ہمالیہ کا قہر: نیپال میں گلیشیئر ٹوٹا، تباہ کن سیلاب نے قیامت برپا کردی ماجد علی سید

نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔
ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور کرے کہ یہی خاموش اور برف سے ڈھکے پہاڑ چند لمحوں میں ایسی تباہی برپا کرسکتے ہیں جس کے سامنے انسان بے بس دکھائی دے۔ نیپال اور تبت کی سرحدی وادیوں میں بدھ کے روز پیش آنے والے المناک واقعے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ ہمالیہ صرف خوبصورتی، برف اور سیاحت کا نام نہیں بلکہ اس کی خاموش برفانی دنیا میں ایک ایسا خطرہ بھی چھپا ہوا ہے جو پلک جھپکتے میں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
نیپال کے پہاڑی علاقے میں اچانک برف، چٹان، مٹی، کیچڑ اور پانی کا ایک انتہائی تیز رفتار ریلا نیچے کی جانب آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دریائی راستے کے ساتھ آباد بستیاں، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور دیگر تنصیبات اس کی زد میں آگئیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریبا 1500 افراد لاپتا ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے اور سیلابی علاقوں میں زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اس تباہی کا ایک انتہائی خوفناک پہلو یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق پہاڑ کی بلندی سے برف اور چٹان کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر نیچے گرا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ گلیشیئر کا یہ حصہ تقریبا دو ہزار فٹ یعنی نصف کلومیٹر سے بھی زیادہ چوڑا تھا۔ جب یہ دیوہیکل برفانی حصہ تقریبا چار ہزار فٹ نیچے وادی میں گرا تو اس کے ساتھ چٹانیں، مٹی اور برف بھی نیچے آ گئی۔ پہاڑی وادی میں موجود پانی اور ملبے نے اس تباہی کو مزید وسیع کردیا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر برف اور چٹان کا ایک ٹکڑا اتنی بڑی تباہی کیسے برپا کرسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب گلیشیائی لیک آٹ برسٹ فلڈ، یعنی GLOF میں پوشیدہ ہے۔
گلیشیائی جھیل کا سیلاب، جسے گلوف کہا جاتا ہے، اس وقت آتا ہے جب گلیشیئر سے بننے والی جھیل اچانک پھٹ جاتی ہے اور اس کا پانی انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگتا ہے۔ گلیشیئر برسوں تک پہاڑوں سے برف کے ساتھ چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ جب گلیشیئر پگھل کر پیچھے ہٹتا ہے تو یہ ملبہ اس کے آخری سرے پر جمع ہوتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ چٹانوں، مٹی اور ملبے کی ایک قدرتی دیوار بن جاتی ہے جسے مورین کہا جاتا ہے۔
یہ قدرتی دیوار گلیشیئر سے پگھلنے والے پانی کو روک کر ایک جھیل بنا دیتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ دیوار کمزور ہوکر ٹوٹ جائے تو جھیل کا پانی چند ہی منٹوں میں بڑی مقدار میں باہر نکل سکتا ہے۔ یہی اچانک اور انتہائی طاقتور سیلاب گلوف کہلاتا ہے۔

لیکن گلوف کا خطرہ صرف پانی تک محدود نہیں ہوتا۔ پانی اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر، برف، مٹی اور کیچڑ بھی بہا کر لاتا ہے۔ یہی ملبہ پہاڑی وادیوں میں تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ چند لمحوں میں یہ درختوں، گاڑیوں، گھروں، پلوں اور راستے میں آنے والی دوسری ہر چیز کو بہا سکتا ہے۔
نیپال میں حالیہ تباہی بھی اسی خطرے کی ایک انتہائی خوفناک مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق تباہی کا آغاز لنگٹانگ لیرونگ پہاڑ کی ڈھلوان سے ہوا، جو تقریبا 7 ہزار 234 میٹر بلند ہے اور دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریبا 45 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ابتدائی تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ تقریبا 17 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ اچانک ٹوٹا اور ہزاروں فٹ نیچے جاگرا۔
یہ واقعہ محض ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ ہمالیہ میں تیزی سے تبدیل ہوتے ماحول کی ایک خطرناک جھلک بھی ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جب گلیشیئر پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کے پیچھے نئی جھیلیں بنتی ہیں اور پہلے سے موجود جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یوں ایسی جھیلوں کی تعداد اور حجم میں اضافہ ہوتا ہے جن کے اچانک پھٹنے سے نیچے آباد علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ مانٹین ڈیولپمنٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیئر 1970 کی دہائی سے مسلسل پگھل رہے ہیں اور پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق گلیشیئر اب 2000 کے مقابلے میں تقریبا دوگنا تیزی سے برف پگھل رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ پہاڑوں پر برف کم ہورہی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ہمالیہ کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان پہاڑی وادیوں میں انسان نے اپنی ضرورت کے تحت بڑے پیمانے پر آبادیاں، سڑکیں اور پن بجلی کے منصوبے تعمیر کر رکھے ہیں۔ یہی وہ راستے ہیں جہاں پہاڑوں سے آنے والا پانی قدرتی طور پر نیچے کی طرف بہتا ہے۔ چنانچہ جب گلیشیائی سیلاب آتا ہے تو اس کے راستے میں انسان کی تعمیر کردہ پوری دنیا موجود ہوتی ہے۔
ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں تقریبا 500 گیگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی وجہ سے یہاں متعدد پن بجلی منصوبے قائم کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے کئی ایسے علاقوں میں ہیں جہاں گلیشیائی سیلاب یا برفانی تودے پہنچ سکتے ہیں۔
یہ خطرہ نیا بھی نہیں۔ فروری 2021 میں بھارت کے اتراکھنڈ میں رشی گنگا کے علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے 35 میگاواٹ کے رشی گنگا اور 520 میگاواٹ کے تپوون وشنوگڑھ پن بجلی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جبکہ 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد مزدوروں کی تھی۔
اکتوبر 2023 میں بھارت کی ریاست سکم میں آنے والا تباہ کن سیلاب بھی گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کے واقعے سے جوڑا گیا تھا۔ اس کے بعد ماہرین نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا تھا کہ ہمالیہ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث مستقبل میں
ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیپال کی حالیہ تباہی میں ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہے۔ تبت کی جانب بھی سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے رابطے متاثر ہوئے ہیں۔ چین کی جانب سے بھی سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے اعداد و شمار میں ممکنہ طور پر ایک ہی افراد شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے حتمی تعداد ابھی واضح نہیں۔
سیلاب نے غیر ملکی شہریوں کو بھی متاثر کیا۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا افراد میں بھارتی، امریکی، آسٹریلوی، برطانوی اور کینیڈین شہری بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کے آٹھ شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بڑی تعداد ان سیاحوں اور زائرین کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
دوسری جانب نیپالی فوج نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کردی ہے۔ تقریبا دو ہزار فوجی اہلکار متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک خوراک، خیمے اور ضروری سامان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔
قدرتی آفات کے ماہرین کے لیے سب سے اہم سوال اب یہ ہے کہ کیا ایسی تباہی کو روکا جاسکتا تھا؟
شاید مکمل طور پر نہیں، لیکن اس کے نقصانات ضرور کم کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، جدید سینسرز کی تنصیب، دریاں میں پانی کی سطح ناپنے کے نظام، سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی اور بروقت وارننگ ایسے اقدامات ہیں جو انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر گلیشیائی جھیلیں سطح سمندر سے تقریبا 4500 میٹر یا اس سے بھی زیادہ بلندی پر واقع ہیں، جہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔
ہمالیہ کی برفانی دنیا ہمیں ایک عجیب تضاد دکھاتی ہے۔ یہی گلیشیئر کروڑوں انسانوں کے لیے پانی کا ذریعہ ہیں، یہی پہاڑ سیاحت کو فروغ دیتے ہیں، یہی وادیاں پن بجلی پیدا کرتی ہیں، لیکن یہی برفانی ذخائر اگر اچانک ٹوٹ جائیں تو چند منٹوں میں زندگی کا پورا نظام درہم برہم کرسکتے ہیں۔
نیپال میں آنے والی حالیہ تباہی کو صرف ایک اور سیلاب سمجھ کر بھلا دینا شاید سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ایک انتباہ ہے کہ ہمالیہ بدل رہا ہے۔ گلیشیئر پیچھے ہٹ رہے ہیں، نئی جھیلیں بن رہی ہیں اور پہاڑی وادیوں میں انسانی آبادیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ قدرت کے ان تینوں عوامل کا ملاپ مستقبل میں مزید خطرناک واقعات کو جنم دے سکتا ہے۔
پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی کو محفوظ سمجھنا خطرناک ہے۔ آج نیپال کی ایک وادی میں برف اور پانی نے تباہی مچائی ہے، کل یہی خطرہ ہمالیہ کے کسی اور حصے میں نمودار ہوسکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا گلیشیئر کب ٹوٹے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ جب اگلی بار برفانی جھیل یا گلیشیئر کا بند ٹوٹے گا تو کیا ہم پہلے سے تیار ہوں گے؟
کیونکہ پہاڑ کسی کو مہلت نہیں دیتے۔ ان کا سیلاب وارننگ کے چند منٹوں کے بعد آتا ہے، مگر اپنے پیچھے برسوں کی تعمیر، بستیاں اور انسانی زندگیاں ملبے میں چھوڑ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں