے سرکاری اخراجات تو پھر عوام کے لیے یہ اصلاح نہیں بلکہ حکومتی ڈھانچے کی توسیع بن سکتی ہے۔لیکن اگر یہی رقم نئے اسکول بنانے،اسپتال بہتر کرنے،روزگار پیدا کرنے،پانی اور صفائی،
سڑکوں اور ٹرانسپورٹ،صنعت اور زراعت،اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنیپر خرچ ہو تو اس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچ سکتا ہے۔اس لیے میں آپ کے نکتے کو یوں دیکھتی ہوں: پاکستان کو نئے صوبوں سے پہلے نئی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر صوبہ چھوٹا کرنے کے باوجود اختیار چند لوگوں کے ہاتھ میں ہی رہے اور عام آدمی کو اپنے محلے کی سطح پر بہتر سروس نہ ملے تو صوبوں کی تعداد بڑھانے کا فائدہ کیا؟دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ بحث میں بھی بعض ماہرین یہی مقف دے رہے ہیں کہ نئے صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دینا زیادہ ضروری ہے اور نئے صوبے مالی طور پر مہنگے پڑ سکتے ہیں۔ یہاں سے کہ غریب ملک میں حکومت کا حجم بڑھانا دانشمندی ہے یا عوام کی سہولت کا نظام بالکل، ایک اہم سیاسی خطرہ پکڑا ہے، نئے صوبے لازما دو خاندانوں کے لیے ہوں گے، اگر نئے صوبے بنائے گئے مگر سیاسی نظام جماعتوں کیاندرجمہوریت اور مقامی حکومتوں کا ڈھانچہ وہی رہا تو کیا صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے موروثی سیاست کم ہوگی یا اقتدار کے مراکز مزید بڑھ جائیں گیصوبے بڑھانے کی بحث میں عوام کو ترقی وخوشحالی کے خواب دکھائے جا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ اگر نئی اسمبلیاں، نئی وزارتیں، نئے پروٹوکول اور نئے مراعاتی عہدے بھی پیدا ہوگئے تو فائدہ کس کو ہوگا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کو ایک اور بار ترقی کے خواب ملیں اور اقتدار کے ایوانوں میں چند خاندانوں کا موج میلہ مزید وسیع ہوجائے۔صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے یہ ضمانت ضروری ہے کہ مراعات یافتہ لوگوں کی تعداد نہیں، عوام کی سہولت بڑھے گی۔صوبے بڑھانے کی بحث میں عوام کو ترقی و خوشحالی کے خواب دکھائے جا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ اگر نئی اسمبلیاں، نئی وزارتیں، نئے پروٹوکول اور نئے مراعاتی عہدے بھی پیدا ہوگئے تو فائدہ کس کو ہوگا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کو ایک اور بار ترقی کے خواب ملیں اور اقتدار کے ایوانوں میں چند خاندانوں کا موج میلہ مزید وسیع ہوجائے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے انہیں عارضی اور ایڈہاک بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے، مگر یہی مسئلہ
مستقل دردِسر بن جاتا ہے۔ اب کہا جانے لگا ہے کہ مزید صوبے ناگزیر ہوگئے ہیں، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے رہا کہ اگر نئے صوبوں میں بھی گورننس کا معیار یہی رہا تو پھر کیا ہوگا؟ محض انتظامی حدود تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، اس کے لیے نظامِ حکمرانی، اختیارات کی تقسیم اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں