مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟
جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے والے بھارت میں آج یہی سوال شدت سے اٹھ رہا ہے۔ طلبہ اپنے مستقبل کا تحفظ مانگ رہے ہیں، اساتذہ شفاف نظامِ تعلیم کا مطالبہ کر رہے ہیں، اپوزیشن ان کی حمایت میں سڑکوں پر ہے، مگر حکومت کا رویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسئلہ حل کرنے سے زیادہ احتجاج ختم کرنا اس کی ترجیح ہو۔
حالیہ دنوں میں مختلف ریاستوں میں امتحانی بے ضابطگیوں، پیپر لیکس اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات نے طلبہ کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
احتجاج کا دائرہ وسیع ہوا تو اپوزیشن، خصوصا راہول گاندھی، بھی میدان میں آگئے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ نوجوانوں کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے، مگر حکومت جواب دینے کے بجائے سیاسی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج روکنے کے لیے پولیس کی سخت کارروائیوں، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جنہوں نے حکومتی طرزِ عمل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا الزام لگا ہو۔ کسانوں کی طویل تحریک ہو، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج، منی پور کا بحران یا مختلف جامعات میں طلبہ کی تحریکیں، ہر بڑے تنازع میں حکومت کا پہلا ردعمل مکالمہ نہیں بلکہ انکار، سختی یا تاخیر رہا۔
شاید اسی لیے آج ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بھارت میں اختلافِ رائے کو سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ریاستی چیلنج سمجھا جانے لگا ہے؟
مودی حکومت گزشتہ ایک دہائی سے “نیو انڈیا” اور “وشو گرو” کے خواب کی بات کرتی رہی ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، تیز رفتار معیشت اور عالمی سفارت کاری یقینا اس بیانیے کا حصہ ہیں، مگر کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر وہی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کریں، امتحانی نظام پر اعتماد کھو بیٹھیں اور اپنی آواز سنوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں تو ترقی کے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ احتجاج صرف ایک امتحان یا ایک پیپر لیک کا معاملہ نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔
لاکھوں نوجوان برسوں محنت کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو ایک امتحان سے جوڑتے ہیں، مگر جب امتحانات کی شفافیت ہی مشکوک ہو جائے تو متاثر صرف نتائج نہیں ہوتے بلکہ ریاست پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے کہ نوجوان نظام پر یقین کھو دیں۔
راہول گاندھی نے اس احتجاج کو یقینا سیاسی رنگ بھی دیا، اور ایک اپوزیشن رہنما ہونے کے ناطے یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ اپوزیشن نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ حکومت نے کیا کیا؟ اگر پارلیمنٹ میں کھلی بحث ہوتی، طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی تو شاید احتجاج اس حد تک نہ پہنچتا۔ جمہوریت میں اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، طاقت کے مظاہرے سے نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مضبوط اکثریت بعض اوقات حکومتوں کو یہ احساس دلا دیتی ہے کہ عوامی حمایت مستقل ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ووٹ اور اعتماد دو الگ چیزیں ہیں۔ انتخابات جیتنے سے حکومت بنتی ہے، مگر نوجوانوں کا اعتماد صرف شفافیت، انصاف اور جوابدہی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر مودی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
آج بھارت صرف ایک تعلیمی بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ یہ اس کی جمہوری روایت کا بھی امتحان ہے۔
جب طلبہ سوال کریں، اساتذہ اصلاحات مانگیں اور اپوزیشن احتجاج کرے تو حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک راستہ مکالمے، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ انکار، سختی اور وقت گزاری کا۔ بدقسمتی سے موجودہ منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا راستہ زیادہ نمایاں ہے۔
دنیا بھر میں جمہوریتوں کی مضبوطی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ حکومت کتنی طاقتور ہے، بلکہ اس سے کہ وہ تنقید کو کتنے حوصلے سے سنتی ہے۔ جو حکومتیں ہر مخالف آواز کو سازش، ہر احتجاج کو سیاست اور ہر سوال کو دشمنی سمجھنے لگیں، وہاں جمہوریت کا حسن آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ لمح فکریہ ہے۔ اگر نوجوانوں کی بے چینی کو محض اپوزیشن کی سیاست قرار دے کر نظر انداز کیا گیا تو مسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوگا۔ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی مایوسی کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے، کیونکہ یہی نوجوان مستقبل کی معیشت، سیاست اور سماج کی بنیاد ہوتے ہیں۔
مودی حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ طاقت کے بجائے اعتماد کا راستہ اختیار کرے۔ اختلافی آوازوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں سنے، احتجاج کو قانون و انتظام کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کے اسباب دور کرے، اور یہ ثابت کرے کہ بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، صرف آبادی کے اعتبار سے نہیں بلکہ جمہوری رویوں کے اعتبار سے بھی۔ ورنہ تاریخ شاید یہی لکھے کہ “وشو گرو” بننے کے سفر میں نئی دہلی اپنے ہی نوجوانوں کی آواز سننا بھول گیا تھا، اور جب سوال بلند ہوئے تو جواب دلیل سے نہیں، طاقت سے دینے کی کوشش کی گئی۔






